معذورین احساسِ محرومی کے شکار کیوں؟

عالمی یومِ معذورین

تاریخ    3 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


مینا یوسف
انسانی جسم میں کسی بھی عضو یا جسم کے کسی بھی حصے یا جسمانی صحت کے بنیادی اصول سے محرومی کے حامل افراد معذور کہلاتے ہیں۔معذوری ذہنی ،جسمانی،پیدائشی اور حادثاتی بھی ہو سکتی ہے۔اس حوالے سے ہر سال ۳ دسمبر کو معذور افراد کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔اس دن کے منانے کا خاص مقصدمعذوروں کے مسائل و ضروریات اور ان کی صلاحیتوں اور کار کردگی سے متعلق معاشرے اور حکومت کو متوجہ کرنا ہے تاکہ سماج میں انہیں بھی ویسا ہی مقام اور حقوق عطا کئے جائیں جیسے کہ ایک عام آدمی کوحاصل ہیں۔
معذور افراد انسانی معاشرے کا وہ حصہ ہے جنہیں عام لوگوں سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اگرچہ اللہ تعالی نے ان اشخاص کو کسی نعمت سے محروم رکھا ہے لیکن پھر بھی یہ اپنے اندر ایسے گوہر سنبھالے ہوتے ہیں کہ اگر انہیں ذرا سا بھی تراشا جائے تو ایسے کمالات کر کے دکھا سکتے ہیں جو کہ ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔لیکن اس کے باوجود بھی ان (معذور افراد)کے ساتھ ایسا برتائو کیا جاتا ہے جس سے وہ احساس کمتری اور ذہنی کوفت کا شکار ہو جاتے ہیں اورساتھ ہی ساتھ وہ اپنے حقوق کے لئے ہمیشہ لڑتے ہوئے کبھی سڑکوں پر نعرہ بازی کرتے دکھائی دیتے ہیں،یا پھر خاموش احتجاج کرتے ہوئے،یا پھر ان کی فائلیں دفتروں میں دھول چاٹتی ہوئی پڑی رہتی ہے۔اگر چہ ان کے لئے الگ سے قوانین بنائے گئے ہیں، ان کے لئے الگ سہولیت رکھی گئی ہیں پھر بھی کیا ان سب قوانین کو اپنایا جاتا ہے،وہ سہولیات ان کو بہم پہنچائی جاتی ہیں؟۔
معذور افراد یا ایسے بچے جن کو کسی قسم کی کوئی جسمانی یا ذہنی تکلیف ہو، ان کیلئے الگ سے اسکول بنائے گئے جنہیں(special schools)کہا جاتا ہے جہاں پر ایسے بچوں کو ان کی ضروریات کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے اور جہاں ماہر اساتذہ کی نگرانی میں ان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو ابھارا جاتا ہے۔ان سکولوں میں ان کی ضروریات کا ہر ایک سامان مہیا رکھا جاتا ہے جسے انگریزی میں(special rooms) کہتے ہیں ۔اس کے علاوہ اب ان بچوں کو ان سکولوں میں تعلیم دی جاتی ہے جہاں عام بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اب سکولوں میں بھی ان کے لئے ساری سہولیات فراہم کی جاتی ہے ۔یہ اس لئے تاکہ یہ بچے احساس محرومی کا شکار نہ ہو جائیں بلکہ انہیں یہ احساس دلانا کہ یہ بھی ان بچوں کی طرح ہے اور ان کے جیسی زندگی گزار سکتے ہیں۔لیکن اس کے باوجود بھی المیہ یہ ہے کہ ان پر طعنے کسے جاتے ہیں، انہیں برُا بھلا کہا جاتا ہے۔ہر مذہب خاص کر دین اسلام نے کسی شخص کے جسمانی نقص یا کمزوری کی بناء پراس کی عزت کو کم کرنے کی ہا گز اجازت نہیں دی ہے بلکہ انہیں دوسروں سے زیادہ عزت عطا کی گئی ہے جس کا اندازہ حضرت عمر فاروق کے اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے۔’’ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو کھانا کھلا رہے تھے کہ ایک شخص کو دیکھا جو بائیں ہاتھ سے کھانا کھا رہا تھا۔آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے بندئہ خدا !دائیں ہاتھ سے کھا۔اُس نے جواب دیاکہــــ’’وہ مشغول ہے‘‘۔آپ آگے بڑھ گئے۔جب دوبارہ گزرے تو پھر وہی فرمایا اور اُس شخص نے پھر وہی جواب دیا۔جب تیسری با ر آپ رضی اللہ عنہُ نے اُس کو ٹوکا تو اس نے جواب دیا کہ’’موتہہ کی لڑائی میں میرا دایاں ہاتھ کٹ گیاتھا‘‘ ۔یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ رونے لگے اور پاس بیٹھ کر اُس سے پوچھنے لگے کہ تمہارے کپڑے کون دھوتا ہے؟اور تمہاری دیگر ضروریات کیسے پوری ہوتی ہیں؟تفصیلات معلوم ہونے پر آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے لئے ایک ملازم لگوا دیا،اس سے ایک سواری دلوائی اور دیگر ضروریات زندگی بھی دلوائیں۔دین اسلام نے زندگی کے معاملات میں ہر انسان، چاہے وہ کسی بھی ذات یا رنگ ونسل سے ہو ،سب کو مساوی حیثیت عطا کی ۔لیکن اسکے باوجود سماج میں ان افراد کیساتھ ایسے معاملات کئے جاتے ہے، جن سے یہ ذہنی کوفت کا شکار ہو جا تے ہیں۔ہر سال معذورں کا عالمی دن اس وعدے کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ اب کسی بھی معذور کے ساتھ کسی قسم کا بھید بھائو نہیں کیا جائے گالیکن افسوس کی بات یہ کہ یہ بیانات صرف بولنے تک ہی محدور رکھے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ معذور افراد آج بھی اپنے حقوق سے محروم نظر آتے ہیں۔
 رابطہ۔صفاپورہ ،گاندربل کشمیر
 

تازہ ترین