’اذان‘ایک مسلسل کوشش | انسانیت کی قفل ِ فلاح کی چابی میسرہے مگر

حی الفلاح

تاریخ    2 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


جی این بٹ،سرینگر
’’اذان‘‘ کی آوز ہو رہی ہے … اُس ’’اذان‘‘ کی جس کے اعلان پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایک جگہ جمع ہو کر مسجد میں خدا کے حضور سربسجود ہو جاتی ہے۔ ’’اذان‘‘ کی آواز سن کر لوگ اپنے گھروں سے جوق درجوق مسجد کا رُخ کرکے نکل رہے ہیں… اکثر لوگوں کی زبان پر ’’اذان‘‘ کے ہر جملے کا جواب ہوتا ہے… مؤذن ’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر خدا کی بڑائی کا اعلان کر رہا ہے اور سننے والا اپنی زبان سے اللہ اکبر کہہ کر ’’اللہ‘‘ وحدہ ٗلاشریک کی بلندی کو تسلیم کرنے کا اظہار کرتا ہے۔ دراصل انسان کو معلوم ہے کہ دنیا کی تمام ظاہری طاقتیں اللہ کی طاقت کے سامنے کوئی وزن نہیں رکھتی،اسی لیے مؤذن بار بار اس کا اعادہ کر تا ہے۔ یہ ’’اللہ اکبر‘‘ کی بلندی کا نہ صرف دعویٰ کیا جاتا ہے بلکہ اس کے آگے سرنگوں ہونے کا اعلان بھی کیا جاتا ہے، اس کے سامنے اپنے آپ کو ہیچ تصور کیا جاتا ہے، اس کی بڑائی پر فخر بھی کیا جاتا ہے اور سرتسلیم خم بھی، یہ بڑائی کا اعلان انسان سے عملاً اعلان کرواتا ہے کہ تیری اس دنیا میں اصل حقیقت کیا ہے، تو اس دنیا میں کس حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے، تیری زندگی اور موت کس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ یہ ’’اللہ اکبر‘‘ کا نعرہ ہی ہے جس میں ہر ظاہری بڑائی کا وجود ختم ہو جاتا ہے، ہر اس چیز سے منہ موڑ کر اس کی حقیقت معلوم ہو جاتی ہے، جو انسان اس دنیا میں کسی بھی حیثیت سے اپنے آپ کو بڑا ظاہر کرنا چاہتا ہے۔
’’اللہ اکبر‘‘ کے اس نعرے کے بعد مؤذن کی آواز بلند ہوتی ہوئی ’’اشہد ان لا الٰہ الا اللہ ‘‘یعنی اس بات کی گواہی دے دیتا ہے کہ کوئی بڑا ہو یا چھوٹا لیکن اللہ کی ذات اقدس کے بغیر میرا کوئی پالنہار نہیں، میرا کوئی پیدا کرنے والا نہیں، میرا کوئی مددگار نہیں، میں بیمار ہوتا ہوں لیکن اُس کے بغیر کوئی شفا دینے والا نہیں، میری بھوک کا علاج میرے اسی خالق کے پاس ہے، وہی رزاق بن کر میری بھوک کو مٹادیتا ہے۔ میں نے اس کی للہیت سے منہ موڑ کر اگر دنیا میں کچھ نام کما بھی لیاتاہم اصل حقیقت یہی ہے کہ للہیت سے منہ موڑ کر میری دنیا بھی گئی اور آخرت بھی گئی۔ مؤذن کی آواز برابر اور مسلسل جاری رہتی ہے، متذکرہ کلمہ ادا کرنے کے بعد ’’اشہد ان محمد رسول اللہ‘‘ کہہ کر انسان اپنی اَنا کو ختم کر دیتا ہے، اعلاناً یہ کہہ دیتا ہے کہ دنیا میں حاکم مطلق کی جانب سے بھیجا گیا تحفۂ خاص ’’محمد رسول اللہﷺ‘‘ ہیں اور اس کی سربراہی میں ہی میری کامیابی ہے، میں اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ وہی میرا معبودِ برحق کا بھیجا ہوا برحق اور آخری پیغامبر ہے۔ اسی کی فرماں برداری میں میری کامیابی ہے، اس کی نافرمانی میں میری ناکامی ہے۔
