تازہ ترین

قیمتوں میں اعتدال کا مسئلہ ،عملدرآمد کا نظام کہاں ہے؟ | ناقص حکمتِ عملی اور کمزور پالیسی سے کچھ بدلنے والانہیں

گفت و شنید

تاریخ    30 نومبر 2020 (00 : 12 AM)   


معراج مسکین
یہ حقیقت اٹل ہے کہ یاس و قنوط میں مبتلا کسی بھی قوم یا معاشرے میں جب مایوسی غالب آتی ہے تو اْس قوم یا معاشرے کی زندگی جہنم ِ زار بن جاتی ہے۔اُس کاسکون و اطمینان غارت ہوجاتا ہے اوروہ ٹینشن ،ڈپریشن و ذہنی تنائو کی زد میں آکر مرغِ نیم کشتہ کی سی زندگی گزارتا ہے جبکہ مایوسی کے ان جاں گسل حالات میںاکثر و بیشتر قنوطیت زدہ معاشرہ کازیادہ تر حصہ غلط ،ناجائز اور حرام کام کا ارتکاب کرلیتا ہے۔جس سے نہ اُسے دنیا ملتی ہے اور نہ آخرت۔سچ تو یہ بھی ہے کہ جو قوم اپنی تہذیب و روایات کو بھول جاتی ہے ،وہ یا تو صفحہ ٔ ہستی سے مِٹ جاتی ہے یا پھر مسلسل افراتفری اور بے چینی کی فضا میں سانس لینا اُس کا مقدر بن جاتا ہے، ایسی قوم کے بے اصول اور بے ترتیب معاشرے میں جھوٹ،چوری ،رشوت ،ناانصافی ،مہنگائی ،بے روز گاری ،مفاد پرستی اور دوسری کئی قسم کی بْرائیاں و خرابیاں پروان چڑھتی ہیںاورپورا معاشرہ نفسا نفسی کے عالم میں مبتلا ہوکر رہ جاتا ہے۔
اپنے اس کشمیری معاشرہ کی بات کریں تو دورِ جدید کی افادیت کے ساتھ ہم نے شائد کچھ ضرورپایا ہو،لیکن سب سے زیادہ کھویا ہی توہے۔خصوصاً ہمارے معاشرے کے جسم سے جہاں اخلاقیات کا خاتمہ ہوا ہے وہیں خواہش ِ نفسیات کے امراض نے ہمیں حد سے زیادہ لالچی ،خود غرض ،بد دیانت اور بے مروت بنا کے رکھ دیا ہے۔حد تو یہ ہے کہ آج کل ماں بیٹے ،بھائی بہن اور میاں بیوی کا مضبوط ترین رشتہ بھی کمزور ہوچکا ہے ،یہی وجہ ہے کہ معاشرے کے ایک حصے کی زندگی تسلسل کے ساتھ کرب سے گزر رہی ہے۔
بغور دیکھا جائے تو اپنی اس وادی ٔکشمیر میں خواص کے ساتھ ساتھ عوام کو بے حِسی ،خود غرضی اور چھینا جپٹی نے بے مروت بنا دیا ہے۔کسی بھی شخص کو اپنے سوا اور کچھ نظرہی نہیںآتا۔بے حسی،بے مروتی اور خود غرضی نے معاشرے کے تقریباً سبھی افراد کی آنکھوں پر ایسا حجاب ڈال دیا ہے کہ آج ہمیں اپنے پڑوسی کے بارے میں بھی کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کس حال میں ہے؟۔سفید ہوش اور غریب طبقہ آج کے اس نام نہاد ترقی یافتہ دور میں سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہے۔وادی کے بہت سے علاقوں خاص طور دور دراز دیہات کے لوگوں کو آج بھی بنیادی ضروریات کی قلت ہے۔کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جن میں لوگوں کو پوری طرح غذا بھی نہیں مل رہی ہے اور جتنی کچھ مل رہی ہے مشکل سے ہی مل رہی ہے۔یہی صورت حال بیشتر شہری عوام کی بھی ہے،جن کے لئے ہاتھ پھیلانا توبَس کی بات نہیں اورنہ ہی سوال کرنے کا فن اْن کو آتاہے،اس لئے مہنگائی کے اس دور میں وہ اپنی محدود آمدن کے پیش ِ نظر بعض اوقات فاقہ کشی کرنے پر بھی مجبور ہوجاتے ہیں۔