عورتوں کے ساتھ انصاف کیجئے!

احساسات

تاریخ    3 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


ابوبکراودھ
کسی بزرگ،کسی جہاں دیدہ انسان کا قول ہے:''معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے،لیکن نا انصافی کی بنیاد پرنہیں''۔
آیا معاشرہ کفر پر بھی قائم رہ سکتا ہے،یہ بات میرے لیے باعث صد حیرت ہے، لیکن فی الوقت میں اس پر کسی طرح کی حیرت کا اظہار کرنے یا کسی طرح کی بحث وہث کرنے سے سراسر گریز کرتے ہوئے اس امر پر اپنا پورا زور صرف کرنے کی کوشس کررہا ہوں کہ ''معاشرہ عدمِ انصاف کی صورت میں پوری توانائی یا سات صحت مندی کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا ہے''۔ انصاف بہرصورت ناگزیر ہے،خواہ معاملہ تولنے اور ناپنے کا ہو، تقسیم وراثت کا ہو یا انسانی حقوق و مساوات کا ہو۔
بات جب عورتوں کے حق حقوق اور ان کے ساتھ جملہ معاملے میں انصاف کی ہوتی ہے،توصحیح معنوں میں انصاف کی بات یہ ہے کہ سب سے پہلے انہیں آدم و حوا کی اولاد سمجھا جائے۔یعنی انہیں بھی ''انسان'' سمجھا جائے۔بے شک ایک عورت، ''ماں،بیوی،بہن یا بیٹی'' ہوتی ہے،لیکن سب سے پہلے وہ عورت کے روپ میں ایک انسان ہے۔ وہ اس بات کی سولہ دونی بتیس آنے حق دار ہے کہ انسانوں کے مجمع میں اسے انسان سمجھا جائے۔بحیثیت انسان اس کو اپنی فطری عمر تک زندہ رہنے کا کلی حق اور مکمل اختیاردیاا جائے۔بحیثیت مجموعی اس کو بھی وہ تمام انسانی حقوق و مراعات حاصل ہیں، جو دو پیروں پرکھڑی کسی بھی مخلوق اشرف کو ہے۔ہمیں نہیں بھوللنا چاہیے کہ اشرف المخلوقات کا جو پیمانہ بنایا گیا ہے اس میں عورت بھی آتی ہے۔قابل غوربات یہ ہے کہ صحت مند معاشرے کے لیے یہی افضل و اعلی امر ہے اور خود عورت کے حق میں کیا جانے والا یہی اول ترین انصاف ہے۔اسی میں انسانیت کی معراج ہے۔آدمی کو انسان ہونا اسی بات سے میسر ہوگا۔
غور کیجیے تو نقطہ واضح ہوگا کہ عورت کے حق میں ناانصافی،غیرانسانی اور غیر اخلاقی رویہ تبھی سے شروع ہوجاتا ہے، جب وہ اپنی ماں کے بطن میں عورت کی شکل اختیار کرتی ہے۔سوچئے،انصاف کے ساتھ سوچئے کہ ابھی اس نے اس دنیا کو دیکھا بھی نہیں ہے،دنیا اور دنیا والوں سے لین دین اور دید و شنید بھی نہیں کیا ہے،لیکن جوں ہی معاشرے کے اس مخصوص رویے کو (جسے عرف عام میں مردانہ سوچ یا مرد اساس مزاج کہا جاتا ہے) یہ بات معلوم پڑتی کہ پیٹ میں پل رہی جان نرنہیں مادہ ہے،وہیں سے اس سوچ کے پیٹ میں بل پڑنے لگتے ہیں ۔اس کا پارہ ہائی ہو نا شروع ہو جاتا ہے ۔ یہیںسے پیٹ میں پل رہی اس ننھی سی جان کے ساتھ ناانصافی و نابرابری کا دور شروع ہوجاتا ہے۔ اکثر خبروں کے ذریعہ بچہ گروا دینے یاجنین کشی یا اسقاطِ حمل جیسے واقعات روشنی میں آتے رہتے ہیں،آپ بھی جانتے ہیں۔گوکہ حکومت نے جنین کشی کی روک تھام کے کیے سخت اقدامات کیے ہیں،نیز اس ضمن میں ڈاکٹروں کوسخت ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں،لیکن انتہائی افسوس ناک امریہ ہے اس طرح کے واقعات دوسرے روپ میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ جیسے کوڑے گھر میں نومولود بچے کا پایا جانا،ٹرینوں کے بیت الخلا میں بلکتا ہوا بچہ پایا جانا۔۔۔
