روشنی ایکٹ کے مستفیدین کے ناموں کے اظہارکے بعد

اراضی کی واپسی کیلئے حکمت عملی پر کام جاری

تاریخ    26 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


مکیت اکملی
سرینگر//روشنی اسکیم کے تحت زمین حاصل کرنے والوں کے نام ظاہر کرنے کے بعد جموں کشمیر حکومت اس اراضی کو واپس حاصل کرنے کیلئے آئندہ حکمت عملی ترتیب دے رہی ہے۔ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ روشنی اسکیم پر دو رُخی کارروائی جاری ہے ،ایک حکومت عدالت کی ہدایت کی پیروی کررہی ہے اورروشنی اسکیم سے استفادہ حاصل کرنے والے افراد جن میں سیاستدان،افسر،تاجراوربارسوخ افراد شامل ہیں،کے نام اَپ لوڈ کئے جارہے ہیں اور دوسرامرکزی تفتیشی بیورو(سی بی آئی) کی طرف سے اس گھپلے کی تحقیقات ہورہی ہے اوراب تک سی بی آئی نے اس سلسلے میں سات ایف آئی آردرج کئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نام ظاہر کرنے کے علاوہ حکومت تجاوزکرنے والوں کوہٹانے کی عدلیہ کی ہدایت پربھی عمل کرنے کیلئے حکمت عملی ترتیب دے رہی ہے ۔روشنی ایکٹ کے تحت کئے گئے تمام انتقالات منسوخ کئے گئے ہیں۔ایک بیان میں جموں کشمیر حکومت نے کہا کہ پرنسپل سیکریٹری محکمہ مال ایسی اراضی سے قابضین کو ہٹانے کیلئے قواعدوضوابط ترتیب دیں گے اورچھ ماہ کے اندر ریاستی اراضی کوواپس حاصل کیاجائے گا۔پرنسپل سیکریٹری مال  منسوخی کے بعدان زمینوں کے عوض حاصل کی گئی رقومات کی ادائیگی کیلئے بھی قواعد ترتیب دیں گے۔یکم نومبر کومرکزی زیرانتظام علاقے کی انتظامیہ نے روشنی ایکٹ کے تحت اراضی کے تمام انتقالات کومنسوخ کیاجس کے تحت2.5لاکھ ایکڑزمین موجودہ قابضوں کو منتقل کی جانی تھی۔ پرنسپل سیکریٹری محکمہ مال سے کہا گیا ہے کہ وہ وہ روشنی ایکٹ کے تحت فراہم کی گئی زمین کو واپس حاصل کرنے کیلئے منصوبہ تیار کریں۔  عدالت عالیہ کے حکم نامہ کے مطابق کل 6لاکھ 4ہزار 602کنال(75,575ایکڑ) ریاستی زمین کو ایکٹ کے تحت مختلف لوگوں کے نام منتقل کیا گیا تھا ۔اس میں 5لاکھ 71ہزار 210کنال ( 71ہزار401) ایکڑ جموں جبکہ 33ہزار392کنال ( یعنی 4ہزار174ایکڑ ) کشمیر صوبے میں ہے۔عدالتی حکم نامہ کے مطابق اثر ورسوخ رکھنے والے افراد کی مکمل نشاندہی بشمول وزراء، ایم ایل سی، بیروکریٹ، سرکاری ملازمین، پولیس افسران، تجارت پیشہ افراد اور انکے رشتہ داروں یا بے نامی جائیداد رکھنے والوں جنہوں روشنی ایکٹ کے تحت فائدے حاصل کئے تھے،  ایک ماہ کے اندر اندر منظر عام پر لائے جائیں گے۔ اس اسکیم کو 28نومبر سال 2018کو ستیہ پال ملک نے ختم کیا ۔بے ضابطگیوں کے الزامات  کے بیچ پورے ایکٹ کے خلاف عدالت عالہ سے حکم امتناعی حاصل کیا گیا ۔سال 2014میں آڈیٹر جنرل نے تخمینہ لگایا تھا کہ ایکٹ کے ذریعے سال 2007سے لیکر سال 2013کے درمیان 76کروڑ روپے مالکانہ حقوق منتقل کرنے سے حاصل کئے گئے۔ ادھر جموں و کشمیر سرکار نے منگل کو روشنی ایکٹ سے فائدہ اٹھانے والے افراد کے ناموں کی تیسری فہرست جاری کی جس میں جموں صوبے سے تعلق رکھنے والے سابق ممبران اسمبلی کے اہلخانہ ، پولیس کے دو سبکدوش افسران، کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ممبر، سرکاری ملازمین اور تجارت پیشہ افراد کے نام شامل ہیں۔ سرینگر میں روشنی ایکٹ کے تحت کرن نگر اور راج باغ میں قائم دو کمرشل بلڈنگیں اوراسکے متصل علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے نام شامل ہیں جنہوں نے معمولی رقم دیکر زمین اپنے نام کرائی تھی۔ جموں میں تیسرے فہرست میں ،کسان، زراعت پیشہ اور تجارت سے وابستہ افراد  کے نام شامل  ہیں۔ 
 