اب اگر بات حکومت کی کی جائے تو ہماری موجودہ حکومت اس معاملے میں حد سے زیادہ نکمے پن کا شکار ہوچکی ہے۔اس کی طرف سے بار بار اعلان کیا جاتا ہے کہ تمام علاقوں کے لوگوں کو بنیادی ضروریات ،جن میں غذائی اجناس ،مٹی کاتیل ،گیس وغیرہ شامل ہے ،باقاعدہ سپلائی کی جاتی ہے لیکن یہ اعلان محض دھوکہ ہی ثابت ہوتے ہیں جبکہ اصل میں حقیقت کی پردہ پوشی کے لئے ایسے اعلانات محض حکومتی نظام چلانے اور سیاسی مفادات کے حصول کے لئے ہی ہوتے رہتے ہیں۔کافی عرصے سے بہت سے علاقوں میں لوگوں کو پینے کا صاف پانی بھی نہیںملتا ،بہت سے علاقوں میں بجلی نایاب ہے اور جہاں کہیں بھی بجلی سپلائی  ہورہی ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔بیشترخستہ حال سڑکیں اور گلی کوچے طویل عرصے سے مرمت طلب ہیں ،مختلف علاقوں میںصحت و صفائی کا فقدان ہے،چھوٹے چھوٹے طبی مراکزاور بعض سرکاری ڈسپنسریاں عملے ،ادویات اور طبی سامان سے خالی پڑے ہیں۔سستا اور فوری انصاف لمبے عرصے سے ناپید ہے اور حکومتی انتظامیہ محض کاغذی اور زبانی دعوے کرنے پر ہی مکتفی ہے۔خوشامدی اورچاپلوس افسر حسبِ روایت فرضی قصے کہانیاں بیان کرکے حکمران کو گمراہ کررہے ہیںاور سیاسی مشیر بھی خود غرضی اور مفاد پرستی کی زندہ جاوید مثال بن چکے ہیں۔رشوت ستانی بدستور جاری ہے اور سرکاری شعبوں میں کام کاج برائے نام ہورہا ہے۔ورک کلچر کا نام و نشان نہیں اور بازپْرس کا کام نابود ہے۔ظاہر ہے کہ جب حکومت عملی طور پر کچھ کرنے کے لائق نہیں ہوتی تو جس کے جی میں جو آتا ہے وہ وہی کچھ کرتا رہتا ہے۔نہ تو عوام کی کوئی پرواہ کی جاتی اور نہ ہی مسائل حل کرنے پر توجہ دی جاتی ہے۔
کیا اس حقیقت سے انکار کی کوئی گنجائش ہے کہ اس وقت بھی جبکہ کووِڈ۔19 کی مہا ماری جاری ہے ، اپنی اس وادی ٔکشمیر میں لوگوں کی زندگی حسبِ دستور بندوق و بارود ،کریک ڈاون ،چیکنگ ،تشدد،گرفتاری ،ہلاکت اور خوف و ہراس میں گزر رہی ہے اور ساتھ ہی اشیائے ضرورت ،بجلی ،پانی ،علاج و معالجہ ،تعلیم اور ٹرانسپورٹ سمیت کئی دوسرے معاملات کی فراہمی اور دستیابی میں شدید مشکلات اور ان کے حصول کے لئے ناقابل برداشت مہنگائی سے دوچار نہیںہے؟جبکہ اس صورت حال نے عام لوگوں کے لئے جینا دشوار بنادیا ہے اور غریب و محروم طبقے کے لئے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔وادی ٔکشمیر میںروز مرہ استعمال کی جانے والی اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں بھلا کہیںبھی کسی طرح کا کوئی اعتدال نظر آتا ہے۔گویا لوگوں کے پاس اب جو کچھ بھی بچا کْچاہے، اْس پر مہنگائی کی مار ہے۔