تازہ ترین

کورونا کے قہر سے بچائو کی کوشش| برطانیہ میں دنیا کے پہلے ویکسین کو منظوری

آئندہ ہفتہ سے2ڈوز پر مشتمل ویکسین کا آغاز ہوگا| 2سے 8ڈگری منفی درجہ حرارت میں 5دن تک محفوظ رہیگا

تاریخ    3 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
لندن //برطانیہ پوری دنیا میں ایسا پہلا ملک بن گیا ہے ،جس نے کورونا وائرس مخالف ویکسین فائزر یا بائیونٹیک کو منظوری دی ہے اور اب ملک میں آئندہ ہفتہ سے لوگوں کو کورونا وائرس مخالف ویکسین دینے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ برطانیہ میں ادویات اور شعبہ صحت پر نظر گزر رکھنے والے ادارے میڈیسن اینڈ ہیلتھ کیر پروڈکٹس ریگلوٹری اتھارٹی (MHRA)نے کہا ہے کہ مذکورہ ویکسین کورونا وائرس کے خلاف 95فیصد کارآمد ہے اور’’ محفوظ‘‘ بھی ہے۔برطانیہ حکومت کا کہنا ہے کہ سخت، جلد تحقیق اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ کئے بغیر ویکسین کو منظوری دی گئی ۔برطانیہ میں شعبہ صحت کے سیکریٹری میٹ ہینکاک نے کہا ’’میں خوش ہوں، مدد آنے والی ہے،ہم سورج کو طلوع ہوتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں،لاک ڈائون قوائد پر عمل کرنے کیلئے کوششیں دوگنی کرنی چاہئے‘‘۔میٹ ہینکاک کا مزید کہنا تھا کہ سال 2020ہمارے لئے کافی مشکل تھا لیکن سال 2021ہمارے لئے روشن ہوگا۔برطانی حکومت نے آخر کار ایم ایچ آر ائے کی سفارشات کو منظوری دی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ زیاہ خطرات کے زمرے میں آنے والے لوگوں کو 2 ڈوز پر مشتمل ویکسین دیا جاسکتا ہے۔ویکسین کی ایک کروڑ شیشیاں جلد دستیاب ہونگی جن میں سے 8لاکھ آنے والے  چنددنوں میں برطانیہ پہنچ جائیں گے۔ برطانیہ میںمحکمہ صحت و سماجی دیکھ بال کے ترجمان نے کہا ’’ ویکسین آنے والے ہفتہ میں برطانیہ پہنچ جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نیشنل ہیلتھ سروس کو بڑے پیمانے پر ویکسین تقسیم کرنے کا صدیوں کا تجربہ ہے اور وہ اپنے تمام تر سہولیات اور تیاری میں لگا ہے تاکہ ویکسین زیادہ خطرے والے زمرنے میں آنے والے افراد کو دیا جاسکے۔ ترجمان نے کہا کہ ایم ایچ آر ائے کے سخت تحقیق کے بعد ویکسین کو سخت معیاری قوائد سے گزارا گیا اور اسکے معیار اورکارکردگی کی بھی جانچ پڑتال کی گئی‘‘۔برطانیہ میں قائم جوائنٹ کمیٹی آن ویکسینیشن اینڈ ایمونائزیشن(JCVI) اب ترجیحاطی گروپوں کے نام ایک ایڈوائزری مشتہر کرے گی جس میں زیاہ خطرے والے زمرے میں آنے والے لوگوں کو ویکیسن لینے کی ہدایت دی جائے گی۔ زیادہ خطرات والے گروپوں میں گھروں میں کام کرنے والے لوگ، شعبہ صحت،عمررسیدہ افراد اور مختلف بیماریوں میں مبتلا لوگوں کو شامل کیا گیا ہے۔ نیشنل ہیلتھ سروسز کے چیف ایگیزکیٹو سر سائمن سٹیون نے کہا ’’ نیشنل ہیلتھ سروس ملک میں ویکسینشن کی بڑی مہم کی تیاری کرنے مصروف تھی کیونکہ یہ تاریخ کی سب سے بڑی ویکسینشن مہم ہوگی۔برطانیہ کو اُمید ہے کہ سال 2021کے اختتام تک 40لاکھ ویکسین دستیاب ہونگے جو ایک تہائی آبادی کو لگانے کیلئے کافی ہونگے اور ان میں بھی سال 2021کے ابتدائی مہینوں میں زیادہ ویکسین دستیاب ہونگے۔ برطانیوی حکومت نے زور دیا ہے کہ کورونا ویسکین کو معیار، حفاظت اور کارگردگی کے لحاظ سے صرف برطانیہ کے ایک آزادنہ ادارے کے ذریعے تقسیم کیا جائیگا جو ویکسین بنانے والوں کو مطمئن کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایچ آر ائے کی منظوری کا مطلب ویکسین انسانوں کیلئے محفوظ ہے۔ مذکورہ ویکسین کو منفی 70درجہ حرارت کی ضرورت ہوگی لیکن اسکی منتقلی کیلئے خاص بکس بنائے گئے ہیں جن میں dry iceموجود ہے۔کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ویکسین کو فرج میں 5دنوں تک رکھا جاسکتا ہے۔ برطانیوی حکومت کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا یقین ہے کہ ویکسین کو منتقل کرنے کیلئے سرد چیزیں سپلائی کرنے والے chainکا استعمال کرنے سے کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ برطانیوی حکومت کا کہنا ہے کہ  ویکسین کو فرج میں بھی رکھا جاسکتا ہے اور یہ 2سے 8ڈگری درجہ حرارت میں5دنوں تک رکھا جاسکتا ہے۔امپیریل کالج آف لندن میں شعبہ ایمنولاجی کے پروفیسر ڈاکٹر ڈینی آلٹمین نے کہا ’’ویکسین کے منظوری کی خبر بڑی ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا ’’کووڈ مخالف کارآمد ویکسین کو منظوری مل گئی ہے‘‘۔
 