 

حکام نے تازہ فہرست جاری کردی

پی ڈی پی دفتر، سابق وزیر کے رشتہ دار، ریٹائرڈ پولیس افسرقابضین میں شامل 

سید امجد شاہ
 
جموں// صوبائی کمشنر دفترنے بدھ کے روز جموں ضلع کے سنجواں اور چھنی راما میں سرکاری اراضی پر 7 تجاوزات کی تازہ فہرست جاری کردی جس میں پی ڈی پی دفتر، پی ڈی پی رہنما، سابق وزیر کے رشتہ دار، ریٹائرڈ انسپکٹر جنرل آف پولیس اورریٹائرڈ ایس ایس پی بطور قابضین شمار کئے گئے ہیں ۔اس فہرست کو ڈویژنل کمشنر جموں کی سرکاری ویب سائٹ پر اَپ لوڈ کیا گیا ،جس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اراضی پر تجاوزات کی گئی تھی لیکن اسے محکمہ مال کے ریکارڈ میں نہیں دکھایا گیا۔صوبائی کمشنر سنجیو ورما نے کہا’’ہم قانون کے تحت کارروائی کریں گے، لوگوں کو مطلع کیا جائے گا، ہم جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی ہدایت پر کام کر رہے ہیں اور ہائی کورٹ نے ویب سائٹ پر تجاوزات اَپ لوڈ کرنے کی ہدایت دی ہے اور ہم وہی کررہے ہیں‘‘۔ورما نے کہا’’کام جاری ہے، ہم زمینی سطح سے تفصیلات اکٹھا کررہے ہیں، فہرستیں تیار کی جارہی ہیں اور آنے والے دنوں میں ویب سائٹ پر تجاوزات کی مزید فہرستیں اپ لوڈ کریں گے‘‘۔تازہ فہرست کے حوالے سے محکمہ مال نے بتایا کہ سنجواں میں پی ڈی پی کا دفتر تین کنال اراضی پر قائم کیا گیا ہے جو سرکاری اراضی پر محیط ہے اور اس کا محکمہ مال میں اس کاریکارڈ نہیں ہے۔تاہم محکمہ کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ٹوئٹر پر اپنے رد عمل کا اظہار کیا اور کہا’’ گودی گینگ حقائق کی جانچ کئے بغیر اپنے آقا کی خوشی کیلئے کام کررہے ہیں، بصورت دیگر وہ جانتے ہوں گے کہ سرینگر اور جموں دونوں جگہوں پر پی ڈی پی آفس کرایہ پر ہے اور پارٹی کے پاس نہیں ، لوگوں کو گمراہ کرنے پر اس گودی گینگ کو شرم آنی چاہئے‘‘۔پی ڈی پی کے سینئر رہنما اور سابق ایم ایل سی فردوس ٹاک نے اس سلسلے میں کہا’’گاندھی نگر میں کرائے کی عمارت کے علاوہ جموں صوبہ میں پی ڈی پی کا قطعی کوئی دفتر نہیں ہے، علاقائی سیاسی قیادت کو بدنام کرنے کے لئے یونین ٹیریٹری انتظامیہ کی نام نہاد تجاوزات والی اراضی کی عکاسی ایک اور کوشش ہے‘‘۔پی ڈی پی دفتر کے علاوہ محکمہ مال کے حکام نے پی ڈی پی رہنما طالب چودھری کے نام کا بھی ذکر کیا ہے۔فہرست کے مطابق طالب نے چھنی رامامیں 2 کنال اراضی پر تجاوزات کیں، جبکہ کانگریس پارٹی کے ایک سابق وزیر کے رشتہ دارنے سنجواں میں 2 کنال اراضی پر قبضہ کیا ہے۔اس فہرست میں بتایاگیاہے کہ اسی طرح سے ایک ریٹائرڈ آئی جی پی ناصر علی نے چھنی راما میں 3 کنال اراضی پر تجاوزات کی ہے جبکہ ایک ریٹائرڈ ایس ایس پی مرزا رشید نے سنجواں میں 3 کنال سرکاری اراضی پر تجاوزات کیا ہے۔ ایک کاروباری شخص حاجی سلطان علی نے سنجواں میں 30 کنال اراضی اورچھنی راما میں ایک کنال اراضی پر تجاوز کیا ہے۔گذشتہ روز صوبائی کمشنر جموں کے دفتر نے تجاوزات کے نام اپ لوڈ کردیئے تھے جس میں نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے نام بھی تجاوزات والوں کی فہرست میں شامل تھے ۔

 

تازہ ترین