چنانچہ جس انداز سے ضروری چیزوں کی قیمتوں میںاضافہ ہورہا ہے ،اْس سے ساری آبادی پریشان ہے۔اشیائے خورد و نوش فروخت کرنے والے تقریباً سبھی لوگ بہت زیادہ ناجائز منافع خوری کررہے ہیںاور متعلقہ حکومتی ادارے قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے میں مسلسل ناکام ثابت ہوتے ہیں۔جس کی بہت سی وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ایک طرف عوامی تقسیم کاری امور صارفین محکمہ کے افسر اور اہلکار اپنی پرانی روش و عادات پر قائم ہیں جن کی ہر کاروائی مصلحتوں اور مفادات کے تحت ہی عمل میں آتی ہے اور اْن کے اس غلط طرز عمل سے ناجائز منافع خور اور قیمتوں میں بلا جواز اضافہ کرنے والے اپنی روایتی پالیسی ترک نہیں کرتے ہیں،دوسری طرف محکمہ پولیس کے بیشتر اہلکار اور بعض افسران اشیائے خوردنی فروخت کرنے والے چھوٹے بڑے دکانداروں بلکہ ان چیزوں کو فْٹ پاتھوں ،چوراہوںاور بازاروں میں بیچنے والے چھاپڑی فروشوں اور ریڑہ بانوں سے بھی باضابطہ ہفتہ اور ماہانہ وصول کرکے اْنہیں اس غلط روش اور خود غرضانہ پالیسی پر کاربند رہنے کا پابندبناتے ہیں۔کڑوا سچ تو یہ بھی ہے کہ جب دکاندار یا چھاپڑی فروش یا ریڑہ بان باضابطگی کے ساتھ متعلقہ تھانہ یا پولیس اہلکاروں کو ہفتہ اور ماہانہ بھتہ کی ادائیگی کرتا رہتا ہے تو بھلا وہ یہ اخراجات کہاںسے حاصل کرسکتا ہے۔قیمتوں میںاضافہ اور ناجائز منافع خوری اْس کے پیشے کا ایک حصہ بن جاتا ہے ، جس کے لئے اْسے تحفظ بھی حاصل ہوتا ہے۔اس لئے وہ بلا خوف و کھٹکے من مانے قیمتوں پر اشیائے ضروریہ کی چیزیں فروخت کرتا رہتا ہے اور کوئی مائی کا لال اس کا کچھ نہیںبگاڑ سکتا ہے۔آپ یقین کریں یا نہ کریںلیکن یہ حقیقت ہے کہ حالیہ دنوں میں جب بعض قصائی حضرات نے گوشت کی فروخت کے لئے حکومت کی طرف سے مقرر کردہ قیمتوں کو جوتے کی نوکھ سے ٹھکراکر کھلم کھلاچھ سو روپے فی کلو فروخت کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ،تو اس دوران بعض با اثر اور نامور قصائی حضرات پولیس اہلکاروں کی معاونت سے ہی اپنی دکانیںسجاتے رہے اور صارفین کو لوٹتے رہے جبکہ آج کل بھی  شہر سرینگر کاقصائی طبقہ اپنے گھروں میں ہی یہ سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ سرینگر میں کووِڈ۔19 کی وبائی بیماری کے پھیلائو کے روکتھام کے لئے ہونے والے لاک ڈاون  میں ہی قصائی برادری نے گوشت کی قیمت میں از خود اضافہ کرکے چھ سو روپے فی کلو مقرر کردی ہے۔اسی طرح سبزی فروشوں ، پھل بیچنے والوںاور دیگر غذائی اجناس فروخت کرنے والوں نے بھی کرونا بیماری کی آڑ میں چیزوں کی قیمتیں از خود بڑھادیں۔ظاہر ہے کہ قنوطیت زدہ ہمارے معاشرہ میںایمانداری ،ہمدردی،حق پرستی اور انصاف کا زبردست فقدان ہے اس لئے وہ ہر کسی قہر یا بَلا کی آڑ میں بھی اپنے ناپاک اور ناجائز حربے آزمانے  میں کوئی عار محسوس نہیںکرتے ہیں،جس کے نتیجہ میں عام لوگوں کو درپیش مشکلات اور مسائل میںدن بہ دن اضافہ ہوتا ہے۔