تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    27 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


پیکنگ والے ذبح شدہ مرغوں کی خرید و فروخت

مشینی ذبیحہ کی حِلت کے لئے شرعی ضوابط پورے ہونے ضروری

حلال سرٹفکیٹ جاری کرنے والے ادارے کے متعلق معلومات حاصل کرنا اہم

سوال  :  پولٹری چکن کا استعمال آج کل جتنا زیادہ ہورہا ہے ،وہ سب پر واضح ہے۔بڑے بڑے ہوٹلوں ،ریستورانوں،شادی بیاہ کی تقریبات اور فاسٹ فوڈ کا بزنس کرنے والے ادارں جن میں کئی برانڈڈ نام بھی ہیں،میں فارم کے مرغے ہی استعمال ہوتے ہیں۔یہ مرغے یا تو مقامی مرغ فروشوں سے ذبح کراکر لائے جاتے ہیں یا پھر پیکنگ کی صورت میں دستیاب ہیں۔ظاہر ہے کہ بڑے بڑے فنگشنوں میں ،بڑے بڑے ہوٹلوں میں اور فاسٹ فوڈ کے مراکز میں مقامی ذبح شدہ مرغے کم استعمال ہوتے ہیں ،اس لئے کہ جتنی ضرورت ہوتی ہے اُتنی مقدار میں مقامی مرغ فروش مہیا نہیں کرسکتے ہیں۔ایک ایک ہوٹل میں روزانہ سینکڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔برانڈڈ سینٹروں میں جانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اسی طرح شادیوں کی بڑی تقاریب میں جہاں سینکڑوں مرغے درکار ہوتے ہیں وہاں بھی مقامی ذبح خانوں سے ضرورت پوری نہیں ہوتی۔اس لئے باہر کے ذبح کئے ہوئے مرغے ہی استعمال کرنا ناگزیر بن جاتا ہے،اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ۔اب باہر سے آنے والے مرغے جو ذبح کئے ہوئے ہوتے ہیں ،اُن پر حلال کی چٹ بھی لگی ہوئی ہوتی ہے جو بظاہر مسلمانوں کے لئے ہوتی ہے کہ وہ مطمئن رہیں۔اس ساری صورت حال کو مدنظر رکھ کر کشمیر عظمیٰ میں اس کا مفصل جواب آنا ضروری ہے کہ ان کا استعمال کس حد تک صحیح ہے؟
اس بڑے مسئلہ کے بہت سارے پہلو ہوسکتے ہیں ،اس لئے اُمید ہے کہ جامع جواب سے اہلِ کشمیر کو صحیح اور مکمل رہنمائی ملے گی ۔
ڈاکٹر محمد عادل ۔برزلہ باغات سرینگر
۔۔۔۔۔۔
جواب  :اسلام نے گوشت کے استعمال کے لئے مخصوص ضوابط اور اہم شرائط مقرر کئے ہیں۔اُن میں سے ایک یہ کہ جانور حلال ہو اور حلال جانور کون کون سے ہیں،یہ فہرست قرآن و حدیث سے ثابت اور واضح ہے۔اُن میں مرغے بھی ہیں۔دوسری شرط یہ ہے کہ باقاعدہ شرعی اصولوں کے مطابق وہ جانور ذبح کئے گئے ہوںاور شرعی ذبح کے لئے اللہ، جو تمام مخلوقات کی طرح ان جانوروں کا بھی خالق ہے، کا نام لے کر جانور ذبح کیا جائے۔ذبح کے وقت کن کلمات کے پڑھنے کے ساتھ جانور ذبح ہوتا ہے وہ ہر مسلمان ضرور جانتا ہے،وہ ’بِسمِ اللہ اللہ ُ اکبر‘ہے۔تیسری شرط یہ ہے کہ ذبح کرنے والا مسلمان ہو ۔چوتھی شرط یہ ہے کہ جس جانور کو ذبح کیا جارہا ہو، وہ ذبح کے وقت زندہ ہوں۔اگر وہ پہلے ہی مرچکا ہو تو پھر ذبح کا عمل شرعی ذبح نہیں بن سکے گا ،وہ صرف گَلا کاٹنے کا عمل ہوگا ۔ان شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی اگر نہ پائی گئی تو وہ ذبح شدہ جانور حلال نہ ہوگا ۔قرآن کریم نے صاف صاف فرمایا ہے کہ اُن جانوروں کا گوشت مت کھائو جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ۔(سورہ انعام)
ذبح کرنے کا عمل ہمیشہ سے سادہ تھا اور وہ یہ کہ ذبح کرنے والا مسلمان نیت پڑھ کر حلال جانور کے حلق پر چھُری چلا دیتا ہے اور حلق کی چار رگوں کو کاٹ دیتا ہے ،جس سے جانور کا سارا خون نکل جاتا ہے ۔اس لئے کہ خون پینا طرح طرح کی بیماریوں کا سبب ہے ،انسانی معدہ خون کو ہضم کرنے والا نہیں ہے جیساکہ طبی طور پر یہ طے شدہ حقیقت ہے ۔سادہ طور پر ذبح کرنے کا یہ عمل ہمیشہ سے ہے ۔جدید ترقی یافتہ دور میں طرح طرح کے وسائل کے ساتھ مشینی ذبح کا سلسلہ پوری دنیا میں رائج ہوا ،اس لئے اسلام اور مسلمانوں کے لئے بھی یہ سوال پیدا ہوا کہ مشینوں سے اگر حلال جانور ذبح کیا گیا ہو تو وہ شرعی ذبح ہوگا یا نہیں۔اس سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ مشینی ذبح کے پورے نظام کو سمجھا جائے اور پھر اس ذبح کے عمل کو شرعی ضوابط سے جانچا جائے ۔اگر وہ پورا عمل شرعی ضوابط کو پورا کرتا ہو تو وہ مشینی ذبح حلال ہوگا ۔شرعی ضوابط میں جانور کا حلال ہونا ،ذبح کے وقت اُس کا زندہ ہونا،ذبح کرنے والے کا مسلمان ہونا،ذبح کے وقت نیت پڑھنا لازمی شرائط ہیں۔مشینی ذبیحہ میں یہ تمام شرائط پائی جاتی ہیں یا نہیں ۔ظاہر ہے اس کا صحیح فیصلہ مشاہدہ اور معائینہ کے بعد ہی ہوگا ۔
