تازہ ترین

افسانچے

تاریخ    29 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر نذیر مشتاق

بڑا آدمی

خواجہ صاحب میں نے آپ کی بیٹی کے لیے اتنے رشتوں کا انتخاب کیا مگر کوئی بھی رشتہ آپ کو پسند ‌نہیں آیا۔ آخر آپ اپنی نازنیں بیٹی کے لیے کیسا رشتہ چاہتے ہیں۔۔۔۔۔عبدل جبار ثالث نے خواجہ سلطان شیخ سے کہا۔۔۔
مجھے کوئی بڑا آدمی بہت بڑا آدمی چاہیے۔ یہ ڈاکٹر انجینئر، پروفیسر رایئٹر ،آرٹسٹ، شاعر، موسیقار اور سرکاری ملازم وغیرہ میرے کسی کام کے نہیں۔۔۔ کوئی بڑا آدمی ڈھونڈ یئے جبار صاحب کوئی بہت بڑا آدمی۔۔۔۔۔۔
ہوں، آپ کو بڑا بہت بڑا آدمی چاہیے۔۔۔میری نظر میں ایک بہت بڑا آدمی ہے  اس‌کے پاس چار شاپنگ مال ہیں۔ ایک جوس فیکٹری ہے ااور وہ ڈرگس کا ‌کاروبار کرتا ہے۔۔۔
ہاں۔۔! خواجہ نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا۔ اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے۔۔۔۔اس بڑے آدمی کے بارے میں تفصیل سے سب کچھ بتاؤ۔۔۔۔۔۔۔
اس کی عمر ‌پچاس سال ہے۔ ۔   اس کے چہرے پر چیچک کے داغ ہیں سر پر ایک بھی بال نہیں ہے اور اور۔۔۔۔ وہ ‌ہر رات شراب نوشی کرتا ہے۔۔
بڑا آدمی شراب نہیں تو کیا لسی پئے گا۔ رہا سوال عمر کا تو کوئی بات‌نہیں۔بڑے لوگ اسی عمر میں شادی کرتے ہیں۔ سر پر بال نہیں تو کیا ہوا، وگ لگایا کرے گا اور چہرے کی پلاسٹک سرجری کروائے گا، بڑا آدمی جو ہے۔۔۔خواجہ نے ایک ہی سانس میں کہا۔ 
تو کیا میں رشتہ پکا سمجھوں۔۔۔۔جبار نے کہا۔
نازنیں کے لیے اس سے اچھا رشتہ کہاں ملے گا۔ اتنی دولت ہے اس کے پاس۔۔۔۔۔۔۔ اور کیا ‌چاہیے۔۔۔تم کل جاکر بات پکی کرلو۔۔۔۔خواجہ نے سگریٹ کا لمبا کش لگاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔
عین اسی وقت پردے کے ‌پیچھے سے نازنیں ظاہر ہوئی اور کمرے کے وسط میں آگئی باپ کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔مجھے یہ رشتہ کسی بھی صورت میں منظورِ نہیں۔ میں اپنی مرضی سے‌کسی اعلی تعلیم یافتہ اور اپنے ہم ‌عمر نیک سیرتِ خوب رو نوجوان سے شادی کروں گی ۔۔۔
 

گیت

خواجہ عاشق بہزاد امانی نے وہ ہفت رنگی چڑیا بہت زیادہ رقم دیکر خرید لی کیونکہ وہ سریلے گیت گاتی تھی اور خواجہ کو پرندوں کے گیت بہت پسند تھے۔
ٹوٹے پھوٹے لوہے کے پنجرے سے نکال کر خواجہ نے اسے ایک چاندی کے پنجرے میں رکھوایا اور دانے پانی کے لئے ٹوٹی پھوٹی مٹی کی پیالیوں کی جگہ چاندی کی کٹوریاں رکھوادیں
مگر چڑیا نے کوئی گیت نہیں گایا۔۔۔خواجہ نے چاندی کے پنجرے کی جگہ سونے کا پنجرہ لاکر چڑیا کو اس میں رکھوایااور اس کے ننھے ننھے پیروں میں انمول ہیرے سجا دیئے۔ دو نوکروں کو اس کی نگہداشت کے لیے رکھا۔
چڑیا کو حویلی کے سب سے بڑے ہال میں رکھا گیا مگر چڑیا نے کوئی گیت نہیں گایا۔خواجہ کے کان چڑیا کا گیت سننے کے لئے ترس رہے تھے۔ ایک دن وہ چڑیا کے نزدیک گیا اور چڑیا سے کہا۔۔۔اب توکوئی سریلا گیت سنا۔۔۔۔چڑیا  خاموش رہی۔ اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو ٹپکنے لگے۔
خواجہ کا دل بھر آیا اس نے پنجرے کا دروازہ کھول کر چڑیا کو ہاتھ میں لینا چاہا کہ وہ پُھر سے اڑ گئی اور پورے ہال کا چکر لگا کر کھڑکی کے ایک پٹ پر بیٹھ گئی اور باہر کی طرف جھانکتے لگی۔آسمان، بادل، درخت، پتے ہوا۔ اس نے سب کچھ دیکھ لیا۔۔۔۔۔۔۔.. وہاں سے اُڑ کر وہ خواجہ کے کاندھے پر بیٹھ گئی خواجہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔‌
اچانک خواجہ کے کانوں میں ایک سریلا گیت گونجنے لگا۔۔
 

