علامہ اقبال اور حیات وممات کا تصور

اقبالیات

تاریخ    25 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


عمران بن رشید
حیات بعد ِ موت اسلام کا ایک اساسی تصور ہے جس کا پرچار قرآن اور احادیث میں اونچے درجے پر کیا گیا ہے۔ اور ایک انسان اُس وقت تک مومن کا درجہ حاصل نہیں کرسکتا جس وقت تک وہ توحیدِ خالص کے ساتھ ساتھ حیات بعدِ موت پر یقینِ کامل نہ رکھتا ہو۔ یہ بات اظہر من الشمس  ہے کہ ہر ذی حس کو موت کی کڑوی مگر تعین شدہ حقیقت کا سامنا ضرور کرنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:۔’ہر ذی نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے‘‘(سورہ- آلِ عمران- 185 )
حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو دنیاوی زندگی ایک مختصر ساوقفہ ہے کہ جس کے بعد اصل منزل موت اور اور موت کے بعد آخرت کی زندگی ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں رسول اللہؐ کا فرمان ہے کہ اس دنیا میں ایسے رہو جیسے کوئی مسافر کسی جگہ پرپڑاؤ ڈالتا ہے۔ اس فرمانِ رسولؐ سے یہ حقیقت سورج کی مانند واضح ہوجاتی ہے کہ دنیاوی زندگی محض ایک پڑاؤ ہے منزل ہر گز نہیں ہے‘ منزل تو موت ہے جو ہر شاہ و گدا کے لئے مقرر ہے اور تاریخ شاہدِ عادل ہے کہ ازل سے تا ابد قارون‘ نمرود‘  اور سکندرِ اعظم جیسے صدہا لوگ آئے جنہوں نے مظلوم عوام کے خون سے اپنے ظلم و جبر کی تاریخ رقم کی‘ اور جو بام عروج کو چھونے والے قلعوں اور محلوں میں رہا کرتے تھے اور جن کے ارد گرد ہمیشہ لوگوں کا انبوہ رہتا تھا۔ لیکن جب موت آئی تو اِس قدر بے بس اور لاچار نظر آئے کہ تا قیامِ قیامت عبرت بن کر رہ گئے۔ بقول علامہ اقبال۔؎
 سوتے ہیں خاموش ‘ آبادی کے ہنگاموں سے دور
 مضطرب  رکھتی تھی جن  کو آرزوئے  نا صبور
 قبر  کی ظلمتوں میں  ہے اُن آفتابوں کی چمک
 جن کے  دروازوں پہ رہتا تھا جبیں گستر فلک
 کیا یہی ہے اُن شہنشاہوں  کی عظمت کا مآل
 جن  کی تدبیرِ جہاں بانی  سے ڈرتا تھا  زوال
رعبِ فغفوری ہو دنیا میں  کہ  شانِ  قیصری
ٹل  نہیں  سکتی  غنیمِ موت کی  یورش  کبھی 
بادشا ہوں کی بھی  کشتِ عمر کا حاصل  ہے گور
جادئہ  عظمت کی  گویا  آخری منزل  ہے گور
(بانگِ درا/ گورستانِ شاہی)
یہ حقیقت بھی مدِ نظر رہے کہ موت زندگی کا خاتمہ ہر گز نہیں ہے بلکہ موت کے بعد تمام جن وانس کو ایک ایسی زندگی عطا ہونے والی ہے جسے ’’اَبَّدََ اَبَدََ‘‘ یعنی ہمیشہ قائم رہنے والی زندگی کہا جاتا ہے۔ سورہ آل عمران کی آیت جس کا ذکر قبل ازیں گزر چکا‘ میں اللہ تعلیٰ مزید بیان کرتے ہیں:۔’’اور تم کو تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلا تو قیامت ہی کے روز دیا جائے گا۔ تو جو کوئی بچالیا گیا جہنم سے اور داخل کر دیا گیا جنت میں وہ کامیاب ہوگیا‘‘۔(آیت- 185 )
قرآن کے اِن الفاظ سے یہ بات منکشف ہو جاتی ہے کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ موت کے بعد بھی زندگی ہے جو مبنی بر حقیقت ہے۔ اور موت کو زندگی کا خاتمہ تصور کرنا علامہ اقبال کے نزدیک غفلت اور گمراہی کی علامت ہے۔؎
 موت کو سمجھے ہے غافل اختتام زندگی
 ہے یہ شامِ زندگی صبح دوامِ زندگی
