نئے بجلی کٹوتی شیڈول کی تیاریاں

بغیرمیٹر علاقوں میں6سے7.5گھنٹے اورمیٹر والے علاقو ں میں 4سے4.5گھنٹے بجلی بند رہے گی

تاریخ    25 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر // بجلی کی آنکھ مچولی کے بیچ محکمہ پی ڈی ڈی نے نئے بجلی کٹوتی شیڈول کی تیاریاں شروع کر دی ہیں اور آئندہ کچھ روز میں نئے شیڈول کے تحت صارفین کو بجلی فراہم کی جائے گی ۔محکمہ کے ایک عہدیدار  نے بتایا کہ نئے شیڈل جس کو آئندہ چند روز میں لاگو کیا جائے گا،کے مطابق میٹر کے بغیر علاقوں میں6سے7.5گھنٹے اور میٹر لگے علاقوں میں4سے4.5گھنٹے بجلی مصروف ترین اوقات کے دوران بند رہے گی ۔محکمہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ پچھلے برسوں کے مقابلہ میں اس سال بجلی کی کھپت میں کافی اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے محکمہ بجلی کٹوتی میں اضافہ کرنے پر مجبور ہوا ہے ۔محکمہ بجلی کے مطابق امسال لوگوں کی جانب سے زیادہ بجلی کا استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ الگ الگ کمروں میں بیٹھ کر لوگ الگ الگ حرارتی آلات کا استعمال کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ محکمہ بجلی کٹوتی میں اضافہ کرنے میں مجبور ہو گیا ہے ۔معلوم رہے کہ محکمہ بجلی نے 7نومبر کو ایک بجلی شیڈول جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ میٹر والے علاقوں میں 2اور بغیر میٹر  علاقوں میں مصروف ترین اوقات کے دوران 4گھنٹے بجلی بند رکھی جائے گی ۔اس دوران یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس سے زیادہ بجلی کٹوتی نہیں ہو گی لیکن صرف کچھ ہی دن گزرنے کے بعد ہی محکمہ نئے بجلی کٹوتی شیڈول کی تیاریاں کر رہا ہے ۔چیف انجینئر کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (کے پی ڈی سی ایل) ، اعجاز احمد ڈار نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ وادی میں بجلی کی کھپت میں کافی زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم یہ چاہتے تھے کہ محکمہ بجلی صارفین کو پرانے بجلی شیڈول کے مطابق ہی بجلی سپلائی فراہم کرے گا تاہم مصروف ترین اوقات کے دوران بوجھ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ کی انتھک کوششوں اور گراؤنڈ چیکنگ کے باوجود بھی صارفین گرمی کیلئے زیادہ الات کا استعمال کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چونکہ مجموعی طور پر بوجھ میں اضافہ ہوا ہے ہم نے اس بوجھ کو کم کرنے کیلئے کٹوتی شیڈول کے اوقات میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ بجلی کی غیر متوقع کٹوتی سے بچا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ میٹر والے علاقوں میں پچھلے بجلی شیڈول کے مقابلے میں ایک گھنٹہ اور نان میٹر علاقوں میں 2گھنٹے اضافہ ہو سکتا ہے اورہم اگلے 2 سے 3 دن میں نئے شیڈول پر عمل درآمد کریں گے اور اگر صارفین تعاون کریں گے تو بجلی کٹوتی میں کمی بھی کی جا سکتی ہے ۔اعجاز احمد ڈار نے کہا کہ وادی میں کئی ایک ریسیونگ سٹیشن اور گرڈ سٹیشن اورلوڈنگ کی وجہ سے ٹرپ ہو رہے ہیں اور اگر صورتحال یہی رہی تو آنے والے وقت میں بجلی ریسیونگ سٹیشنوں اور گریڈ سٹیشنوں کو نقصان ہو سکتا ہے ۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ سرما کے دوران زیادہ حرارت پیدا کرنے والے آلات کا استعمال نہ کریں ۔محکمہ کے ایک اعلی افسر نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال سرما میں  2200 میگاواٹ بجلی کی ضرورت پڑھ رہی ہے، جبکہ محکمہ بجلی کی مجموعی صلاحیت 1450 میگاواٹ ہے۔ 
 

تازہ ترین