تازہ ترین

غیر قانونی قابضین کی فہرست جاری

روشنی ایکٹ کے تحت لین دین میں آنے والی اراضی اور تجاوزات

تاریخ    25 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک

 جموں میں فاروق عبداللہ کا مکان بھی شامل

 
جموں //جموں کشمیر انتظامیہ نے ایک فہرست جاری کی ہے جس میں روشنی ایکٹ کے تحت مستفیدہونے والوں کے نام شامل ہیں جبکہ ایک اور فہرست میں روشنی ایکٹ کے علاوہ غیرقانونی طورسرکاری اراضی پر قبضہ کرنیوالوں کے نام ظاہرکئے گئے ہیں۔اس فہرست میں کئی سابق وزراء سیاستدانوں،حکام،سابق افسراں،تاجروں اور معروف افراد کے نام شامل ہیں ۔سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کا نام بھی جموں کشمیر انتظامیہ کی اُس فہرست میں شامل ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ اِن کے جموں میں رہائشی مکانات غیرقانونی طور قبضہ میں لی گئی اراضی پر تعمیر کئے گئے ہیں ،جس سے باپ بیٹے نے انکار کیا ہے۔مرکزی زیرانتظام علاقہ کی انتظامیہ نے جموں کشمیر ہائی کورٹ کی ہدایت پر متنازعہ روشنی قانون ،جسے عدالت نے منسوخ کیا ہے،سے مستفید ہونے والوں کی فہرست جاری کی ہے ۔منگلوار کوانتظامیہ نے  روشنی ایکٹ کے تحت مستفید ہونے والوں کے علاوہ اُ ن لوگوں کی فہرست جاری کردی جو اراضی تجاوزات کے مرتکب ہوئے ہیں۔ 
فہرست میں جموں اور سرینگر دونوں مقامات پرنیشنل کانفرنس کے صدر دفاتر بھی شامل ہیں جنہیں روشنی ایکٹ کے تحت قانونی بنایا گیا تھا۔سرکاری ویب سائٹ پرمشتہر کئے گئے فہرستوں میں ایک میں صوبائی انتظامیہ جموں نے دکھایاہے کہ عبداللہ کارہائشی گھر سنجوانی جموں میں قریب ایک ایکٹر رقبے پر ہے ،جوروشنی ایکٹ کے ماسوا غیرقانونی طور قبضہ میں لیاگیا سرکاری زمین ہے (جس پر قبضہ کیا گیا ہے لیکن محکمہ مال کے ریکارڈ میں درج نہیں ہے)۔تازہ فہرست پراپنے ردعمل میں نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمرعبداللہ نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق کے ذرائع کے مطابق روشنی ایکٹ سے مستفید ہونے کی خبر من گھڑت اوربے بنیاد ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان کے دونوں مکانات جموں اور سرینگر کا اِس قانون سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ عمر نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق نے روشنی اسکیم سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا ہے نہ ہی جموں کی رہائش گاہ کیلئے اور نہ سرینگر کی رہائش گاہ کیلئے،جو کوئی بھی ایساکہے گا وہ جھوٹ بول رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ اس کہانی کو ذرائع کے حوالے سے بیان کررہے ہیں کیوں کہ اِن میں کوئی دم نہیں ہے ۔فاروق عبداللہ کاگھر1990میں تعمیر کیاگیا جس کیلئے لکڑی گورنمنٹ دیپوئوں سے حاصل کی گئی جو تمام ریونیوریکارڈ پیش کرنے کے بعد ہی الاٹ کی جاتی ہے ۔اس سے پہلے تین سابق وزراء ،متعدد سیاست دان،اورایک سابق افسر کا نام اُس فہرست میں سامنے آیا جنہوں نے اب منسوخ کئے گئے روشنی ایکٹ سے استفادہ حاصل کیا یاریاستی اراضی پر رہایشی یاتجارتی مقاصد کیلئے قبضہ کیا۔اس فہرست کو جموں اور کشمیر کی صوبائی انتظامیہ  جموں کشمیر ہائی کورٹ کی 9اکتوبر کی ہدایت ،جس میں روشنی ایکٹ کوغیرآئینی اورغیرقانونی قرار دے کر اس کی الاٹمنٹ کی سی بی تحقیقات کاحکم دیا،کے تحت نے جاری کیا۔مستفید ہونے والوں کی پہلی فہرست میں سابق وزیرخزانہ حسیب درابو اور کچھ اعلیٰ پایہ کے ہوٹل مالکان اور ایک سابق افسر شامل ہے ۔صوبائی انتظامیہ کشمیرنے دکھایا ہے کہ نیشنل کانفرنس کاصدردفتر ،کئی ہوٹل اور ایک درجن سے زیادہ تجارتی عمارات جو لال چوک اور گردونواح میں ہیں،کو روشنی ایکٹ کے تحت باضابطہ بنایا گیا ہے۔
