مزید خبرں

تاریخ    24 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
 

جموں وکشمیر کے 960166درماندہ شہری وطن واپس 

جموں//حکومت جموں وکشمیر نے کووِڈلاک ڈاون کے سبب ملک کے مختلف حصوں میں درماندہ جموںوکشمیر کے 960166 شہریوں کو براستہ لکھن پور اور کووِڈخصوصی ریل گاڑیوں اور بسوں کے ذریعے تمام رہنما خطوط اور ایس او پیز پر عمل پیرا رہ کر واپس پہنچایا گیا۔سرکاری اَعداد و شما ر کے مطابق جموںوکشمیر کے مختلف اَضلاع کی اِنتظامیہ نے ملک کی مختلف رِیاستوں اور یوٹیز سے حکومت نے155کووِڈ خصوصی ریل گاڑیوںکے ذریعے اودھمپو ر اور جموں ریلوے سٹیشنوں پر خیرمقدم کیا ۔حکومت نے لکھن پور کے ذریعے اَب تک بیرون ملک سے948مسافرو ں کو واپس لایا ہے ۔اِس طرح جموںوکشمیر حکومت نے اَب تک 155کووِڈ خصوصی ریل گاڑیوں اور براستہ لکھن پور بسوںکے کاروان میں اَب تک 960166درماندہ شہریو ں کو کووِڈ۔19 وَبا سے متعلق تمام اَحتیاطی تدابیر کو مد نظر رکھ کر واپس لایا گیا۔
 
 
 

کولگام میں پولیس پبلک میٹنگ کا انعقاد

سرینگر//کولگام پولیس نے لوگوں سے بہتر تعلقات قائم کر نے کی خاطر پولیس تھانہ بہی باغ میں رہنما خطوط اور دیگر احتیاتی تدابیر کے تحت پولیس پبلک میٹنگ کا انعقاد کیاگیا جس میں بہی باغ کے دائرہ اختیار میں آنے والے مختلف علاقوں کے ذی عزت شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔میٹنگ کے دوران شرکاء نے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا ۔موجودہ افسران نے شرکا ء کو یقین دلایا کہ پولیس سے متعلق شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور اس سے متعلق امورانتظامیہ کوحل کرانے کے لئے متعلقہ محکموں سے بات کی جائے گی۔میٹنگ میں لوگوں سے بھی درخواست کی گئی کہ وہ معاشرتی برائیوں خصوصاََ منشیات کے خاتمہ اور علاقے میں امن و خوشحالی لانے میں پولیس کے ساتھ تعاون کریں تاکہ سماج دشمن اور ملک دشمن عناصر کو شکست دی جاسکے۔
 
 
 

کپوارہ کے سماجی کارکن شیخ الطاف سے تعزیت 

کپوارہ// درد ہرے کرالہ پورہ کے سماجی کارکن شیخ الطاف کی والدہ انتقال کر گئیں۔اُن کے انتقال پر مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے علاوہ مذہبی جماعتوں نے غمزدہ کنبے کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ کشمیر عظمیٰ کے نمائندہ برائے کپوارہ اشرف چراغ نے بھی شیخ الطاف سے تعزیت کی اور مرحومہ کے حق میں دعائے مغفرت کی۔
 
 

کوروناوائرس

بارہمولہ پولیس کی جانب سے نادار کنبوں میں سیفٹی کٹ تقسیم 

سرینگر//بارہمولہ پولیس نے ضرورتمند لوگوں تک کووڈ۔19سیفٹی کٹ پہنچانے کیلئے اپنی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے پولیس تھانہ بارہمولہ اور شیری میں پسماندہ طبقوں کو سویک ایکشن پروگرام کے تحت عوامی سطح پر مہم چلائی اور کووڈ۔19سیفٹی کٹ نادار لوگوں میں تقسیم کئے ۔اس موقع پر ایس ایس پی بارہمولہ عبدالقیوم نے ڈی پی ایل بارہمولہ میں یہ کٹ تقسیم کئے ۔ اس موقع پر ڈی ایس پی ڈی آرکے علاوہ باقی افسران بھی موجود تھے۔انہوںنے ضرورتمند اور غریب کنبوں کی طرف سے معاشرے کو اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں سنجیدہ رہنے کی ضرورت پر زور دیااور اس کی تدابیر کے بارے میں بھی جارکاری فراہم کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس غریب اور نادار لوگوں کی مدد کے لئے ہر وقت موجود ہے۔
 
 

