۔1947 سے پہلے کا ریکارڈ ؔ بٹھنڈی اور سنجواں جنگلاتی اراضی نہیں

سنجواں 1951 تک کپور سنگھ چاڑک اور ان کے بیٹوں کی ملکیت تھی:سابق ڈپٹی کمشنر

تاریخ    30 نومبر 2020 (00 : 12 AM)   


سید امجد شاہ
جموں// ریٹائرڈ ڈپٹی کمشنر اور ممتاز پنجابی مصنف خالد حسین نے 1947 کے محکمہ مال ریکارڈ کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ مہاراجہ کے زمانے میں بٹھنڈی اور سنجواں جنگلات کی زمین نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ بٹھنڈی اور سنجواں میں جنگل کی کوئی سرزمین نہیں تھی جبکہ ایک پرانے ریکارڈکے کاغذات میں اس کا نام ’ملکا سرکار دولت  مادر‘بتایا گیا تھا۔پرانے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا’’اس زمین کی تعریف ’واریال‘ (آبپاشی زمین) اور ’واریال ڈوم‘ (غیر آبپاشی زمین)، بنجر قدیم (سب سے قدیم ناقابل زراعت اراضی) کے طور پر کی گئی تھی، سنجواں گاؤں کا تعلق 1947 سے قبل جموں و کشمیر کے قدیم ترین پٹوارخانوں میں ہوتا تھا اور بٹھنڈی سنجواں پٹوار کے گائوں ڈونگیاں کا حصہ تھا،تب بٹھنڈی گائوں نہیں تھا‘‘۔انہوں نے کہا’’یہ اراضی مقامی گجروں کے قبضے میں ہے جو اس وقت غربت اور تعلیم کی کمی کی وجہ سے ملکیت کے حقوق حاصل نہیں کرسکتے تھے،1923 (1989-80 بکرمی) کے مطابق محکمہ مال کے ریکارڈمیں کوئی ذکر نہیں ہے کہ بٹھنڈی اور سنجواں میں جنگلات کی اراضی ہو‘‘۔ریٹائرڈ ڈی سی نے کہا’’1947 سے پہلے سنجواں پٹوار کپور سنگھ چاڑک اور ان کی بیٹوں کی ملکیت تھا،1951 تک تمام تر ریکارڈ اور جمع بندی  انہی کے ناموں پر تھے جبکہ گجر اور دلت سنجواں میں مذکورہ زمین پر کاشت کار تھے‘‘۔خالد حسین نے مزید کہا’’بعد ازآں جموں و کشمیر کے ’بگ لینڈ اولیولیشن ایکٹ ‘کے تحت اراضی گجروں اور دلتوں کے حوالے کردی گئی، زمین کو ان کے نام پر باقاعدہ کیا گیا لیکن گجر غیر تعلیم یافتہ تھے اس لئے ان کے نام پر زمین کو باقاعدہ نہیں کیا جاسکا‘‘۔انہوں نے کہا کہ سابقہ این سی اور کانگریس حکومت نے جموں میں 14 رہائشی کالونیوں کو باقاعدہ بنایا لیکن انہوں نے بٹھنڈی اور سنجواں کو نظرانداز کیا۔
 

تازہ ترین