محصولات کی رکاوٹوں سے کچھ نہ ملے گا

صنعتی پالیسی میں مائیکرو انصرام سے پرہیز کریں

تاریخ    25 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر اجیت رناڈے
کسی زمانے میںنوکیا موبائل فون ہینڈ سیٹس میں دنیا کالیڈر تھا۔ اس کاسب سے بڑا مینوفیکچرنگ پلانٹ ہندوستان میں ایک خصوصی معاشی زون کا حصہ کے طور سریپرمبدور میں واقع تھا۔ چھ سال کی مدت میں اس نے500 ملین سے زیادہ ہینڈسیٹ بنائے جن میں سے زیادہ تر برآمد کئے گئے۔ نوکیا بالواسطہ ملازمت سمیت 30ہزار لوگوںکو روزگار دے رہا تھا اور ان میں خواتین ملازمین کا ایک بڑا حصہ تھا۔ نوکیا واقعتا  ہندوستان کو ایک مینوفیکچرنگ ہب بنانے کی عمدہ مثال تھا۔ یہ ایک عالمی برانڈ کے اعلی معیار کی مصنوعات اور اعلی معیار کے روزگار کے لئے ماناجاتاتھا جس نے اس وقت کے برانڈ کو 'میڈ ان انڈیا' میں شامل کیا۔ لیکن ‘میک ان انڈیا’ نعرہ بننے سے بہت پہلے نوکیا پلانٹ بند ہوگیاتھا۔ یہ اب بزنس اسکولوں میں سنڈریلا کی کہانی کے عین مخالف ایک کیس سٹیڈی بن چکا ہے کہ کس طرح ایک کامیاب خواب جیسی کہانی بے سود بن سکتی ہے۔
 یہ خوفناک تفصیلات کے ساتھ ہندوستانی فیکٹری کے انتقال پر بات کرنے کی جگہ نہیں ہے۔ اس کی ذمہ داری کا ایک بڑا حصہ بھارت کے ٹیکس حکام پر جاتا ہے جوحد سے زیادہ جوش دکھا کرٹیکس دہشت گردی اور ٹوٹے وعدوں کی راہ پر چل نکلے۔ الزامات کو نوکیا کی اپنی ناکامی کے سر بھی تھونپنا چاہئے کہ وہ سمارٹ فونوں کی دنیا میں عالمی انقلاب سے نبرد آزما نہ ہوسکے اور اور وہ نتیجہ کے طور پرکم لاگت والے فونوں کی بڑی صلاحیت کے اپنے ہی جال میں پھنس گیا۔صورتحال کا بغور جائزہ لینے کے بعد یہ بجا طور کہاجاسکتا ہے کہ اس اذیت ناک کہانی کا بیشتر حصہ ٹالاجاسکتا تھااور نوکیا وعالمی مارکیٹ کیلئے موبائل فون مینو فیکچرنگ میں بھارت کی بے پناہ صلاحیت کا ایک متبادل اور تابناک مستقبل لکھا جاسکتا تھا ۔
زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم نے نوکیا کی کہانی سے کیا سیکھا ہے؟ ٹیکس لینے والوںکے ضرورت سے زیادہ جوش کی کہانیاںجاری ہیں۔ کارپوریٹ ٹیکس شرح کومشرقی ایشیائی سطحوں تک کم کرنے اور نئی مینوفیکچرنگ سہولیات کے لئے ٹیکس کی شرح15 فیصد سے نیچے کرنے کے باوجود ذہنیت اب بھی کھال کھدیڑنے کی ہے۔ ہندوستان کا ٹیکس نظام بشمول جی ایس ٹی نظام ابھی بھی بوجھل ہے او ریہ مسابقت کو روکتا ہے۔ہم ایپل کوبھارت میں اس کے مشہور فونز بنانے کیلئے اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں، لہٰذا اس پر جشن منایا جاسکتاہے۔ لیکن نوکیا کی جانب سے 100 ملین فون سالانہ پیداوار کے پیمانے کے مقابلے میں ایپل کی پیدوار انتہائی قلیل ہے۔