’صدائے ہنر‘

سوپور میں22آرآر کی جانب سے میوزیکل ایونٹ

غلام محمد
سوپور//شمالی قصبہ سوپور میں فوج کے 22 آر آر نے ایک میگا میوزیکل ایونٹ’’صدائے ہنر‘‘ کے نام سے منعقد کیا جس میں سوپور کے علاوہ وادی کے دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے اس پروگرام میں اپنے ہنر کا جلوہ دکھایا۔ پروگرام میں 5 سیکٹر آر آر کے کمانڈر وی کے نارگ مہمان خصوصی تھے۔ اُن کے ہمراہ کمانڈنگ آفیسر اور سوپور کے ٹاؤن کمانڈر میجر نائر کے علاوہ سوپور کی مختلف انجمنوں سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔پروگرام میں جن فنکاروں نے حصہ لیا ،اُن میں سوپور کے معروف گلوکار شفیع سوپوری ،طارق رسول، نرگس خاتون، محمد یونس، بابر، فیضان احمد اور عاصف احمد شامل ہیں۔اس سلسلے میں کمانڈر نارگ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام منعقد کرنے کا صرف اور صرف مقصدیہ ہے کہ کشمیر ی ہنر کو آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیری نوجوانوں میں بہت ہنر موجود ہے مگر بدقسمتی سے اُن کا ہنر اچھا پلیٹ فارم نہ ملنے سے ضائع ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب فوج ان نوجوانوں کے ہنر کو ابھارنے اور اسے دنیا تک پہنچانے میں بھر پور تعاون دیںگے۔
 
 
 
 

ڈاکٹر فاروق کا پارٹی کے جوائنٹ سیکریٹری سے اظہارِ تعزیت

سرینگر//نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی کے جوائنٹ سیکریٹری صوبہ کشمیر غلام نبی بٹ کے برادر شوکت احمد ساکن لٹر چاڈورہ بڈگام کے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کے جملہ سوگواران کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کی جنت نشینی اور بلند درجات کیلئے دعا کی۔ پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ ،جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر پارٹی لیڈران عبدالرحیم راتھر، وسطی زون صدر علی محمد ڈار، صوبائی سکریٹری ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، سینئر لیڈران پیر آفاق احمد، منظور احمد وانی، سیف الدین بٹ اور دیگر لیڈران نے بھی اس سانحہ ارتحال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ دریں اثناء نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے جی این بیکری کے مالک جی این صوفی کے انتقال پر بھی گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرحوم کے فرزند کے ساتھ ٹیلی فون پر تعزیت کی ۔ انہوں نے مرحوم کے جملہ سوگواران کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی جنت نشینی کیلئے دعا کی۔ پارٹی کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے مرحوم کے گھر جاکر تعزیت کی۔

ادبی مرکز کرناہ کا تعزیتی اجلاس

کرناہ// ادبی مرکز کرناہ میں پہاڑی زباں کے نامور ادیب عبدالرشید لون کی اہلیہ کی اچانک وفات اور پہاڑی و اُردو زباں کے ادیب مصنف اور شاعر حاجی فروزالدین بیگ کی رخلت پرایک ماتمی اجلاس زیر صدارت عبدالعزیر ملدیال منعقد ہوا ،جس میں عبدالرشید لون کی اہلیہ اور فروزالدین بیگ کے انتقال پر گہرئے رنج و غم کا اظہار کیا گیااور مرحومین کی نیک روح کیلئے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی گئی۔اجلاس میں غلام حیدر ندیم، افتخار احمد قریشی، مشکور احمد شاد، محمد آصف میر، سجاد احمد قریشی، طاہر محمود، ارشاد علی، قضافی خان اور ارشاد احمد شامل تھے۔ ماتمی اجلاس کے دوران ڈاکٹر فاروق انور مرزا،نعیم کرناہی ،عبدالواحد منہاس اور شاہ محمد نے ٹیلیفونگ تعزیت کرتے ہوئے غم زدہ حاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ۔ادھر کرناہ ورکنگ جرنلسٹ ایسوسی ایشن نے بھی عبدالرشید لون کی اہلیہ اور حاجی فروزالدین بیگ کے انتقال پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین کے ساتھ تعزیت کی ہے۔
 
 
 
 
 
 
 
 

