تازہ ترین

بھارت نے مسئلہ کشمیرپر اسلامی ممالک تنظیم کی قراردادمستردکردی

مرکزی زیرانتظام والاخطہ ملک کااٹوٹ حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا:وزارت خارجہ

تاریخ    1 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


 سرینگر//مسئلہ کشمیر پراسلامی ممالک کی تنظیم کی طرف سے پاس کی گئی قراردادکو بھارت نے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارت کے داخلی معاملات میں اسلامی ممالک کی تنظیم کو مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔بھارت نے کہا کہ جموں کشمیر بھارت کااٹوٹ انگ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ سی این آئی کے مطابق بھارت نے اتوار کے روز نائیجر میں ایک اجلاس کے دوران جموں و کشمیر کے بارے میں غلط اور غیر تصدیق شدہ حوالہ جات پیش کرنے پر اسلامی ممالک کی تعاون تنظیم ’او آئی سی‘ کی سخت نکتہ چینی کی ۔نائیجر میں ایک اجلاس کے دوران اسلامی ممالک کی تعاون تنظیم ’او آئی سی‘ کی طرف سے منظور کی جانے والی قرار دادوں میں جموں و کشمیر کے بارے میں غلط اور غیر تصدیق شدہ حوالہ جات پیش کئے گئے جس پر بھارت نے اس تنظیم کی سخت الفاظ میں تنقید کی اور کہا کہ جموں و کشمیر بھارت کا ایک اٹوٹ اور لازمی حصہ ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ،’’ہم اسلامی ممالک کی تعاون تنظیم’او آئی سی‘ کے نیامی میں 47 ویں سی ایف ایم سیشن میں منظور کی جانے والی قراردادوں میں بھارت کے بارے میں غلط اور غیر تصدیق شدہ حوالوں کو سختی سے اور واضح طور پر مسترد کرتے ہیں۔وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ سے یہ بات برقرار رکھی ہے کہ بھارت کے اندرونی معاملات میں اسلامی ممالک کی تعاون تنظیم کو مداخلت کرنے  کاکوئی حق نہیں ہے جس میں جموں و کشمیر کے مرکزی خطے کا معاملہ شامل ہے جو بھارت کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔واضح رہے کہ اسلامی ممالک کی تعاون تنظیم مسلم اکثریتی ممالک کی ایک جماعت ہے۔بھارت کا کہنا ہے کہ یہ افسوسناک ہے کہ اسلامی ممالک کی تعاون تنظیم اپنے آپ کو کسی خاص ملک کے ذریعہ استعمال کرنے کی اجازت دیتی رہتی ہے جس میں مذہبی رواداری، بنیاد پرستی اور اقلیتوں پر ظلم و ستم کا مکروہ ریکارڈ ہے اور جو بھارت مخالف پروپیگنڈا کرنے میں ملوث ہے۔وزارت خارجہ نے کہا کہ بھارت اسلامی ممالک کی تنظیم کو سختی سے مشورہ دیتا ہے کہ وہ مستقبل میں اس طرح کے حوالہ جات دینے سے باز رہے۔