مستفیدہونے والوں کی اکثریت میں درابو اور ان کی اہلیہ کاایک کنال اراضی پر مکان،جبکہ کانگریس رہنما کے کے آملہ جو براڈوے ہوٹل کے مالک ہے اورمعروف تاجر مشتاق احمد چایا کاایک گیسٹ ہاوس اور ایک ہوٹل شامل ہے۔یکم نومبر کو مرکزی زیرانتظام علاقہ کی حکومت نے روشنی قانون کے تحت اراضی کے تمام انتقالات منسوخ کئے۔ پرنسپل سیکڑیٹری محکمہ مال سے کہاگیا ہے کہ اس قانون کے تحت سرکاری اراضی کے کثیررقبے کو واپس حاصل کرنے کیلئے منصوبہ مرتب دیں ۔پرنسپل سیکریٹری محکمہ مال ایسی سرکاری زمین پر قابضوں کو ہٹانے کیلئے بھی قواعد ترتیب دیں گے اور چھ ماہ تک ریاستی اراضی کو واپس حاصل کریں گے۔ایک بیان میں حکومت جموں کشمیرنے کہا کہ پرنسپل سیکریٹری محکمہ مال اِن زمینوں کے لئے حاصل کی گئی رقومات کی واپسی کیلئے طریقہ کاروضع کریں گے۔حکم نامے کے مطابق اس ایکٹ سے مستفید ہونے والے بارسوخ افرادجن میں وزراء،قانون سازیہ ارکان،افسر،حکومتی اہلکار،پولیس افسر اورتاجراور ان کے رشتہ داروں کے نام ایک ماہ تک عوام کیلئے مشتہر کئے جائیں گے۔ دستاویزکے مطابق محمدشفیع پنڈت اور اُن کی اہلیہ کے شہر کے اہم مقام پردورہائشی مکانات ہیں ۔مزید دستاویز میں کہاگیاہے کہ کل آٹھ ایکڑ اراضی استفادہ حاصل کرنے والوں کو دی گئی جن میں درابو کے کئی رشتہ دار بھی شامل ہیں ۔جموں میں صوبائی انتظامیہ کی طرف سے دوالگ فہرستیں جاری کی گئیں ۔ایک میں روشنی ایکٹ کے مستفیدین کے نام ہیں جبکہ دوسری فہرست میں سرکاری اراضی پرروشنی ایکٹ کے بغیرغیرقانونی قبضہ کرنے والوں کی تفصیلات دی گئی ہیں ۔ اس میں قبضہ (جو محکمہ مال کے ریکارڈ میں نہیں دکھایا گیاہے)کئے گئے باہو تحصیل میں ساڑھے تین ایکڑسرکاری زمین کے مستفیدین میں سابق وزیرسجاد کچلو(این سی)،عبدالمجیدوانی(کانگریس)،نیشنل رہنماسعیدآخون اوراسلم گونی اور جموں کشمیر بینک کے سابق چیئرمین محمد یوسف خان شامل ہیں۔383افراد پر مشتمل ایک اور فہرست میں  483ایکڑ اراضی کوماریامندریاں تحصیل جموں میں ان کے قبضے میں دکھایا گیا جبکہ854مستفیدین کے قبضے میں جموں جنوب میں370ایکڑ اراضی ہے؎،جبکہ جموں مشرقی میں15دیگر ہیں۔روشنی ایکٹ کے تحت دو سابق ایس پی شیوکمار سنگھ اور منی لال باہو تحصیل کے دس مستفیدین میں شامل ہیں۔فہرست میں سرکاری ملازم ،تاجر شامل ہیں اور کل رقبہ ان کے قبضے میں پانچ ایکڑ سے زیادہ ہے ۔روشنی ایکٹ کے تحت 20.55لاکھ کنال(102750ہیکٹر)اراضی پر قابضوں کو جائیداد کے حقوق دیئے گئے جن میں صرف15.85فیصداراضی کو مالکانہ حقوق دینے کیلئے منظور کیاگیاتھا۔اسکیم کو28نومبر2018 کواُس وقت کے گورنر ستیہ پال ملک نے واپس لیا۔اس کے غلط استعمال کی اطلاعات کے بعد اس قانون کو جموں کشمیر ہائی کورٹ میں چیلنج کیاگیا اور کورٹ نے اس قانون کو منسوخ کیا۔2014میں تاہم کمپٹرولزاینڈآڈیٹر جنرل نے تخمینہ لگایا تھا کہ صرف76کروڑروپے اس اسکیم سے حاصل ہوئے ۔