 شعبہ ٔ زراعت میں لازمی اقدامات کرنے پر زور 

سی جی ایم نبارڈ کی لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات  

جموں//چیف جنرل منیجر نیشنل بینک فار ایگرکلچراینڈ رورل ڈیولپمنٹ آر کے شری واستونے یہاں راج بھون میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا سے ملاقات کی۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کو بینک کی جانب سے دیہی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کیلئے یوٹی حکومت کیلئے آرآئی ڈی ایف کے تحت فراہم کی جارہی اِمداد کے بارے میں تفصیل دی۔ انہوں نے کہا کہ امسال نبارڈ نے ایگریکلچر مارکیٹنگ ،پوسٹ ہاروسٹ منیجمنٹ اور آبنیادی ڈھانچے پر توجہ مرکوز کی تاکہ کسانوں کی آمد ن میں بہتری لائی جاسکے۔اُنہوںنے کہا کہ نبارڈ فی الوقت یوٹی میں 17 ایف پی اوز کو مشروم ، ڈیری ، سبزیوں ، دھان ، شہد ، جڑی بوٹیوں اور قالین بافی کیلئے مدد فراہم کررہا ہے ۔اس کے علاوہ واٹر شیڈ ڈیولپمنٹ فنڈ اور ٹرائبل ڈیولپمنٹ فنڈ کے ذریعے بھی سانبہ ، اودھمپور ، راجوری اور اننت ناگ اضلاع کو مدد فراہم کی جارہی ہے ۔ لیفٹیننٹ نے سی جی ایم کو یوٹی میں زراعت کیلئے تمام لازمی اقدامات اُٹھانے کیلئے کہا۔ انہوں نے جموں اور کشمیرکی زرعی یونیورسٹیوں کے ساتھ اشتراک کر کے ان کی تحقیق کو کھیتوں تک لے جانے کیلئے مد دکرنے کیلئے بھی کہا۔دریں اثنا ڈائریکٹر سی ایس آئی آر۔آئی آئی آئی ایم ڈاکٹر  ڈی سری نیواس ریڈی نے بھی لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی اور سائنسی اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے کیلئے مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ اُنہوں نے سی ایس آئی آر کے تحت مختلف سرگرمیوں اور پروگراموں کے بارے میں انہیں جانکاری دی۔لیفٹیننٹ گورنر نے اختراعات کو ترقی دینے اور سائنس اور تحقیق کے تمام پہلوئوں کو آئی آئی آئی ایم کی ترقی کیلئے بروئے کار لا کر اسے علم و دانش کا مرکز بنانے کیلئے کہا۔
 
 
 
 
 

سیکورٹی کے نام پر امیدواروں کوبندرکھناتشویشناک

انتظامیہ پر نیشنل کانفرنس کاجانبداری کا الزام

سرینگرمیونسپل کارپوریشن کے میئر کے انتخاب میں عجلت کیوں؟

سرینگر// نیشنل کانفرنس نے ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات میں سرکاری مشینری کے غلط استعمال اور پارٹی کے اُمیدواروں کو کسی بھی قسم کی انتخابی مہم چلانے سے روکنے کے اقدامات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح سے بھاجپا زمینی سطح پر بنا کسی بنیاد کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ کررہی ہے، اس سے محسوس یہ ہورہاہے کہ انتظامیہ کو اسی کام پر لگا دیا گیا ہے۔ پارٹی ترجمان عمران نبی ڈار نے ایک بیان میں کہا کہ ماضی میں ایسا کبھی بھی دیکھنے کو نہیں ملا ہے کہ صرف کسی مخصوص جماعت یا نظریہ رکھنے والوں کو ہی سیکورٹی فراہم کی گئی ہو بلکہ انتخابات میں ہر ایک کو سیکورٹی فراہم کی جاتی تھی اور سیاسی لیڈران اور کارکنان آرام سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھ پاتے تھے لیکن اس بار انتظامیہ نہ صرف اُمیدواروں کو سیکورٹی فراہم کرنے سے اجتناب کررہی ہے بلکہ جو کوئی بھی کاغذات نامزدگی داخل کرتا ہے، اُسے سیکورٹی کے نام پر کسی مخصوص جگہ پر قید کیا جاتا ہے۔ ترجمان نے سوال کیا کہ اگر حالات اتنے ہی خراب تھے اور حکومت اُمیدوروں کو سیکورٹی فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی تو ایسی صورتحال میں انتخابات کا انعقاد کیوں کیا گیا؟ ایسے انتخابات کا کیا مقصد جس میں ایک اُمیدوار اپنے ووٹروں سے ووٹ مانگنے کی بھی پوزیشن میں نہ ہو؟این سی ترجمان نے کہا کہ بھاجپا لیڈران ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے دعوے کررہی ہیں جبکہ زمینی سطح پر اس جماعت کی یہاں کوئی بنیاد نہیں۔ کیا انتظامیہ غیر بھاجپا جماعتوں کے اُمیدوروں کو سیکورٹی کے نام پر قید و بند میں رکھ کر بھاجپا کیلئے راہ ہموار کرنے میں لگی ہوئی ہے؟ انہوں نے کہا کہ سرکاری مشینری کے غلط استعمال کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ سرینگر میونسپل کونسل کی 4نشستوں پر ضمنی انتخابات 28نومبر کو ہونے طے ہیں اور ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اُڑا کر میئر کے انتخاب کی تاریخ 25نومبر رکھی گئی۔کیا میئر کے انتخاب میں 4نشستوں کے ووٹوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا؟ ضمنی انتخابات کے بیچوں بیچ میئر کے انتخابات کا اعلان کرنے کی کیا ضرورت آن پڑی۔ انتظامیہ کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہئے۔ یہ سب کچھ کس کی ایما پر کیا جارہا ہے اور انتظامیہ بھاجپا کی لونڈی کا کردار کیوں نبھا رہی ہے؟این سی ترجمان نے کہا کہ انتظامیہ کو جنگی بنیادوں پر تمام اُمیدوروں کیلئے مساوی بنیادوں پر سیکورٹی فراہم کرنی چاہئے اور ہر کسی کو انتخابی سرگرمی کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے ، نہیں تو یہ انتخابات بے معنی ہوکر رہ جائیں گے۔
 