اس ایک کلمہ سے انسان پر واضح ہو جاتا ہے کہ اصل رہبری کس کی ہونی چاہیے، اصل اطاعت کا حق دار کون ہے، اصل شریعت کا عملی نمونہ کس کے پاس ہے، یہ سب کچھ موذن اس ایک کلمۂ مختصر کو بیان کر کے سامعین کو بار بار اعادہ کر کے یاد دلاتا ہے کہ تیری عزت، تیرا تشخص اور تیری کامیابی اگر کہیں ہے تو صرف اس عملی گواہی میں ہے کہ تو بار بار اقرار کرے کہ ’’اشہد ان محمد رسول اللہ‘‘۔ اس کے بعد مؤذن ’’حی علی الصلوٰۃ‘‘ کا اعلان کر کے لوگوں کو دعوت عام دیتا ہے کہ آؤ خدا کی عطاکی ہوئی عظیم نعمت ’’نماز‘‘ کی طرف، اُس نماز کی طرف جس پر تمہارے ایمان کا دار ومدار ہے، اس نماز کی طرف جسے پیغمبر آخر الزماں نے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا، اس نماز کی طرف جس کے ادا کرنے کے بعد خدائے رحیم ورحمان کا وعدہ ہے کہ انسان کے فحش کاموں میں بھٹکنے کا کوئی اندیشہ نہیں۔ نماز کی طرف منادی دئیے جانے کے بعد ’’حی علی الفلاح‘‘ کا اعلان کر کے اس بات کا اعلان کیا جاتا ہے کہ نماز اصل کامیابی ہے، خدا کے اعلانِ کامیابی کے بعد انسان اُس کی رحمتِ خاص میں آجاتا ہے، مسجد میں خدا کے حضور نماز کی صورت میں سربسجود ہو کر خدا کی محبت اور قربت حاصل ہو جاتی ہے۔ مؤذن کی آواز سن کر انسان اس قربت اور کامیابی کاحقدار بن جاتا ہے۔ مؤذن اپنی اذان کے اول میں بھی خدا کی بڑائی اور آخر میں بھی اسی کی بڑائی کا اعلان ’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر اصل میں بار بار یاد دلاتا ہے کہ انسان کی اصل حقیقت کیا ہے، وہ نہ دائمی ہے اور نہ ہی لاثانی بلکہ اس دنیا میں اس کی فنا لازمی ہے اور آخرت کے دربار میں اس کی بقا صحیح یا غلط دونوں صورتوں میں ہے۔ وہ بڑائی کا اعلان کر کے اس پر جم جائے تو دنیا اس کے آگے سرنگوں ہو جائے گی اور آخرت میں اس کے لیے وہ جائے مسکن ہو گا جس پر بے شمار لوگ عش عش کرتے ہوئے ہمیشگی کے لیے خسارے میں پڑ کر عذاب کے شکار ہو جائیں گے۔
’’اذان‘‘ کی آواز سن کر لوگوں کا جواب دینا اور جواب کے بعد عملاً مسجد کا رُخ کرنا اصل مومن ومسلم کی اہم پہچان ہے۔ اس اعلان کو عام کرنے کی ضرورت ہے، یہ اعلان اس طرح ہو جسے سن کر انسان خدا کے حضور سربسجود ہو جائے، یہ اعلان اس طرح ہو کہ انسان سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بس اسی کا ہو جائے، یہ اعلان اس طرح ہو کہ پوری دنیا کی مسجدوں میں ہی نہیں بلکہ پوری زمین ہی مسجد بن جائے۔ مسجد انسان کو اصل انسان بنا دیتی ہے اور جس مقام پر مسجد ہو وہاں اس کی عطر بینی سے پورا علاقہ معطر ہو جاتا ہے، اسی عطر کو پھیلانے کا ذریعہ یہی اذان ہے۔ اس اذان کے ذریعے سے دین کی خوشبو محسوس کی جا سکتی ہے، اسی اذان کو عام کرنے کی ضرورت ہے، اسے بار بار عملاً دہرانے کی ضرورت ہے، قولاً انسان بار بار سنتا ہے لیکن عملاً اس کا اظہار وقت وقت پر ہو جائے تو پوری دنیا کو اس اعلان کے سایہ تلے وہ امن وچین نصیب ہو سکتا ہے جس کے وہ متمنی ہیں۔