غور کریں تواس طرح کے افسوس ناک معاملات کے پیچھے وہی مخصوص سوچ (جس کا اوپر ذکر ہوا ہے)کام کر رہی ہوتی ہے۔عام طور سے اس طرح کے بچوں کا جنس معلوم کریں تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ وہ بچیاں ہوتی ہیں۔مجھے آنکھوں دیکھا ایک واقعہ یاد آرہا ہے۔میں سوچتا ہوں کہ آپ سے شئیر کرتا چلوں :
رواں برسوں کی بات ہے۔میری آپی جان محترمہ کے چھوٹے بیٹے کی ولادت با سعادت کا موقع تھا۔ہم لوگ اسپتال میں تھے۔ ہمارے روم کے عین سامنے ایک نوجوان خاتون ایدمٹ تھیں، جن کے یہاں بھی ولادت کا عمل تھا۔چوں کی ہمارے سامنے ہی تھیں تو ہمارے درمیان گفت و شنید بھی ہونے لگی۔بھلے لوگ تھے نیز ان کے عزیزداروں کو دیکھ کر بھی یہی اندازہ ہوا کہ بھلے لوگ ہیں۔خیر ایک روز صبح صبح معلوم ہوا کہ بڑے آپریشن کے بعد خاتون محترم کے یہاں بچے کی ولادت ہوئی ہے۔یہ سن کر ہم لوگوں نے مبارک باد پیش کرنے کی غرض سے جانے کا ارادہ کیا۔ابھی ہم باہر ہی نکلے تھے کہ ان کے کمرے سے ان کی ساس محترمہ کے زہر بجھے کوسنے سنائی پڑے۔ہمارے قدم وہیں جم گئے۔ان کی لعن طعن سے ہمیں یہ بات سمجھنے میں کجا دیرنہیں لگی کہ معاملہ کیا ہے۔ساس کو بیٹے کی خواہش تھی جب کی قدرت نے ان کے گھر بیٹی معظمہ بھیج دی تھی۔اب اسی بات کو بنیاد بنا کر بہو کو پانی پی پی کر کوسا کراہا جا رہا تھا۔فی الوقت ہم نے وہاں جانا مناسب خیال نہیں کیا۔آتے جاتے ہوئے ان کے عزیزداروں کے چہرے بھی اترے ہوئے نظر آرہے تھے۔مجھے اس وقت قرآن کریم کی وہ آیت یاد آگئی، جس میں کہا گیا ہے : 
’’جب ان میں سے کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی خوش خبردی جاتی ہے تو اس کے چہرے پر کلونس چھا جاتی ہے اور وہ بس خون کا سا گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے‘‘۔ (النحل : ۵۸،۵۹)
بھئی کسی خاتون کے یہاں اگر بیٹی کی پیدائش ہو رہی ہے تو اس میں اس خاتون کا کیا قصورہے۔۔۔۔۔۔۔۔کس کو بیٹی ہوگی اور کس کو بیٹا ہوگا یہ فیصلہ تو قادرِ مطلق کا ہے،انسان بھلا اس میں کیا کرسکتا ہے۔قادرِ مطلق کا اپنا قانون ہے،وہ جس کو چاہتا ہے لڑکا دیتا ہے ،جس کو چاہتا ہے لڑکی نوازتا ہے۔ یہی نہیںوہ جس کو چاہتا ہے دونوں عطا کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے دونوں سے محروم کردیتا ہے۔اس کی بہترین وضاحت قرآن کریم کے ایک سورہ میںموجود ہے۔دیکھیںربِ کریم کیاارشاد فرماتا ہے:ترجمہ
’’ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک ہے۔وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا فرمادیتا ہے۔جسے چاہتا ہے لڑکیاں عطا کرتا ہے ،جسے چاہتا ہے لڑکے دے دیتا ہے۔جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں دونوں دے دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے۔وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قادر ہے‘‘۔(الشوریٰ ۴۹،۵۰)