 ایپل کی کہانی 'پیدوار سے منسلک مراعات سکیم' نامی نظریہ کی وجہ سے کامیاب رہی جو پیدوار کی شرح کے حساب سے مراعات دیتی ہے۔اس کو 13سیکٹروں تک وسعت دی گئی ہے جس میں موبائل فون ، ادویات ، بیٹری سیل ، انسان ساختہ ٹیکسٹائل ، آٹو اجزاء اور شمسی پینل شامل ہیں۔ کل بجٹ میں جانے والا خرچ میںمراعات پر اگلے پانچ سالوں میں تقریبا 2 2 کھرب روپے مختص ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ پی ایل آئی اسکیم کو درآمدی محصولات کے ذریعہ تحفظ حاصل ہے۔یہ ایک پرانے معاشیاتی سکول کی درسی کتاب کا نقطہ نظر ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے آپ محصولات کی دیواریں بڑھاتے ہیں اور اس وجہ سے ایک غیر ملکی کھلاڑی صرف کود کر ہی ہندوستان کی وسیع صارف مارکیٹ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے جس کو ہندوستان میں سرمایہ کاری کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ یہ وہ سبق نہیں جونوکیا یا سری پرمبدور نے ہمیں سکھایا۔ وہ پلانٹ ٹیکس دیواروں کو پھلانگ کر ہندوستان نہیں آیا تھا بلکہ کم لاگت مزدوری اورہنر کے علاوہ خصوصی معاشی زون میں کاروبار کرنے میںآسانی سے راغب ہوکرآیاتھا۔ اگر ہم گھریلو پیداوارکو درآمدی محصولات بڑھا کر فروغ دیتے ہیںتو اس گھریلو خریدار کیلئے قیمت بہت حد تک بڑھ جاتی ہے۔یہ اُن تاجروں کیلئے ا یکسپورٹ ٹیکس کی طرح بھی کام کرتا ہے جو اپنی مصنوعات کوسرنو برآمد کرنے کیلئے درآمد شدہ اجزاء استعمال کرتے ہیں۔
بدقسمتی سے ہندوستان نے2018میں اپنی ا ڑھائی دہائی پرانی ٹیرف کمی کی پیشرفت کو الٹ دیا۔ اُس وقت سے صنعتی مصنوعات پر ہندوستان کی اوسط  درآمدی محصولات 13 فیصد سے بڑھ کر 18 فیصدہو گئے ہیں ، اور اس کا اطلاق تقریبا ً  دس ہزار مصنوعاتی لائنزکے قریب ایک تہائی سے ا ٓدھے تک کیاگیا۔ یاد رکھنا کہ زیادہ درآمدی ڈیوٹی گھریلو اخراجات میں اضافہ کرتا ہے اور یہ حقیقت میںبرآمدی ٹیکس بھی ہیں۔ اضافی طور پر پی ایل آئی اسکیم کا نقطہ نظر فاتحین اور چمپئن کو منتخب کرنا ہے۔ کچھ میں شعبوں سے یہ معنی رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر اعلی درجے کی دواسازی ( API)کیلئے چین پر بھارت کا درآمدی انحصار68فیصد ہے اور اس کو نیچے لانے کی ضرورت ہے۔یہ ایک تذویراتی سیکٹر ہے کیونکہ یہ ہیلتھ سیکٹر میں ہے ۔لیکن بھارت کی مغربی ممالک کو بھاری تعداد میں ادویات برآمد کرنے والے ملک کی حیثیت بھی چین سے اے پی آئیز کی درآمد پر منحصر ہے۔لہٰذا جہاں اے پی آئی کیلئے پی ایل آئی اچھا ہے ۔چین سے انحصاریت ختم کرنے میں کچھ وقت لگے گالیکن عمومی طور پر حکومت کو فاتح اور چمپئن اور ٹیکنالوجی کے آنے والے رجحانات میں چننے کے بزنس میں نہیں ہوناچاہئے۔ سوچئے کہ اگرحکومت کے پاس نوکیا کیلئے 2Gفون سیٹ بہت بڑی مقدار میں بنانے کیلئے پی ایل آئی سکیم ہوتی ،تو وہ متروک ٹیکنالوجی کیلئے ادائیگی کے جال میں پھنس گئی ہوتی اور اگر اس نے اچانک یہ سلسلہ روک دیا ہوتا تو ایک خود مختار وعدہ توڑنے کی بھی مرتکب قرار پاتی۔