 
 

ہم کسی جماعت کی ’بی‘ ٹیم نہیں

اپنی پارٹی بھی جموں کشمیرکے خصوصی درجہ کی بحالی کی خواہشمند:الطاف بخاری

سرینگر//اپنی پارٹی صدر سعید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ اُن کی جماعت ’’عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ ‘‘PAGDکے خلاف نہیں بلکہ اصولی طور اِس کے کھوکھلے نعروں کے خلاف ہے جس کے دستخط کنندگان جموں وکشمیر کے لوگوں کو بیوقوف بنانا چاہتے ہیں۔  بخاری نے کہاکہ جموں وکشمیر بھر میں اپنی پارٹی کے اُمیدوار ترقی اور سیاسی تبدیلی کے ایجنٹ ہیں جوکہ متعلقہ علاقوں میں عوامی مسائل اور اُن کے حل پر بات کریں گے ۔ بخاری نے کہاکہ اپنی پارٹی مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان کسی بھی طرح کے جمہوری اتحاد کے خلاف نہیں لیکن نو تشکیل شدہ گپکار الائنس جموں وکشمیر کے خصوصی درجہ سے متعلق جھوٹے دعوؤں کے ذریعے لوگوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور جھوٹ پھیلایاجارہاہے۔ انہوں نے اِ س بات کو دہرایا،’’اپنی پارٹی بھی جموں وکشمیر کے خصوصی درجہ کی بحالی کی خواہش مند ہے لیکن چونکہ معاملہ عدالت عظمیٰ میں زیر ِ سماعت ہے ، ہم نے اِس متعلق کسی قسم کا دعویٰ نہیں کیا،البتہ ہم پُر اُمید اور دعا گو ہیں کہ دفعہ370اور35Aکی بحالی سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جموں وکشمیر کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق ہو‘‘۔اپنی پارٹی کے صدر سیدمحمدالطاف بخاری نے کہا ہے کہ جو لوگ اپنی پارٹی کے خلاف بے پر کی باتیں پھیلارہے ہیںانہوں نے بھارتیہ جنتاپارٹی کو روکنے کیلئے لوگوں سے ووٹ حاصل کئے اورپھر اقتداراورمراعات کیلئے اِسی جماعت کے ساتھ اتحاد کیا۔بانڈی پورہ میں اپنی پارٹی کی ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات کی مہم کاآغازکرتے ہوئے بخاری نے کہا کہ گپکارالائنس میں شامل کچھ لیڈروں نے قومی جمہوری اتحاد حکومت میں وزارتوں کے بھی مزے لوٹے اوروہ ہمیں ’’اے‘‘اور’’بی‘‘ٹیم ہونے کانام دیتے ہیں جبکہ وہ حال ہی تک بھارتیہ جنتاپارٹی کاحصہ رہے ہیں،تاکہ اقتدار اورعہدوں کوحاصل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ لوگ یہ تاریخی حقائق نہیں بھولے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہاکہ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیا ں ہے کہ پارلیمنٹ کے منتخب ممبران گپکار اعلامیہ کے دستخط کنندگان ہیں جوکہ دفعہ370اور35-Aپر مچار رہے ہیں جبکہ وہ اصل میں ملک کے اعلیٰ قانون ساز ادارہ میں جموں وکشمیر کے مفادات اور حقوق کا تحفظ کرنے میں مکمل طور ناکام رہے ہیں۔اپنی پارٹی صدر کا مزید کہناتھا’’کوئی بھی دلچسپ نعرے دیکر لوگوں کے لئے تفریح کا سامان میسر کر سکتا ہے لیکن اب وقت بدل گیا ہے اور مجھے اُمید ہے کہ لوگ اِن سیاسی جماعتوں کو آنے والے انتخابات میں جواب دیں گے جس کے یہ مستحق ہیں‘‘۔اپنی پارٹی اپنے ظہور سے لیکر آج تک جوکیا اور جوکہا،وہ اس کے لئے کسی بھی طرح کے عوامی احتساب کے لئے تیار ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ سیاسی جماعتوں چاہئے وہ نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی ، کانگریس یا بھارتیہ جنتا پارٹی ہوں ، وہ ہمیشہ جموں وکشمیر میں زمینی سطح پر جمہوریت کو مضبوط کرنے کے نظریہ کیخلاف رہی ہیں۔ سماج کے کمزور طبقہ جات کی ترقی کے لئے پالیسیاں مرتب کرنے کی بجائے اِن جماعتوں نے ہمیشہ انہیں جائز حقوق اور بنیادی سہولیات سے محروم رکھ کر دھوکہ دیا ہے‘‘۔ اس موقع پر بولتے ہوئے پارٹی سینئر نائب صدر غلام حسن میر نے بھی زمینی سطح پر لوگوں کی سماجی واقتصادی ترقی کے لئے اُن سے مجوزہ انتخابات میں بھاری اکثریت سے حصہ لینے کی ضرورت پرزور دیا۔ انہوں نے کہا، ’’جموں وکشمیر کے لوگوں نے پچھلے تین دہائیوں سے بہت اموات اور تباہی دیکھی ہے، اب ہمیں اوپر اُٹھ کر اپنے آنے والی نسلوں کیلئے امن اور خوشحالی کو یقینی بناناچاہئے‘‘۔ اپنی پارٹی نائب صدر عثمان مجید نے بھی جلسہ سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے جموں وکشمیر کی سابقہ حکومتوں کے رویہ پر تفصیلی روشنی ڈالی جس کی وجہ سے بانڈی پورہ تعمیر وترقی کے گراف میں ہمیشہ پیچھے رہا۔ انہوں نے کہا’’بانڈی پورہ کے لوگ تعلیم یافتہ اور سیاسی طور بالغ ہیں اور وہ کھوکھلے نعرؤں اور حقیقت پسندی میں فرق کرنا جانتے ہیں، میں پُر اُمید ہوں وہ اپنی پارٹی امیدواروں کی بڑی جیت کو یقینی بنائیں گے اور جنہوں نے ہمیشہ جھوٹے بیانات سے لوگوں کوبیوقوف بنایاانہیں شکست دی جائے گی‘‘صدر، سنیئر نائب صدر، نائب صدر کے علاوہ پارٹی ضلع صدر بانڈی پورہ سعید شفت کاظمی اور پارٹی کے دیگر مختلف لیڈران نے بھی خطاب کیا۔ 
 