سردست باہر سے آنے والے Chikanکے متعلق سوال ہمارے سامنے ہے۔اس کے لئے یہ امور غور طلب ہیں ۔کیا باہر سے آنے والے ذبح کئے ہوئے مرغے ہاتھوں سے ذبح کئے ہوئے ہیں یا مشینوں سے ،اگر ہاتھوں سے ذبح ہوئے ہیں تو وہ ذبح کرنے والے مسلمان ہیں یا غیر مسلم ۔اگر مسلمان ہیں تو کیا وہ نیت پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں یا اس میں غفلت کرجاتے ہیں۔اگر مشین سے ذبح کئے گئے ہیں تو مرغے مرے ہوئے یا بے ہوش تھے یا زندہ باہوش ،اگر زندہ ہوش میں تھے تو مشین چلانے والا جو بیک وقت بہت سارے مرغوں کو لمبے بلیڈ سے بٹن دباکر ذبح کرتا ہے ،وہ مسلمان ہے یا غیر مسلم۔اگر مسلمان ہے تو وہ ہر ہر لاٹ پر بسمِ اللہ اللہ اکبر پڑھتا ہے یا نہیں۔مشینوں کے ذبح میں نیت پڑھنے کے کتنے طریقے رائج ہیں اُن میں سے کون سا طریقہ شرعاً قابل ِ اعتماد اور درست ہے،یہ بھی طے کرنا ضروری ہے۔کیا ان امور کی مکمل تحقیق اور توثیق کے بغیر باہر سے آنے والے ذبح شدہ مرغے حلال قرار دئے جائیں۔
جواب یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔ذبح شدہ مرغے فراہم کرنے والی کمپنیاں حلال کی چِٹ چسپاں کرتی ہیں ،اس حلال کی سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والی شخصیت یا فورم یا ادارے کے متعلق جب تک تحقیقی معلومات نہ ہوں تب تک صرف حلال لفظ چسپاں کرنا کافی نہیں۔پھر جو فرد یا ادارہ یہ حلال سرٹیفیکیٹ اجراء کرتا ہے ،وہ اسلامی ذبیحہ کی تمام شرائط پورا کرنے کے وعدہ کے بعد ہی سرٹیفیکیٹ جاری کرتا ہوگا ،لیکن پھر سوال یہ کہ کیا اس بات کی ضمانت دی جاسکتی ہے کہ جن شرائط کے پورا کرنے پر یہ حلال سرٹیفیکیٹ مہیا ہوئی اُن شرائط کی پوری طرح پابندی کی جاتی ہے اور ہمیشہ پابندی ہوتی ہے۔اس ساری صورت حال کی بنا پر شرعی حکم یہ ہے۔
(۱) مسلمان خود مقامی طور پر ایک مکمل شرعی ضابطہ کا حامل ذبح خانہ (Slaughter house)قائم کریں جو شرعی اصول ِ ذبح کی پوری طرح پابندی کرے۔
(۲) یہاں کے مسلمان اپنے مستند ذبح خانے سے ہی چکن حاصل کریں۔
(۳) باہر سے آنے والا پیک شدہ چکن یقیناً مشکوک ہے اور اگر اُن پر حلال کی چٹ چپکائی گئی ہے تو کمپنی سے پوچھا جائے کہ یہ حلال کی سرٹیفیکیٹ کس نے دی ہے،پھر اُس ادارے اور فرد سے رابطہ کرکے اس سے تفصیلات پوچھی جائیں کہ کن ضوابط کی پابندی اور کن شرائط کی حد بندی اور کس کس طرح کے مشاہدہ اور آیندہ کس طرح کی یقین دہانی کے بعد یہ سند اجراء کی گئی ہے اور وہ یہ ضمانت کیسے دے پاتے ہیںکہ ذبح خانے کی منتظمہ اُن شرائط کا اہتمام کرتی ہے اور ہمیشہ کرتی ہے۔
(۴) یہاں جو ہوٹل ،قہوہ خانے ،کانتی فروش اور فاسٹ فوڈ فراہم کرنے والے کیفٹیریا ہیں ،اُن مشکوک مرغوں کے بجائے مقامی طور پر حلال شدہ مرغے مہیا کرنے کا عمل اختیار کریںتاکہ مسلمان صارفین کو مشکوک کھلانے کے جرم سے محفوظ رہ سکیں۔
(۵) اگر کسی ہوٹل ،ریسٹورنٹ ،کیفٹیریا یا شادی کی تقریب میں باہر کے مرغے استعمال کئے گئے اور اُن کو حلال چِٹ کی بناء پر اُن کو حلال سمجھا گیا تو اس کے لئے دو صورتیں ہیں؛اگر وہ حقیقت میں بھی حلال تھے تو فروخت کرنے والے ،پکانے والے ،کھلانے والے اور کھانے والے سب بری ہیں ،اُن میں سے کسی پر کوئی گناہ نہیں ہوگا ۔اور اگر وہ حقیقت میں حلال نہ تھے تو اس صورت میں ایسے مشکوک مرغے بیچنے والے اور خرید کر پکانے ،کھلانے والے جرم کرنے والے قرار پائیں گے۔ جو مشکوک چیزیں حلال کے نام پر کھلا رہے ہوںاور ان مرغوں کو کھانے والے بری ہوں گے،اُن پر گناہ نہ ہوگا مگر ان مُردار مرغوں کے کھانے کی نحوست ظلمت اور بُرے اثرات سے وہ لازماً متاثر ہوں گے ۔
(۶) جو لوگ باہر سے آنے والے مرغوں (ذبح شدہ) کی تجارت کرتے ہیں اُن پر شرعاً لازم ہے کہ وہ حلال اور یقیناً حلال مرغے لانے کا ہی اہتمام کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:۱- اگرکسی ماں باپ کی اولاد،خاص کر بالغ بیٹا یا بیٹی ، نافرمانی کے سبب ان کی بدنامی کا باعث بن جائے تو والدین کو کیا کرنا چاہئے؟
سوال:۲-نماز ظہر کی چار رکعت، جو امام صاحب پڑھاتے ہیں ، میں مقتدی کو کیا کرنا چاہئے ۔
عمرمختار…سرینگر 