ویڈیو

آج وہ اس دن کو کوس رہی تھی جب اس نے اپنی سہیلی سادھنا کے  کہنے پر یہ دھندہ شروع کیا تھا۔ وہ ایک وزیر کے لئے لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر لاتی اور وزیر اُسے ماہانہ اچھی خاصی رقم دیتا۔۔وزیر اس سے کبھی خوش نہیں ہوا۔ وہ ہمیشہ اس سے کہتا، آرتی! تم ہمیشہ بوسیدہ مال لاتی ہو۔ ارے کبھی کوئی حسین شاہکار لاو، ہم خوش ہو کر تمہیں منہ مانگی رقم دیں گے۔۔۔۔آج اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اب وزیر کے لیے کام نہیں کرے گی۔ آج وہ وزیر سے اپنی باقی ماندہ رقم لے گی اور پھر کبھی اُسے اپنا منہ نہیں دکھائے گی اور اپنی سہیلی سادھنا کے ساتھ بھی ناطہ توڑے گی۔۔۔
وہ وزیر کی کوٹھی پر پہنچی تو وزیر نے اس کا‌والہانہ استقبال کیا اور اُسے بیٹھنے کے لئے کہا۔ اس‌کے لئے چائے منگوائی۔۔۔وزیر بہت خوش تھا ۔۔۔اس نے سوچا۔ یہی موقع ہے وزیر سے رقم کا مطالبہ کیا جائے۔۔۔قبل اس کے وہ کچھ کہتی وزیر نے سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے کہا، آرتی۔۔۔۔
جانتی ہو جو تم نہیں کر سکی وہ تمہاری سہیلی سادھنا نے کر دکھایا۔۔۔۔اس نے میرے لیے ایک حسین شاہکار لایا۔ میں اس لڑکی کے ساتھ گزارے ہوئے پل زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔۔۔ ویڈیو دیکھو اور ‌‌آیندہ ایسے ہی شاہکار لایا کرنا۔۔۔۔وزیر نے فون اس‌کی طرف بڑھایا 
ویڈیو دیکھتے ہی اس کے حلق سے ایک چیخ نکل گئی
رادھا میری بیٹی۔۔۔۔۔۔۔۔
 

بدلہ

پوری رات تمہارا بدن بخار سے تپ رہا تھا۔ تم بار بار چھینک رہے تھے، کھانس رہے تھے اور ‌ہانپ رہے تھے۔ اس کے باوجود تم میرے ہونٹوں،نتھنوں اور آنکھوں کو دیوانہ وار چوم رہے تھے۔۔۔۔کال گرل لولینا نے ایک رات کے خریدار شیو رام ڈکوریا سے کہا ۔
یوں سمجھو کہ  میں نے تم سے اس رات کا بدلہ لیا جب تم میرے بلاوے پر  میری کوٹھی پر نہیں آئی۔ میں نے ایک دوست کے ساتھ شرط لگائی تھی کہ تم کسی بھی صورت میں آئوگی تم نہیں آئی اور مجھے دوست کے سامنے زلیل ہونا پڑا۔شیو رام نے کال گرل سے کہا جو تولیہ سے سر کے بال خشک کر رہی تھی۔۔۔۔شیو کمار نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا،
مجھے کل ہی
 پتہ چلا کہ میں کووڑ پازیٹیو ہوں اس لیے سوچا کہ تمہیں بھی اپنے ساتھ لے ڈوبوں۔۔۔شیو رام نے ہلکا سا قہقہ لگایا۔۔۔۔۔۔ ۔۔شکریہ دوست۔ بہت بہت شکریہ تم نے مجھ سے بدلہ لے لیا اچھا اب میں چلتی ہوں ڈاکٹر کے پاس جانا ہے۔۔۔لولینا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
 کچھ دنوں کے بعد کووڑ ٹیسٹ ضرور کروانا  پازیٹیو ہوگا۔۔شیو کمار نے سگریٹ سلگاتے ہوے کہا۔
لولینا نے اپنا بیگ اٹھایا اور دروازے کی طرف جاتے ہوئے اچانک رک گئی مڑ کر دیکھا اور کہا۔کووڑ سے تو میں پہلے ہی لڑ چکی ہوں اب تو پرابلم کچھ اور ہے۔۔۔۔کیا بتاوں۔۔ایک لمبی سرد آہ بھرتے ہوئے اس نے کہا
دو دن پہلے۔۔۔خون کے کچھ ٹیسٹ کروایئے تھے کل ڈاکٹر نے فون کیا پتہ چلا کہ۔۔۔میں ایچ آی وی/ایڑز پازیٹیوہوں۔ ۔۔۔۔۔۔
 
 
ہمدانیہ کالونی بمنہ سرینگر،موبائل نمبر; 9419004094