 
 
 

بلاک ڈیولپمنٹ اور پنچائتی انتخابات 

جنوبی کشمیر میں بی جے پی کی انتخابی ریلی 

نیوز ڈیسک 
سرینگر//بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی ترجمان سید شاہنواز حسین کی سربراہی میں ایک انتخابی ریلی کا اہتمام جنوبی کشمیر کے سری گفوارہ اور اننت ناگ میں کیا گیا ،جس میں چیئرپرسن وقف ترقیاتی کمیٹی کے علاوہ ریاستی نائب صدر اور سابق ایم ایل سی صوفی یوسف بھی موجود تھے ۔ پارٹی رہنماؤں نے سری گفوارہ میں یہ ریلی ڈی ڈی سی اُمیدوار رفعت یوسف کیلئے منعقد کی تھی اس دوران پارٹی کے نمائندے منظور بٹ اور آصف مسعودی بھی موجود تھے۔ اپنے خطاب میں بی جے پی کے قومی ترجمان اور سابق مرکزی وزیر سید شاہنواز نے کہا کہ یہ مناسب موقع ہے کہ جموں و کشمیر کی عوام کو ایسے لیڈران ملیں، جو عوام کی ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں آئینی تبدیلی نے پورے جموں و کشمیر میں امن اور ترقی کے دروازے کھول دیئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے مکمل انضمام سے مرکزی علاقہ میں صنعتی اور معاشی ترقی کے نئے دروازے کھل گئے ہیں۔جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو اب اپنے بہتر مستقبل کیلئے ملازمت اور مواقع ملیں گے ‘‘۔ اپنی تقریروں میں ، ڈاکٹر درخشاں اندرابی نے کہا کہ جو لوگ جموں و کشمیر کے نئے سیاسی اور آئینی حکم پر گریہ و زاری کررہے ہیں وہ حقیقت میں کرپشن ، گھوٹالے ، لوٹ مار اکر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی ہزاروں کنال اراضی کو سیاستدانوں ، ان کے حامیوں اور رشتہ داروں نے قبضہ میں لیا اور بے شرمی سے روشنی ایکٹ کے ذریعہ قانونی حیثیت دی۔ڈاکٹر درخشاں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ تبدیلی کے حق میں ووٹ ڈالیں۔ بی جے پی جموں و کشمیر کے نائب صدر اور سابق ایم ایل سی صوفی یوسف نے لوگوں سے جموں و کشمیر میں پہلی بار ترقی اور امن کے حق میں ووٹ دینے کیلئے کہا۔
 ترال میں تکونی مقابلہ 

