جموں کشمیر میں سب سے بڑا مسئلہ بیروزگاری: بخاری

۔6لاکھ نوجوان منتظر،60ہزار ڈیلی ویجر بھی پریشان

تاریخ    3 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہاہے کہ جموں کشمیر میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری سب سے بڑا مسئلہ ہے اور یقینی طور پر حکومت ِ ہند کیلئے تشویش کن معاملہ ہونا چاہئے۔ہندوارہ میں منعقدہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بخاری نے کہا’’ حال ہی میں6لاکھ تعلیم یافتہ نوجوانوں نے 1800اکاؤنٹ اسسٹنٹ اسامیوں سمیت 10ہزار درجہ چہارم ملازمتوں کیلئے فارم بھرے ،جس سے جموں وکشمیر میں بے روزگاری کا پتہ چلتا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر سے کثیر تعداد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی طرف سے جمع کی گئی درخواستیں دہلی کے پالیسی سازوں کے لئے چشم کشا ہونی چاہئے۔بخاری نے مزید کہاکہ 2.5لاکھ تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان جس میں پی ایچ ڈی اسکالر، ایم فل طلبا اور پوسٹ گریجویٹ شامل ہیں، نے گذشتہ برس محکمہ روزگارمیں اپنا اندراج کرایا ہے اور اِس میں وہ کثیر تعداد میں گریجویٹ اور انڈر گریجویٹ شامل نہیں، ہیں جنہوں نے اپنی رجسٹریشن نہیں کرائی تھی۔بخاری نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ڈیلی ویجر ملازمین کی مستقلی کے عمل کو تیز کرنے کی گذارش کرتے ہوئے کہاکہ ’’60ہزار سے زائد ڈیلی ویجرز، کیجول لیبررز، آئی ٹی آئی تربیت یافتہ لیبررز، نیڈ بیسڈ، سی پی اور این وائی سی ورکرز مستقلی کے منتظر ہیں، جنہیں بہت ہی کم اُجرت دی جاتی ہے‘‘۔ بخاری نے کہاکہ جموں وکشمیر ملک کی ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں بے روزگاری کے معاملہ میں دوسرے نمبر پر آتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بے روزگاری کے مسئلے کو حل کرنا اپنی پارٹی کا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ انہوں نے کہا’’ ہم اِس انسانی مسئلے کو حل کرنے کیلئے ایک بلیو پرنٹ تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر میں منشیات کی بڑھتی وباء کی وجہ روزگاری ہے۔  انہوں نے حکومت ِ ہند سے کہاکہ جموں وکشمیر میں بے روزگاری کا مسئلہ حل کرنے کے لئے جامع پالیسی مرتب کی جائے ۔ بخاری نے کہاکہ اپنی پارٹی نے جموں وکشمیر کے نوجوانوں تبدیلی چاہتے ہیں، تبدیلی صرف انتظامیہ کے طرز عمل میں نہیں بلکہ سیاسی فلسفہ اور زمینی سطح پر اِس کی عمل آوری میں بھی تبدیلی ناگزیر ہے‘‘۔ انتخابی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی سنیئر نائب صدر غلام حسن میر نے کہاکہ ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات زمینی سطح پر لوگوں کو با اختیار بنانے کے لئے ضروری ہیں، اِن انتخابات سے پنچایتی راج تھری ٹائر نظام مکمل ہوگا جس کا مطلب زمینی سطح پر جمہوریت مضبوط ہوگی۔انہوں نے کہاکہ لوگوں کو اپنی ترقیاتی ضروریات کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے الیکشن لڑ رہے اُمیدواروں کی صلاحیت کو جانچ پرکھ کر حق رائے دہی کا استعمال کیاجائے۔’’

تازہ ترین