پانی پہ تیرتی کشتی جب انسان کی حدِ نظرسے دور نکل جاتی ہے تو انسان سے پوشیدہ ہوجاتی ہے جس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ تو موجود ہوتی ہے مگر انسان کو وہ بصارت میسر نہیں کہ وہ اِس کشتی کو دیکھ پائے۔ علامہ اقبال کے نزدیک یہی معاملہ موت کے بعد والی زندگی کا ہے‘ وہ کہتے ہیں کہ موت انسان کو ہماری نظر سے چھپالیتی ہے نہ کہ فنا کرتی ہے۔؎
 رواں ہے سینئہ دریا پہ اک سفینئہ تیز
 ہوا ہے موج سے ملاح جس کا گرم ستیز
 سبک روی  میں ہے  مثلِ نگاہ یہ کشتی 
 نکل کے ح لقئہ حدِ نظر  سے دور ہوگئی
 جہازِ  زندگی آدمی  رواں  ہے  یونہی
 ابد کے بحر میںپیدا یونہی نہاںہے یونہی
 شکست  سے  یہ کبھی آشنا  نہیں  ہوتا
 نظر سے چھپتا ہے  لیکن  فنا نہیں  ہوتا
بانگِ درا/ کنارِ رووی)
1914 ء میں جب علامہ مرحومؒ کی والدہ ماجدہ امام بی بی کا انتقال ہوا‘ تو اقبال نے مرثیہ کی طرز پر(بلکہ حق تو یہ ہے کہ اُسے شخصی مرثیہ کہنا بہتر ہوگا) ایک خوبصورت فلسفی انداز کی نظم رقم کی۔ نظم کاعنوان’’والدہ مرحومہ کی یاد میں ‘‘ تھا‘ یہ نظم بانگِ درا کے تیسرے حصے میں شامل ہے۔ نظم میں جہاں علامہ نے تقدیر اور فلسفئہ حیات جیسے پیچیدہ اور غور طلب مسائل کو زیرِ بحث لایا ہے‘ وہیں انہوں نے ’’حیات بعدِ موت‘‘ کی حقیقیت کو ایک آسان نکتے کے ذریعے سمجھایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جس طرح انسان کے سونے سے جینے میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا‘ ٹھیک اُسی طرح موت سے زندگی ختم نہیں ہوتی۔؎
زندگی محبوب ایسی دیدۂ قدرت میں ہے
ذوقِ حفظِ زندگی ہر چیز کی فطرت میں ہے
موت کے ہاتھوں سے مٹ سکتا اگر نقشِ حیات
عام یوں  اس کو نہ کر  دیتا  نظامِ کائنات
ہے اگر ارزاں تو یہ سمجھو اجل کُچھ بھی نہیں
جس طرح سونے سے جینے میں خلل کُچھ بھی نہیں
جرمن کے عظیم فلسفی شاعر اور ’’دیوان مغرب‘‘ (West Ostlicher )کے مصنف گوئٹےؔ (Goethe ) نے اپنے آخری لمحات میں موت کے لئے ’’مزید روشنی‘‘ کے الفاظ استعمال کئے تھے۔ اسی تصور کو بنیاد بنا کر ویگے ناستؔ کے نام ایک مکتوب میں اقبال رقمطراز ہیں:۔’’موت مزید روشنی کی طرف ایک نیا راستہ کھول دیتی ہے اور ہمیں اُن مقامات تک لے جاتی ہے جہاں ہم ابدی سچائی کے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں‘‘ ۔…(مکتوب بنامِ ویگے ناستؔ30 جولائی 1913 ء)
یہ مزید روشنی کیا ہے؟ یہ حیات بعدِ موت کی ایک علامت ہے‘ یہ مومن کے حق میں کامیابی اور گلشنِ بہشت کی سیر کی ابتداء ہے‘ یہ خالق و مخلوق کی قربت کا وسیلہ ہے۔ غرض کہ علامہ کا ’’مزید روشنی‘‘ کا یہ تصور حیات بعد موت کے بے شمار گوشوں کا احاطہ ہے۔ اور اقبال نے مزید روشنی کا یہ تصور ’’بانگِ درا‘‘ سے لیکر ’’امغانِ حجاز‘‘ تک تقریباََ اپنی تمام تصانیف میں مختلف لفظیات و مفاہیم کے تحت زیرِ بحث لایا ہے۔
یہ بات بھی غور طلب ہے کہ علامہ اقبال مرحوم کے پورے اردو اور فارسی کلام میں جن موضوعات کو محور کی حیثیت حاصل ہے یعنی جن موضوعات کے ارد گرد عام طور پر انہوں نے اپنا کلام تخلیق کیا ہے اُن میں موت اور حیات بعدِ موت کے موضوعات کو بھی کافی اہمیت حاصل ہے۔ چنانچہ انہوں نے موت کو جو فلسفیانہ رنگت عطا کی ہے وہ اس بات کا بھی بین ثبوت ہے کہ علامہ اقبال غوروفکر اور حکمت کے شاعر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن پر وہ اسرار منکشف ہوئے جن سے اگلے زمانے کے شاعر تو کیا بلکہ عظیم فلسفی اور مفکر بھی ناآشنا رہے۔
رابطہ۔سیر جاگیر سوپور،کشمیر 
فون۔8825090545
 

تازہ ترین