۔3 حلقوں میں27امیدوارانتخابی اکھاڑے میں 

سید اعجاز 
ترال //جنوبی کشمیر کے تین حلقہ انتخابات جن میں ترال،ڈاڈسرہ اور آری پل شامل ہیں،میں 27 امید وارڈی ڈی سی انتخابات میں حصہ لے کر قسمت آزامائی کر رہے ہیں ۔ ترال بلاک میں کل10 امیدوارں نے کاغذات نامزدگی داخل کئے ہیں جن میںپی ڈی پی کی ٹکٹ پر پیپلزالائنس برائے گپکار ڈیکریشن کے امیدوار ڈاکٹر ہر بخش سنگھ،کانگریس سے ترلوک سنگھ،بھارتیہ جنتاپارٹی کے عبد ارشید گوجر،غلام محی الدین وانی اپنی پارٹی کے علاوہ گوجر بکروال لیڈر محمد یاسین پسوال،شبیر احمد گوجر اوتار سنگھ،شکیل احمد،نذیر احمد گوجر ظہور احمد شیخ بطور آزاد امیدوار میدان میں ہیں ۔ڈاڈسرہ بلا ک میں مختلف سیاسی جماعتوں جن میں بی جے پی کے الطاف ٹھاکر، اپنی پارٹی کے نثار احمد،نیشنل کانفرنس کی ٹکٹ پر پیپلزالائنس برائے گپکار ڈیکریشن کے امیدوارعلی محمد بٹ کے علاوہ اوتار سنگھ،جنیدلسلام،نثار احمد راتھر،دیرج سنگھ،عبد الرشید بٹ بطور آزاد امیدوار میدان میں اتر ے ہیں ۔ادھر آری پل بلاک میں پی ڈی پی کی ٹکٹ پر پیپلزلائنس برائے گپکار ڈیکریشن کے امیدوار منظور احمد گنائی،منپریت سنگھ کانگریس،عبد السلام ملک اپنی پارٹی،کے علاوہ ظہور احمد شیخ ،محمد یاسین پسوال،عبد الرشید بٹ ،عبد ارلزشید گوجر،اوتار سنگھ بطور آزاد امیدوار کھڑا ہوئے ہیں ۔سیکورٹی کے اعتبار سے انتہائی حساس جنوبی کشمیر کے سب ضلع ترال میں گزشتہ کئی دہائیوں بعد الیکشن سرگرمیاں عروج پر ہیں جس دوران نوجوان کثیر تعداد میں میدان میں سیاسی قسمت آزما رہے ہیں ۔اگرچہ ڈی ڈی سی انتخابات سیاسی اعتبار سے زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ہے ،تاہم جموں و کشمیر میں تنظیم نو کے بعد یہ انتخاب پہلی بار ہو رہا ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی ٹکٹ پرسابقہ اسمبلی انتخاب لڑنے والے امید وار جو اس وقت بی ڈی سی ترال بھی ہیں اوتار سنگھ نے پارٹی سے برہم ہونے پر تینوں بلاکوں سے بطور آزاد امیدوار فارم داخل کیا ہے۔اوتار سنگھ کا دعویٰ ہے کہ ترال کے لوگ اوتار سنگھ کے ساتھ ہیں نہ کہ بی جے پی کے ساتھ ۔اسی طرح بھارتیہ جنتا پارٹی کے کشمیر ترجمان الطاف ٹھاکر اپنے آبائی گائوں ڈاڈسرہ سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔اپنی پارٹی نے آری پل میں نیشنل کانفرنس کے بھاگی لیڈر عبد السلام ملک کو کھڑا کیا ہے، اگر چہ اپنی پارٹی کے امیدوار عبد السلام ملک کی سیاست میں اپنی ایک شناخت ہے ،تاہم این سی کو طلاق دینے کے بعد نئی پارٹی میں شمولیت کسی حد تک ثمر آور ہوسکتی ہے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔کانگریس نے ترال میں ایک سرپنچ کو میدان میں اتارا ہے جبکہ آری پل میں سرندر سنگھ چنی کے بیٹے کو کھڑا کیا گیا ہے، جہاں چنی سنگھ کے بیٹے کی جیت کو یقینی بنانے کے لئے علاقے میں سرگرمیاں تیز ہیں ۔اسی طرح آری پل بلاک میں پی ڈی پی کے امیدوار منظور احمد علاقے کے مقامی امیدوار ہیں، لوگوں کو انتخابات کی طرف مائل کرنے میں دن رات کام کررہے ہیں۔ادھرجر بکروال طبقے کی طرف سے تقریباً پانچ امیدوار کھڑا کئے گئے ہیں جن میں آزاد امیدوار محمد یاسین پسوال بھی شامل ہیں ۔آری پل بلاک ہمیشہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کا مستحکم ووٹ بینک مانا جاتا ہے تاہم اب کی بارکانگریس پارٹی کے مقامی امیدوار اور گوجر بکروال امیدوار کی شرکت سے یہ ووٹ بینک متاثر ہو سکتا ہے ۔ جبکہ ترال میں آزاد امید واراوتار سنگھ اور پی ڈی پی کی ٹکٹ پر پیپلزالائنس برائے گپکار ڈیکریشن کے امیدوار ڈاکٹر بخش سنگھ کے درمیان کانٹے کی ٹکر کی امید ہے ،جبکہ ڈاڈسرہ ترال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے الطاف ٹھاکر اور نیشنل کانفرنس کے علی محمد بٹ کے درمیان سخت مقابلے کا امکان ہے۔
 
