تازہ ترین

روشنی ایکٹ کے تحت حاصل اراضی کو خالی کرنے کا حکم | اننت ناگ کے غریب کنبہ پرتلوار گری،مالک اراضی کاپریس کالونی میں تن تنہا احتجاج

تاریخ    3 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// روشنی اسکیم گھوٹالہ میں کئی بڑے نام منظر عام پر آنے کے چند دن بعد جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں حکام نے ایک غریب کنبہ کو نوٹس دیا ہے اور انہیںفوری طور پر اس جگہ کو خالی کرنے کو کہا ہے جو مالک اراضی کے مطابق مناسب اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے اسے الاٹ کیا گیا ہے۔ پریس کالونی میں بدھ کو جنوبی کشمیر کے ایک شخص نے تن و تنہا احتجاج کرتے ہوئے حکام پر الزم عائد کیا کہ اس کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔انت ناگ ضلع کے نازک محلہ کے رہائشی فیاض احمد جان نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ انہیں روشنی ایکٹ کے تحت دو مر اراضی الاٹ کی گئی تھی جس کے لئے انہوں نے لیوی کے طور پر سال 2007 جب جموں و کشمیر میں کانگریس کی حکومت تھی،95ہزارروپے بھی جمع کرائے ہیں ۔جان نے مزید بتایا کہ اس نے پھر زمین حاصل کرنے کے لئے ہر طریقہ کار پر عمل کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نے وہاں اپنا مکان اور کچھ دکانیں بھی ، جو کرایہ پر ہیں اور اس طرح ان کے لئے آمدنی کا واحد ذریعہ ہیں بھی تعمیر کرائی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس سے زمین چھین لی جائے گی تو وہ نہ صرف اپنا رہائشی مکان کھودے گا بلکہ آمدن کا ذریعہ بھی بندہو جائے گا۔فیاض احمد نے کہا’’میں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا ہے،میں نے اس وقت کی حکومت کے اعلان کردہ ہر طریقہ کار پر عمل کیا ہے اور یہاں تک کہ حکومت نے زمین کے ٹکڑے کے لئے مقرر کردہ لازمی 60 فیصد قیمت بھی ادا کی ہے۔‘‘جان نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے اب انہیں18نومبر کو ایک نوٹس دیا ہے ، جس میں اس کو ایک یا دو ہفتوں میں جگہ خالی کرنے کو کہا گیاہے ۔انہوں نے مزید کہا ’’میں نے متعلقہ ڈپٹی کمشنر آفس سے ملنے کی کوشش کی لیکن وہ حکام سے نہیں مل سکے کیونکہ وہ انتخابات میں مصروف ہیں۔اننت ناگ کا ایک غریب آدمی ، جو وبائی امراض سے پہلے ڈرائیور تھا ، نے کہا ’’ہم چاہتے ہیں کہ حکام اس پر پوری طرح غور کریں، میں تعاون کرنے کے لئے تیار ہوں‘‘۔انہوں نے لیفٹنٹ گورنر سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور اس کو انصاف فراہم کریں۔