تازہ ترین

مکانوں اور عمارت کی تعمیرکے اجازت ناموں میں تاخیر | ایس ایم سی میں سینکڑوں درخواستیں منظوری کیلئے دھول چاٹ رہی ہیں

تاریخ    30 نومبر 2020 (00 : 12 AM)   


مدثر یعقوب
سرینگر //سرینگر شہر میں مکانات کی تعمیر کیلئے اجازت نامہ جاری کرنے میں غیر ضروری تاخیر سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرناپڑرہاہے۔ تعمیراتی کاموں کیلئے اجازت نامہ میں تاخیر جموں و کشمیر مونسپل کارپوریشن ایکٹ کی خلاف ورزی ہے جس میں دائر درخواست دینے کے بعد صرف 2ماہ کے اندر اندر اجازت نامہ دینا لازمی ہے۔ سرینگر میونسپل کارپوریشن میںسینکڑوں کیس پچھلے کئی ماہ سے التواء میں پڑے ہوئے ہیں جبکہ چند فائلیں پچھلے ایک سال سے دفتر میں دھول چاٹ رہی ہیں۔ ایس ایم سی کو سرینگر میں رہائشی اور کمرشیل مقاصد کیلئے تعمیر ہونے والی عمارتوں کیلئے اجازت نامہ جاری کرنا ہوتا ہے لیکن اجازت نامہ حاصل کرنے کیلئے لوگوں کو کئی ماہ تک میونسپلٹی میں دھکے کھانے پڑتے ہیں۔ ایک درخواست دہندہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’’منظور شدہ فارم پر میں نے 8ماہ قبل درخواست دی ہے، تمام لوازمات پوری کی گئی اور تمام دستاویزات کی کاپی درخاست کے ساتھ رکھی گئی لیکن اس کے باوجود بھی میں مونسپلٹی کے چکر کاٹنے پر مجبور ہوں‘‘۔جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے ایڈوکیٹ معروف خان نے کہا ’’ جب دو ماہ کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور فائل ایسی رہ جاتی ہے، نہ منظور ہوتی ہے اور نہ فائل رد کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا ’’ قوانین کے مطابق اس کا مطلب میونسپلٹی نے اجازت نامہ دے دیا ہے‘‘۔ سرینگر مونسپلٹی کے ایک ملازم کاکہنا ہے کہ600فائلیں ٹیبلوں پرموجود ہیں اوریہ سبھی تعمیراتی کام شروع کرنے کیلئے اجازت ناموںسے متعلق ہیں،تعمیر کی اجازت دینا میونسپلٹی کیلئے ایک بڑا مالی ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بلڈنگ کے خدو خال ، علاقہ اور اسی کے حساب سے درخواست دہندہ سے فیس وصول کیا جاتا ہے۔مذکورہ ملازم نے کہاکہ کیونکہ متعلقہ افسران فائل کو آگے بڑھانے میں جلدی نہیں کرتے، اسلئے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک اور درخواست دہندہ نے کہا ’’ مجھ سے تمام پڑوسیوں سے این او سی حاصل کرنے کو کہا گیا بلکہ ان این او سی کو حلف نامہ پر لکھ کر جج سے تصدیق بھی کرانے کی ہدایت دی گئی، میونسپلٹی میں کبھی قانون سے کام نہیں ہوتا‘‘۔ایس ایم سی سرینگر کے کمشنرغضنفر علی نے تمام ملازمین کو ہدایت دی تھی کہ وہ 10دنوں کے اندر اندر فائلوں پر فیصلہ لیں لیکن یہ گرائونڈ پر نہیں ہوا ہے۔ سرینگر میونسپلٹی کے کمشنر نے ایک سوال کے جواب میں کہا ’’بلڈنگوں کی تعمیر کیلئے صرف294فائلوں پر ابھی فیصلہ نہیں ہوا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ان میں سے 45کو اجازت نامہ دے دیا گیا ہے جبکہ میں اس عمل کو آسان کرنے پر کام کررہا ہوں تاکہ مقررہ وقت پر فائلوں کو نپٹایا جاسکے‘‘۔