اٹلی میں مارڈرنا ویکسین کو 12جنوری تک منظوری ملنے کی توقع

۔20کروڑ خوراکیں فراہم ہونگی

نیوز ڈیسک
 
روم//اٹلی کے وزیر صحت نے بدھ کواسمبلی میں بتایا کہ اٹلی سال 2021میں 20 کروڑ 20لاکھ کرونا ویکسین فراہم کرے گا لیکن اس حدف کو پورا کرنے کیلئے متحدہ کوشش درکار ہوگی۔روبرٹ سپرنذا نے کہا ’’ویکسین کرنا لازمی نہیں ہوگا لیکن اٹلی یورپی یونین کے خریداری معاہدے کے تحت ویکسین ملک کی پوری آبادی کیلئے کافی ہوگا۔انہوں نے زور دیکر کہا کہ ویکسین کی تقسیم کا معاملہ اجازت دینے والے ادارے پر منحصر کرتا ہے کیونکہ یورپین میڈیسن ایجنسی نے ابھی منظوری نہیں دی ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا مخالف پہلا ویکسین جنوری میں آئے گا  کیونکہ 29دسمبر تک ویکسین کو منطوری ملنے کا اندیشہ ہے جبکہ موڈرنا نامی ویکسین کو 12جنوری تک منظوری مل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہپہلی ترجیحات شعبہ صحت میں کام کرنے والے ہیلتھ ورکروں، نرسنگھ ہوموں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں اور بعد میں 80سالہ کے عمر کے لوگوں، زیادہ خطرات کے زمرنے میں آنے والے لوگوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، اساتذہ اور جیلوں میں کام کرنے والے افراد کو دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ویکینوں می عالمی وباء کے دوران اُمید کی ایک کرن جگائی ہے کیونکہ ویکسین سے اٹلی میں ابتک 55ہزار لوگ مارے جاچکے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ ویکسین آنے کے بعد بھی احتیاط برتنے کی ضرورت ہوگی۔