برق رفتارٹیکنالوجی کے صنعتی شعبوں میں پیداوار کو فروغ دینے میں ایسے ہی خطرات درپیش ہیں۔پی ایل آئی سکیم کاایک اور خطرہ یہ ہے کہ حکومت بہت سی تفصیلات وضع کرتی ہے اور خود ہی مائیکرو منیج کرنے کی کوشش کرتی ہے۔یہ حکومت کے بیوروکریٹک نقطہ نظر یاسبسڈی کے غلط استعمال کو روکنے میں حد سے زیادہ احتیاطی تدابیراپنانے کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔اس اُوورکیل کی ایک مثال یہ ہے کہ آٹو سیکٹر کے لئے بولی کی دستاویز اُن لوگوں کیلئے187صفحات طویل ہے جو بولی لگانا چاہتے ہیں!تعمیلی لاگت کا آپ خود تصور کریں۔یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اب تک بہت سے بڑے صنعتی کھلاڑیوں نے نہ ہی آٹو اور نہ ہی فارما سیکٹر میں قدم اٹھائے ہیں۔لہٰذاایسی صنعتی پالیسی جوحد سے زیادہ مداخلت پسند،حد سے زیادہ نسخہ دار،فاتحین کو چننے میں حد سے زیادہ اتائولی اور ضرورت سے زیادہ تحفظ پسندی پر مبنی ہو،کامیابی کے بجائے ناکامی کے ساحل سے ٹکرا کر رہے گی۔
بی ایس این ایل کا حالیہ معاملہ عکاس ہے۔اپنے فور جی نیٹ ورک کیلئے چینی سپلائروں کے لئے ایک تصدیق شدہ ٹینڈر سے باہر نکلنے پر مجبور کئے جانے کے بعدبی ایس این ایل کو پتہ چلا کہ نئے بولی دہندگان89فیصد مہنگے ہیں اور اُن کا اتنے بڑے پیمانے پر پیداوار کا کوئی تصدیق شدہ ٹریک ریکارڈ نہیں ہے۔ ایک اور بے ضابطگی شمسی پینلوں میں ہے جہاں ایک طرف ہم 100 گیگا واٹ سولر صلاحیت حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن غیر ملکی سپلائرز پر محصولات کی رکاوٹیں ڈال دی ہیں۔ یہ شمسی توانائی کی گھریلو پیداوار کی لاگت میں اضافہ کرے گا۔یہ ناگزیر ہے کہ بہت ساری شرائط کے ساتھ ہندوستان کی صنعتی پالیسی غیر متوازن اور متضاد بن جائے گی۔بہترین اپروچ یہی ہوگا کہ ہم ایک وسیع پالیسی موقف کے تحت نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو استحکام ، پیش گوئی اور تسلسل فراہم کریں۔ اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو مائیکرو تصریحات کو چھوڑ دیں۔
(ڈاکٹر اجیت رناڈے ایک ماہر معاشیات اورتاکشاشیلہ انسٹی چیوشن کے سینئر فیلو ہیں ۔مضمو ن’ دی بلین پریس‘ کے شکریہ کے ساتھ انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرکے شائع کیاجاتاہے)
 ای میل۔ editor@thebillionpress.org)
������������

تازہ ترین