تازہ ترین

نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کا احتجاج جاری،بات چیت سے انکار | قومی شاہراہوں کو بند کرنے کی وارننگ ،ملک میں اشیا ضروریہ کے بحران کا خدشہ

تاریخ    1 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


نئی دلی //زرعی قوانین کے خلاف ملک کے بڑے حصوں میں کسانوں کا احتجاج زور پکڑتا جارہا ہے۔ پنجاب ، ہریانہ ، دہلی ، راجستھان اور اترپردیش کے کسانوں کا احتجاج جاری ہے۔ دہلی میں کسان احتجاج پر بضد ہیں۔کسانوں کے لیڈروں نے وارننگ دی ہے کہ اگر ان کے سبھی مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے تو دہلی کے اہم ہائی ویز جام کرکے مد و رفت پوری طرح سے بند کردیں گے۔ غازی باد ، گروگرام اور فریداباد کو دہلی سے جوڑنے والے ہائی ویز کو بلاک کرنے کی وارننگ سے حکومت اور دہلی پولیس محکمہ میں کھلبلی مچ گئی ہے۔قومی دارالحکومت دہلی میں کسانوں کے جاری احتجاج و مظاہرہ سے فکر مند بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر جے پی نڈا ، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے دیر رات میٹنگ کی ، جبکہ دوسری جانب کسان تنظیموں نے حکومت سے بات چیت کیلئے کسی بھی شرط کو ماننے سے انکار کردیا ہے ۔نڈا ، شاہ اور تومر نے کسانوں کی حکمت عملی کے حوالہ سے دیر رات بات کی لیکن اس کی کوئی سرکاری تفصیلات دستیاب نہیں ہوسکی۔کسان رہنما یوگندر یادو نے کہا ہے کہ کسان تنظیمیں مذاکرات کے لئے حکومت کی کسی بھی شرط کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ کل کسان تنظیموں کی میٹنگ ہوئی جس میں پنجاب کی 20 سے زیادہ کسان تنظیموں نے احتجاج و مظاہرہ کے مقام پر ہی بات چیت پر اصرار کیا۔حکومت ماضی میں کسان تنظیموں کے ساتھ مذاکرات کے دو دور کر چکی ہے ، لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ کاشتکار تنظیمیں ماضی میں نافذ کردہ تین زرعی قوانین کے خاتمے ، ایم ایس پی کو قانونی حیثیت دینے ، احتجاج و مظاہرہ کرنے والے کسانوں پر درج مقدمات واپس لینے اور دیگر بہت سے مطالبات کرتی رہی ہیں۔کسان تنظیمیں اور ان کے کارکنان دہلی کی سرحد پر جمے ہوئے ہیں ، جس کی وجہ سے گزشتہ چار دنوں سے دہلی جانے والے اہم راستے بند ہیں جس سے بڑی تعداد میں گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں ، کچھ کسان تنظیمیں دارالحکومت کے رام لیلا میدان یا جنتر منتر پر احتجاج کرنا چاہتی ہیں۔کسان تنظیمیں اپنے ساتھ راشن پانی لے کر آئی ہیں اور ایک طویل وقت تک احتجاج کی تیاری میں ہیں۔دریں اثنا ہریانہ کی کھاپ پنچایتوں نے کسانوں کی تحریک کی حمایت کرنے اور دہلی مارچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ فیصلہ گزشتہ روز کھاپ پنچایتوں کی میٹنگ میں لیا گیا۔ بھارتیہ کسان یونین کرانتی کاری کے سربراہ سرجیت سنگھ پھولے نے کہا کہ دہلی نے والی پانچ سڑکوں کو ہم جام کر دیں گے۔
 
 
 

وزیر اعظم کا اپوزیشن پرکسانوں کو گمراہ کرنے کا الزام

وارنسی // وزیر اعظم نریندر مودی نے نئے زرعی مارکیٹنگ قوانین کے خلاف مظاہروں پر اپوزیشن کوکسانوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ جن لوگوں کی تاریخ میں دھوکہ دہی ہے وہ کسانوں پر دوبارہ چالیں چلا رہے ہیں۔یہ الزام اس وقت لگایا گیا جب ہزاروں کسان قومی قوانین کے اندراج مقامات پر جمع ہو کر تینوں قوانین کی منسوخی کے خواہاں ہیں۔کسی جماعت کا نام لئے بغیر وزیر اعظم مودی نے کہا کہ انہی لوگوں کے ذریعہ ان تاریخی زراعت اصلاحی قوانین پر کسانوں کو دھوکہ دیا جارہا ہے جنہوں نے انہیں کئی دہائیوں سے گمراہ کیا۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کیا کسان کی اس بڑے مارکیٹ اور زیادہ قیمت تک پہنچ نہیں ہونی چاہئے؟ اگر کوئی پرانے سسٹم سے ہی لین دین ٹھیک سمجھتا ہے تو اس پر بھی کہاں روک لگائی گئی ہے؟۔ وزیر اعظم نریندر مودی پیر کو اپنے پارلیمانی حلقہ وارانسی کے دورے پر پہنچ گئے ہیں۔ وزیر اعظم مودی ایئر پورٹ سے سیدھا وارانسی کے کھجوری پہنچے، جہاں انہوں نے سکس لین ہائی وے کا افتتاح کیا۔مودی نے کہا کہ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ سوامی ناتھن کمیشن کی سفارش کے مناسب لاگت کا ڈیڑھ گنا ایم ایس پی (MSP) دیں گے۔ یہ وعدہ صرف کاغذوں پر ہی پورا نہیں کیا گیا، بلکہ کسانوں کے بینک کھاتے تک پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا، ’ہم نے کہا تھا کہ ہم یوریا کی کالا بازاری روکیں گے اور کسان کو مناسب یوریا دیں گے۔ گزشتہ 6 سال میں یوریا کی کمی نہیں ہونے دی۔ پہلے یوریا بلیک میں لینا ہوتا تھا، یوریا لینے آئے کسانوں پر لاٹھی چارج تک ہوتا تھا۔ کسانوں کے نام پر بڑی بڑی اسکیمیں اعلان کی جاتی تھیں، لیکن وہ خود مانتے تھے کہ ایک روپئے میں سے صرف 15 پیسے ہی کسانوں تک پہنچتے تھے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ پہلے MSP تو اعلان کیا جاتا تھا۔