اچھا جی مان لیجیے بیٹی ہی پیدا ہوگئی تو کیا آفت آن پڑی،بھلا کون سا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔بیٹی بھی قدرت کی طرف سے ہے۔وہ بھی ایک نعمت ہے۔ وہ بھی گھر کا چراغ ہے۔بھئی وہ بھی گھر خان دان کا نام روشن کرسکتی ہے۔بیٹوں کی طرح اس کو بھی مواقع میسر آئیں تو وہ بھی اپنا اور اپنے گھر پر کا نام روشن کر دے گی،اک ذرا سا موقع تو عنایت کیجیے ۔اچھا مان مان لیجیے بیٹی کی پیدائش گناہ ہے تو اس گناہ میں اکیلی عورت کو سزا کیوں کر دی جائے۔۔۔۔۔۔۔ بھئی مرد بھی تو اس گناہ میں برابر کا شامل ہے۔عورت نے دھوپ میں غسل کر کے یا مور کے آنسو پی کر بچے کواکیلے توجنم دیا نہیں ہے۔آج بچے بھی جانتے ہیں کہ انسانی بچے کی پیدا ئش دو لوگوں کے باہم اتصال سے ہوتی ہے۔ بڑاعجیب سا اتفاق ہے کہ جس وقت میں یہ مضمون لکھ رہا تھا میرے بڑے بھائی صاحب کے منجھلے بیٹے محترم (جن کی عمر یہی کوئی دس گیارہ برس کی ہوگی اور نام یعقوب ایوب ہے)اپنے ہم عمر دوستوں سے کہہ رہے تھے،جسے میں بڑی خاموشی کے ساتھ سن رہا تھا۔آپ بھی سنیں :
’’ امی ابو کے بغیر بچے کی پیدائش نہیں ہو سکتی ہے‘‘۔
بھئی گناہگار دو اور سزاوار ایک،بھلا یہ کس دنیا کا انصاف ہے! ''اندھیر نگری،چوپٹ راج''۔
یہاں میں آپ کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ جن گھروں میں بیٹیوں پر بیٹوں کو فوقیت دی جاتی ہے یا بیٹی کی پیدائش پر بہو کو کوسنے دیے جاتے ہیں،وہاں آپ غور کریں تو لعن طعن کرنے والی عام طور سے دادیاں، نانیاں،ساسیں،نندیں اور اسی عمر کی محلے والیاں ہوتی ہیں جو اتفاق سے عورتیں ہی ہوتی ہیں۔ ایسے ہی موقع مجھے انگریزی کا وہ جملہ یاد آتا ہے جو کبھی کہیں پڑھا تھا Save woman from woman۔  حالاں کی ذاتی طور پر میں جب اس نقطے پر غور کرتا ہوں تو مجھے یہ جملہ سراسر بے بنیاد اور مبنی برجھوٹ لگتا ہے۔مرد اساس نظریے یا کہہ لیں کہ پدر سماجی رویے نے کمال درجہ عیاری سے ایسا ماحول تیار کیا کہ عورت از خود عورت کی دشمن ٹھہر گئی۔سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹی۔جانے ان جانے میں عورت خود ہی اس منفی رویے کی ترجمان بن گئی۔دیکھئے صوبہ بہارسے تعلق رکھنے والے ’کلیم عاجز‘ مرحوم کیا کہہ گئے ہیں : 
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ 
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو 
خیرعورت کے ساتھ انصاف یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ اس کو سات عزت اور سات خیریت کے ساتھ اس دنیا میں آنے دیا جائے۔ماں کے پیٹ کے اندر پل رہے بچے کا جنس معلوم کرنے والے تمام منفی اور غیر ضروری طریقوں پر سختی کے ساتھ روک لگائی جائے۔بچی کی ولادت کو سعادت سمجھا جائے۔بیٹی کو جنم دینے والی خواہ وہ بہو ہو یا بیٹی اس کو اس باسعادت موقع پر دل و جان سے مبارک باد پیش کی جانی چاہیے،تاکہ اسے بیٹی کو جنم دینے پر فخر کا احساس ہو۔ہمارے بڑے بوڑھے بیٹیوں یا پوتیوں اور نواسیوں کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کریں اور بچیوں کا دادا دای یا نانا نانی بننے پرخوب اِترائیں ۔  
مضمون کی آخری سطر میں ایک بات اور عرض کردیتا چلوں کہ اس دن کو یاد رکھیں جو حساب کتاب کا ہے۔ جس روز ہر ایک کے ساتھ عدل اور انصاف کامعاملہ کیاجائے گا۔جب قدرت زندہ درگور کی گئی لڑکیوں سے دریافت کرے گی،بتاو،تمہیں کس جرم کی بنیاد پر قتل کردیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔  نہ بھولیں کہ ان سوالوں کے جوابات میں ہماری ہلاکت پوشیدہ ہے۔
ای میل۔abubakr.awadh@gmail.com
فون نمبر۔9560877701
 

تازہ ترین