 
 

 اپنے آبائی گائو ں کی محبت نے کھینچ لایا

کشمیری پنڈت خاتون امیدوار کے تاثرات 

کپوارہ//اشرف چراغ //ضلع ترقیاتی کونسل کے انتخاب کے چوتھے مرحلہ کے تحت قادرآباد اور راجواڑ حلقہ سے امیدوارو ں نے اپنے کا غذات نامزدگی فارم جمع کرائے قادر آباد جو ترہگام تحصیل کا حصہ ہے سے18امیدوارو ں نے اپنے فارم جمع کئے ہیں جن میں ترہگام سے تعلق رکھنے والی ایک کشمیری پنڈت خاتون بھی شامل ہے ۔قادر آباد سے پیپلز لائنس کے 1 بی جے پی 1اپنی پارٹی 1عوامی اتحاد پارٹی 1اور14آ زاد امیدوارو ں نے نامزدگی فارم جمع کئے۔تاہم اس الیکشن میں پہلی بار ایک کشمیری پنڈت خاتون اپنی قسمت آزمائی کر رہی ہے ۔رجنی کمار جن کا تعلق ترہگام علاقہ سے ہے 2018کے پنچائتی الیکشن میں بطور وارڈ ممبر الیکشن بھی انہوں نے جتتا تھا  کا غذات نامزدگی فارم جمع کرنے کے بعد کشمیری پنڈت خاتون رجنی کمار نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ اس کو اپنے وطن کی محبت نے کھینچ لا یا اور یہی وجہ ہے کہ پہلے میں نے اپنے آ بائی گائو ں ترہگام سے پنچائت چنائو میں حصہ لیا اور اب تعمیر و ترقی کیلئے ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات میں حصہ لے رہی ہوں ۔رجنی نے بتا یا کہ گزشتہ70سالو ں کے دوران اس ضلع میں تعمیر ترقی کا نام و نشان نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں ضلع ترقیاتی کونسل چنائو لڑنے کیلئے مجبور ہو گئی ۔ان کا کہنا ہے کہ نامزدگی فارم جمع کرنے کے دوران ان کے ساتھ مسلم بھائیو ں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی اور مجھے کشمیری بھائی چارے کی یاد تازہ ہوگئی اور یہ سمجھا کہ میں کبھی بھی اپنے مسلم بھائی بہنو ں سے دور نہیں تھی ۔اس دوران را جواڑ ہندوارہ حلقہ سے بھی 18امیدوارو ں نے ضلع ترقیاتی کونسل چنائو کے نامزدگی فارم جمع کئے ۔واضح رہے کہ قادر آباد اور راجواڑ حلقوں میں 10دسمبر کو ضلع ترقیاتی کونسل کے انتخابات ہور ہے ۔
 
 

تازہ برف باری کا شاخسانہ | انتخابی مہم چلانے والے متعد د امیدوار کیرن میں درماندہ 

کپوارہ//اشر ف چراغ //کپوارہ کے بالائی اور میدانی علاقوں میں تازہ برف باری کے نتیجے میں سرحدی علاقوں کو جانے والی اہم رابطہ سڑکیں گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے بند ہو کر رہ گئی ہیں،جبکہ ضلع میں تازہ برف باری کے سبب  ضلع ترقیاتی کونسل کی انتخابی مہم میں بھی تیزی کے بجائے سستی نظر آرہی ہے، اس دوران معلوم ہوا ہے کہچند ایک امیدوار جو کیرن لوگوں سے ووٹ حاصل کرنے کیلئے گئے تھے، وہ بھی کیرن میں بند ہو کر رہ گئے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے سوموار کے روزکرالہ پورہ حلقہ سے تعلق رکھنے والی کئی خاتون امیدوار کیرن میں انتخابی مہم چلانے کیلئے گئی تھیں جو بھاری برف باری کے نتیجے میں وہاں ہی درماندہ ہو کر رہ گئی ہیں ان امیدوارو ں کے کارکنان کا کہنا ہے کہ اگر موسم تین روز تک خراب رہا تو کیرن سڑک کھلنے کے کم آثار دکھائی دے رہے ہیں جبکہ الیکشن 28نومبر کو ہے ۔ان کارکنا ن کا کہنا ہے کہ اگر موسم کی صورتحال آئندہ دو تین روز تک نہیں بدلی تو انتظامیہ کیرن میں پھنسے امیدوا رں کو لانے کے لئے ہیلی کا پٹر کی خدمات حاصل کریں تاکہ وہ الیکشن کے دوران اپنے حلقہ میں موجود رہیں ۔اس دوران کرناہ کے جن ملازمین کو پہلے مرحلے کے تحت ہونے والے انتخابات میں ڈیوٹی دینے کپوارہ آنا تھا یا پھر جن ملازمین کو کرناہ جانا تھا وہ بھی برف باری کی وجہ سے اپنے اپنے مقامات تک نہیں پہنچ سکے ہیں ۔ اس دوران جموں وکشمیربینک پی او امتحان میں شرکت کرنے والے قریب 100امیدوار بھی درماندہ ہیں اور حکام سے مطالبہ کررہے ہیں کہ انہیں امتحانات میں شرکت کرانے کے اقدامات کئے جائیں۔ 
 
