تازہ ترین

سرینگرمیں شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی خواب | 5 سکیموں پر برسوںسے کام ٹھپ،عوام حالات کے رحم وکرم پر

تاریخ    30 نومبر 2020 (00 : 12 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// سرینگر میں پینے کے پانی کی قلت کے بیچ اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ محکمہ کی جانب سے شہر اور اس کے مضافات میںپانی کی 5اسکیموں پر کام ٹھپ ہے۔ وادی کے دیگر اضلاع سمیت سرینگر میں گزشتہ2ماہ سے پینے کے پانی کی قلت کا سامنا ہے تاہم حکام کی جانب سے شہر میں پینے کے پانی کی قلت کو دور کرنے کیلئے شروع کی گئی پانی کی 5اسکیموں پر یا تو کام ٹھپ ہوگیا ہے یا ان میں سست رفتاری سے کام جاری ہے۔کشمیر عظمیٰ کے پاس موجود سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ اسکیمیں متعلقہ محکمہ نے اپریل2018سے اگست2020کے درمیان شروع کی۔ان اسکیموں میں سعد پورہ درباغ، فقیر گجری دارا،رکھ زکورہ، تکیہ سنگرشی اور چک دارا شامل ہیں۔ دستیاب اعداد وشمار کے مطابق سعد پورہ در باغ میں پینے کے پانی کی اسکیم کی منظوری 1کروڑ 28 لاکھ 26ہزار روپے کی لاگت سے منظور کی گئی تھی تاہم ابھی تک اس اسکیم پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ دستاویزات کے مطابق فقیر گجری اسکیم بھی35لاکھ روپے کی لاگت سے منظور کی گئی تھی اور اس اسکیم میں بھی اب تک ایک روپے کابھی تصرف نہیں کیا گیا اور تکیہ سنگرشی اسکیم کا بھی یہی حال ہے،جس کی تعمیر کیلئے24لاکھ24  روپے کی لاگت کو منظوری دی گئی تھی اور ابھی تک اس پر کوئی بھی رقم خرچ نہیں کی گئی۔دستاویزات کے مطابق رکھ زکورہ واحد ایسی اسکیم ہے جس کی تعمیر کیلئے3کروڑ6لاکھ 20ہزار روپے کی رقم کو منظورکی گئی تھی اور ابھی تک49لاکھ876روپے خرچ کئے گئے ۔چک دارہ اسکیم کیلئے2کروڑ29لاکھ روپے اگر چہ منظور کئے گئے تھے تاہم اس اسکیم کیلئے بھی ابھی تک کوئی بھی رقم خرچ نہیں کی گئی۔اس دوران محکمانہ ذرائع نے اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 2012کے بعد سرینگر میں شہریوں کیلئے پانی کی رسائی پہنچانے کیلئے پانی کی ایک ٹنکی بھی تعمیر نہیں کی گئی۔ان ذرائع کا کہنا ہے کہ سرینگر کے مہجور نگر علاقے میں سال2012میں ایک لاکھ گیلن پانی ذخیرہ کرنے کیلئے ریزروائر تعمیر کیا گیا تھااور اس کے بعد متعلقہ محکمہ اور انتظامیہ نے طویل مدتی پروگرام کے تحت ابھی تک ایک بھی پانی کی ٹنکی تعمیر نہیں کی۔ ذرائع کے مطابق2012میں بھی10برسوں کے بعد دانہ پورہ میں7ہزار گیلن پر مشتمل ایک ٹنکی کو تعمیر کیا گیا تھا،جبکہ2002میں سرینگر کے مسکین باغ میں50ہزار گیلن پانی ذخیرہ کرنے کیلئے ایک ٹنکی کو تعمیر کی گئی تھی،اور مابعد آئندہ10برسوں کیلئے کسی بھی حکومت نے کوئی بھی پانی کی ٹنکی تعمیر نہیں کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت مجموعی طور پر سرینگر میں15 ٹنکیاں ایسی ہے،جن میں پینے کا پانی ذخیرہ کیا جاتا ہے۔