الغرض جہاں ہماری سرکاری انتظامیہ میں نااہلی ،کورپشن اور بد عنوانیاں عروج پر ہیں وہاں معاشرے کے زیادہ تر تاجر ،دکاندار اورکاروباری حلقے بددیانتی ،ناجائز منافع خوری اور خود غرضی جیسی موذی امراض کا شکار ہیں۔زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا بیشتر حصہ خواہشاتِ نفس کا پجاری بنا ہواہے اور ہر کوئی ایک دوسرے کو دھوکے،فریب ،مکاری اور عیاری سے لوٹنے اور نوچنے میںسرگرم ِ عمل ہے۔چنانچہ یہاں کے بڑے تاجر ،تھوک کاروباری حلقے اور دکاندار اشیائے ضروریہ کی جو قیمتیںاز خود مقرر کرتے ہیں ،حکومت اورمتعلقہ حکام کو بالکل یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ تاجروں کی طرف سے جو قیمت مقرر کی جارہی ہے ، وہ کس حد تک مناسب ،معقول اور جائز ہے۔اگر یہ بات نہیں تو پھر لازمی طور پر یہی کہا جاسکتا ہے اور جس کی عوامی حلقے تصدیق بھی کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ تاجروں اور متعلقہ حکام کے باہمی ملی بھگت سے ہی ہورہا ہے۔جس کی وجہ سے کشمیر میں قیمتوں کا ڈھانچہ ایک سطح پر نہیں رہتا۔قیمتوں میں مسلسل اور بے تحاشا اضافے کی وجہ سے عوام جب بھی شکایات کی آوازیں بلند کرتی ہیں وہ ہمیشہ صدا بہ صحرا ثابت ہوتی ہیں۔ اِن دنوںجہاں انتظامیہ کے اعلیٰ و ادنیٰ اہلکاروں نے اپنے چہروں پر ماسک چڑھائے ہوئے ہیں وہیں بڑے بڑے تاجروں اور دکانداروں نے باقاعدگی سے ماسک پہننا شروع کردیئے ہیںچنانچہ یہ گران فروش انتظامی اہلکاروں کو شائد نظر نہیں آتے اور ماسک کی آڑ میں اپنے ہی معاشرے کے افراد کو لوٹنے کی کاروائیوں میںمصروف ِ عمل ہیں۔اس لئے اْنہیں کوئی بْرا بھلا کہے بھی تو اْن کا کیا جاتا ہے ،وہ تو ماسک پہنے ہوئے ہیں۔خیر!
 موجودہ ریاستی انتظامیہ اگر اپنے دعووں کے تحت عوام کو راحت دلانے کے لئے کسی عزم کا اعادہ کرچکی ہے تو اُسے چاہئے کہ سب سے پہلے وہ درست حکمت عملیوں ،پالیسیوںمیں تسلسل اور فیصلوں پر موثر و ٹھوس عملدرآمد کے نظام کی کوئی عملی صورت سامنے لائیںتاکہ سرکاری مشینری میں روایتی کورپشن ،تساہل اور غفلت کی پالیسی کا خاتمہ ہوجائے۔ورنہ یہ کہنے میں کو ئی عار یا قباحت نہیں کہ سرکاری انتظامیہ محض ایک تماشائی کا رول نبھا رہی ہے جبکہ انتظامیہ کے اس طرزِ عمل سے یہ بات بھی نمایاں ہوتی ہے کہ وہ ناجائز منافع خوروںکی طرف سے جاری ناجائز اور ناپاک حربے کی حوصلہ افزائی کررہی ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ وہ اس سلسلے میں آج تک کوئی ٹھوس قدم اُٹھانے سے ہچکچارہی ہے اورغریب عوام کو اُن کے رحم و کرم پر چھوڑ رہی ہے؟۔
 

تازہ ترین