ایک تہائی بچوں میں کورونا علامات نہیں ہوتیں: تحقیق

تاریخ    2 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
ٹورنٹو //بچوں پر کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے ایک تہائی بچوں میں وائرس کی کوئی علامات موجود نہیں ہوتی ہے اور جن بچوں میں کورونا کی تصدیق ہوتی ہے ، وہ اصل میں متاثرہ بچوں کی شرح سے بہت کم ہے۔ کینڈا میں یونیورسٹی آف البریٹ میں شعبہ میڈیسن اور دندان کے ماہر اور تحقیق کے شریک مصنف ڈٓکٹر فنلے میک السٹر نے لکھا ’’عام لوگوں کیلئے مسئلہ یہ ہے کہ بچوں کی وجہ سے کورونا وائرس کافی پھیلاتا ہوگا لیکن لوگوں کو اس کا اندازہ نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا ’’البرٹا صوبے میں ہم نے جب 1200کیسوں کا روزانہ محاسبہ کیا  تو پتا چلا ہے کہ ان متاثرین میں بیشتر لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہے کہ وہ کورونا وائرس سے متاثر ہے اور ان بیماری کو پھیلا رہے ہیں۔ 2463بچوں میں سے 1987کی رپورٹیں مثبت آئیں  جبکہ 476افراد کی رپورٹیں منفی قرار دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مثبت 1987میں 714بچے یعنی 37فیصد بچے غیر علامتی ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیونکہ بچوں میں ایک تہائی غیر علامتی ہوتے ہیں اور اسلئے سکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ صحیح ہے۔ انہوں نے کہا ’’ جیسے ہمیں معلوم ہے کہ بچے ، بڑوں سے کم بیماری کو پھیلاتے ہیں لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ بچے بیماری کو نہیں پھیلاتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ غیر علامتی مریض ، علامتی مریضوں سے کم کورونا پھیلاتے ہیں لیکن ہم یہ بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے۔انہوں نے کہا کہ محققین کو پتا چلا ہے کہ کھانسی، بہتی ناک اور گلے میں خراش عام علامتیں ہیں جو بچے دیکھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 25فیصد بچوں میں کھانسی، 19فیصد بچوں میں بہتی ناک اور 16فیصد بچوں میں گلے میں خراش جیسی علامات موجود ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علامات زیادہ ان بچوں میں موجود تھیں جنکی رپورٹیں منفی آئیں ہیں۔میک السٹر نے کہا ’’بے بچوں کو مختلف وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے لیکن کورونا وائرس کی خصوصی علامات میں سردرد، بخار، الٹی آنا، ناک بہنا اور گلے کا خراش شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کورونا وائرس سے جوج رہے ہیں اوروہ سماج میں میل ملاپ بڑھاتے ہیں اورغیر جانے وائرس کو پھیلاتے ہیں۔ 
 

تازہ ترین