دین اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اور اس کی اشاعت وتبلیغ جس طریقے سے بھی ہو اسے مثل ’’اذان‘‘ ہی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے اور اس نظام حیات کو دوسروں تک پہنچانے والے کو مؤذن کے جیسے القاب سے یاد کیا جا سکتا ہے۔ مکمل نظام حیات کا تصور عام کرنے کی جو بھی کوشش کرے اس کی اذان پر لبیک کہہ دینا کامیابی کی نشانی ہے۔ دین اسلام کی علمی وعملی خدمت انجام دینا بھی مثل اذان عام کیے جانے کی نشانی ہے۔ دین کی بڑائی، دین میں کامیابی، دین کی سربلندی، دین کی ایک ایک شاخ میں دنیا کی فطرت کا راز چھپا ہے اور اس فطرت سے منہ موڑ کر انسان اگر کہیں کسی اور اعلان کے پیچھے پیچھے چل پڑتا ہے تو وہ فطرت کی خلاف ورزی ہوگی اور فطرت کی خلاف ورزی میں ہی انسانیت کا خسارہ موجود ہے۔
مؤذن کو چاہیے کہ وہ ’’اذان‘‘ دے اور موذن کے آواز سننے والے خود ہی جواب طلب ہیں، ان سے پوچھا جائے گا کہ اس دین کی اذان کے جواب میں تمہارا کس قدر اظہار ہوا، تم نے اعلان کو سننے کے بعد اس کی ہاں میں ہاں ملا دی یا نہیں، یہ سب کچھ مؤذن کے اعلان کے بعد کا مرحلہ ہے اور اس مرحلے کے بارے میں مؤذن سے کوئی جواب طلبی نہیں ہو گی۔ دین کا مؤذن ہر کوئی تو ہو نہیں سکتا البتہ ’’اذان‘‘ کی آواز ہر کسی کے کان میں گونج جائے یہی ہمارا کام اورمقصد عظیم ہے۔ ’’اذان‘‘ نام ہے اعلانِ عام کا، بس اعلان کرتے جائیے! اور دیکھیے کس طرح اصل ،ذی حس وباشعور لوگ اعلان عام کے ہوتے ہی سرنگوں ہو جائیں گے۔ یہ اعلان وہی اعلان ہے جو آخری پیغمبر محمد رسول اللہﷺ نے کوہ صفا پر کیا جس کے جواب میں اگرچہ انہیں بے شمار تکالیف کا سامنا کرنا پڑا ،لیکن وقت گزرنے کے بعد انسان نے ’’یدخلون فی دین اللہ افواجا‘‘ کا منظر بھی دیکھا۔ آج بھی اس اعلانِ عام سے دین کی اشاعت وتبلیغ ہو رہی ہے۔ ہر وہ جگہ جہاں انسان رہتا ہے مسلمانوں کی جماعت موجود ہے۔ زمین کے چپہ چپہ پر مؤذن موجود ہیں۔ یہ اسی اعلان عام کا نتیجہ ہے جو پیغمبر آخر الزماں محمد رسول اللہﷺ نے کیا۔
آج حالت اگرچہ کمزور ہے لیکن مؤذنوں کی آوازیں مسلسل گونج رہی ہیں، انسانیت تک کم ہی سہی لیکن یہ آواز انسانیت تک پہنچ رہی ہے۔ دین پھر سربلند ہو گا مگر اذان دینے کی مسلسل ضرورت ہے۔ مکمل دین اور مسلسل مؤذنوں (داعیان دین) کی آج ہے، اُمت اس ضرورت کو پورا کر نے کی سکت رکھتی ہے، اس حوصلہ مند طبقہ کو سامنے لاکر اس کے قدموں پر قدم ڈالنے کی ضرورت ہے۔ اللہ حوصلہ ، ہمت ، اخلاص اور ثابت قدمی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
ای میل۔gnbhat786@gmail.com
 

تازہ ترین