۔26نومبر کو کامگاروں کی ملک گیر ہڑتال

۔ 25کروڑ افراد کی شمولیت متوقع

تاریخ    25 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
نئی دہلی//مرکزی تجارتی انجمنوں نے منگلوار کواُمیدظاہر کی کہ26نومبرکی ملک گیرعام ہڑتال،جس کیلئے تیاریاں زورشور سے جاری ہیں، میں 25کروڑ مزدور شرکت کریں گے۔دس مرکزی ٹریڈ انجمنوں ،انڈین نیشنل ٹریڈیونین کانگریس، ہند مزدور سبھا، سینٹرآف انڈین ٹریڈ یونینز،آل انڈیاٹریڈ یونین سینٹر، ٹریڈیونین کارڈنیشن سینٹر،سیلف ایمپلائیڈوومنزایسوسی ایشن،آل انڈیا سینٹرل کونسل آف ٹریڈ یونینز،لیبر پروگریسیوفیڈریشن اوریونائیٹڈٹریڈیونین کانگریس نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔مشترکہ پلیٹ فارم میں آزاد فیڈریشنزاورانجمنیں بھی ہیں۔مشترکہ فورم نے بیان میں کہا ،’’26نومبر کی کل ہند ہڑتال کیلئے تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں۔ہمیں اُمید ہے کہ اس بار اس ہڑتال میں25کروڑ مزدور حصہ لیں گے۔اس دوران بھارتیہ جنتاپارٹی طرفدار بھارتیہ مزدورسنگھ نے اس بات کو واضح کیاہے کہ وہ اس ہڑتال میں شامل نہیں ہوں گے۔ایک بیان میں منگلوارکوبھارتیہ مزدورسنگھ نے کہا،’’اس بات کی وضاحت کی جاتی ہے کہ بھارتیہ مزدور سنگھ اور اس کے یونٹ 26نومبر کی ہڑتال جس کے پیچھے سیاسی محرکات ہیں ،میں شامل نہیں ہوں گے ۔ادھردس سینٹرل ٹریڈ یونینوں کے نمائندوں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں 26نومبر کی ملک گیر ہڑتال کیلئے کئے جارہے انتظامات پر اطمینان کااظہار کیا ہے ۔مشترکہ بیان میں کہاگیا ہے کہ آزادسیکٹروں کی فیڈریشنوں اور مرکزی وریاستی ملازمین کی انجمنوں نے اکثر مقامات پرہڑتال کی نوٹس دی ہے ،اسی طرح نجی سیکٹر میں چھوٹے اوربڑے صنعتی یونٹوں نے اس سلسلے میں ملک کے اکثرحصوں میں نوٹس دیئے ہیں ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسکیم ورکر،گھریلوں ورکر،تعمیراتی مزدور،بیڈی ورکر،خوا نچہ فروشوں،ہاکروں ،زرعی مزدوروں اورشہری ودیہی بھارت میں خودروزگارکمانے والوں نے فیصلہ کیا ہے کہ سڑکوں پرآکر ’چکہ جام ‘کریں گے۔بیان میں مزیدکہا گیا ہے کہ متعددریاستوں میں ٹیکسی اورآٹوڈرائیوروںنے بھی اُس دن ہڑتال کرنے کافیصلہ کیا ہے۔فیڈریشن آف ریلویزاوردفاعی ملازمین نے فیصلہ کیا ہے کہ اُس دن اس ہڑتال اورانجمنوں کی مانگوں کے ساتھ یکجہتی کااظہار کرنے کیلئے بڑے پیمانے پرمتحرک ہوں گے۔ کسانوں انجمنوں کے متحدہ فرنٹ نے بھی مزدوروں کی اس عام ہڑتال کی حمایت کرنے کیلئے دیہی علاقوں میں مزدوروں کے ساتھ یکجہتی کااظہار کرنے کافیصلہ کیا ہے ۔ٹریڈ یونینوں نے کسان انجمنوں کے متحدہ فرنٹ کے  26-27نومبرکے’پارلیمنٹ چلو‘مارچ کی مکمل حمایت کی ہے اوراس کیلئے ملک بھر میں ورکروں کو متحرک کیاجائے گا۔  ہڑتال کی مانگوں میں7500روپے ماہانہ نقدی کی فراہمی ٹیکس نادہندہ کنبوں کیلئے اورضرورت مندوں کو ماہانہ10کلو مفت راشن فی نفرشامل ہے۔ انجمنوں نے منریگا(دیہی روزگارضمانتی اسکیم)میں توسیع کابھی مطالبہ کیا ہے تاکہ ایک سال میں200کام دن اضافی مزدوری پردیہی علاقوں میں فراہم کئے جائیں اورشہری علاقوں تک بھی روزگار ضمانتی اسکیم کوتوسیع دینا۔انجمنوں نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ تمام کسان مخالف قوانین اورمزدور مخالف قوانین کو واپس لیں اور مالی شعبہ سمیت پبلک سیکٹر کی نج کاری پر روک لگادیں اورریلویز،دفاعی کارخانوں ،بندرگاہوں وغیرہ کوکارپوریشنوں میں تبدیل کرنے کوروک دیں۔انہوں نے سرکاری اور پبلک سیکٹر اداروں کے ملازمین کی زبردستی سبکدوشی کے ’’کالے قانون‘‘کوواپس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔انجمنوں کی دیگر مانگوں میں ’سب کیلئے پنشن ‘نیشنل پنشن اسکیم کوکالعدم کرنااور پہلے کی ایمپلائز پنشن اسکیم1995کو بحال کرناشامل ہے۔
 

تازہ ترین