اولاد نافرمان ہوجائے تو والدین کیا کریں 

جواب:۱-نافرمان اور بدنامی کا باعث بننے والی اولاد کی اصلاح کی ہر ممکن کوشش کی جائے ۔ اُن کو دیندارصالح اور بااخلاق بنانے کی سعی کرنے کے ساتھ بُری صحبت سے دور رکھا جائے ۔ یہ لڑکا ہو تو دعوت کے کام کے ساتھ جوڑ ا جائے تاکہ اُس میں اطاعت والدین کی فرمان برداری کا مزاج پیدا ہو ۔
کوئی بھی انتقامی کارروائی اُس کی خرابی کی اصلاح نہیں بلکہ اُس کے مزید خراب ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔
اصلاحی کتابیں پڑھانے کا اہتمام بھی مفید ہے ۔مثلاً ’’مثالی نوجوان‘‘ ،’’نوجوان تباہی کے راستے پر‘‘ ، ’’عمل سے زندگی بنتی ہے‘‘ اور’’ حیا وپاکدامنی ‘‘ایسے نوجوانوں کے لئے مفید ہیں۔ lTl

نمازِ ظہر میں اقتداء

جواب:۲-امام کی اقتداء میں مقتدی کلمات افتتاح (سبحانک) پڑھے ۔ اگر امام کے تکبیر تحریمہ کے ساتھ ہی مقتدی نے بھی تکبیرتحریمہ پڑھی ہو تو امام و مقتد ی کاافتتاح پڑھانا ایک ہی وقت پر ہوگا ۔ اگر مقتدی تاخیر سے شامل ہوا تو امام کے رکوع میں جانے سے پہلے تک یہ کلمات افتتاح پڑھ سکتے ہیں ۔ یہ حکم ظہر وعصر کی پہلی رکعت میں شرکت کرنے کی حدیث میں ہے جن نمازوں میں جہری قرأت ہوتی ہے اُن نمازوں میں امام کی قرأت شروع کرنے سے پہلے پہلے افتتاح (کنجی)پڑھیں ۔ امام کے قرأت شروع کرنے کے بعد نہیں ۔ lTl