 

پیپلز الائنس میں شامل لیڈراپنے کام سے کام رکھیں:کانگریس

سرینگر //پردیش کانگریس نے ’’پیپلز الائنس میں شامل جماعتوں کوکام سے کام رکھنے کامشورہ‘دیتے ہوئے واضح کیاکہ صرف یہی پارٹی جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو بحال کرنے کی اہل ہے ۔پارٹی نے کہاکہ کانگریس کی سیاسی مجبوریوں کاذکر کرنے والے اپنی مجبوریوں اورغلطیوں کوفراموش نہ کریں ۔جے کے این ایس کے مطابق کانگریس کے ایک سینئرکارکن اورحلقہ انتخاب سنگرامہ کیلئے پارٹی کے ڈی ڈی سی اُمیدوار عبدالرشیدڈار نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ عوامی اتحاد میں شامل کچھ لیڈر کانگریس کی مبینہ سیاسی مجبوریوں کاباربار ذکر کرتے ہیں اورایسا کرنے سے وہ اپنی تاریخی غلطیوں پرپردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی کویہ بھولنا نہیں چاہئے کہ انکی پارٹی نے ہی بی جے پی کوجموں وکشمیر میں راستہ فراہم کیا۔انہوں نے کہاکہ یہ بڑی افسو س کی بات ہے کہ محبوبہ مفتی اپنی اس غلطی کااعتراف کرنے کے بجائے کانگریس کانام لے رہی ہیں ۔عبدالرشیدڈار کاکہناتھاکہ عوامی اتحاد میں شامل لیڈروں کویہ نہیں بھولنا چاہے کہ کانگریس کی قیادت نے ہی جموں وکشمیر کوخصوصی آئینی پوزیشن دی تھی اوراگر یہ پوزیشن واپس کوئی دے سکتا ہے تووہ صرف کانگریس ہے ۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی اوراین سی دونوں اپنے اپنے وقت میں بی جے پی کی شراکت دار رہی ہیں ،اسلئے دونوں پارٹیوں کوبلاوجہ کانگریس کے بارے میں غلط بیانی نہیں کرنی چاہے ۔کانگریس کے اُمیدوار کاکہناتھاکہ وقت اورتاریخ نے ثابت کیاہے کہ صرف کانگریس ہی جموں وکشمیراوریہاں کے لوگوں کی ہمدرد رہی ہے کیونکہ اس پارٹی نے خصوصی پوزیشن کے بعدبھی بہت کچھ دیا تاکہ جموں وکشمیر کے لوگ بالخصوص یہاں کی نوجوان نسل کوآگے بڑھنے کاموقعہ مل سکے ۔انہوں نے ڈی ڈی سی حلقہ انتخاب سنگرامہ کاذکر کرتے ہوئے کہاکہ یہاںایک اُمیدوار کوبی جے پی کی پشت پناہی حاصل ہے اورلوگوں کودھوکہ دینے کیلئے وہ اپنی پارٹی کی جانب سے کھڑا ہوا ہے ،عبدالرشیدڈار نے کہاکہ ایک شخص آزاداُمیدوار کی حیثیت سے کھڑا ہوا ہے ،جس نے کبھی بی جے پی کوروکوکانعرہ بلندکیا تھا ،اورجو ٹی وی مباحثوں میں جموں وکشمیر کادفاع کرنے کے بجائے یہاں کے لوگوں کی عزت اتارنے سے بازنہیں آرہاہے ۔
 
 

مژھل میں دراندازی کی کوشش ناکام بنانے کادعویٰ |  فوج اور جنگجوئو ں کے مابین مختصر معرکہ آ رائی

اشر ف چراغ 
کپوارہ//فوج اور بی ایس ایف نے مژھل سیکٹر میں دراندازی کی ایک کوشش کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے ۔شمالی ضلع کپوارہ کے مژھل سیکٹر میں فوج اور جنگجوئو ں کے درمیان دوران شب مختصر معرکہ آرائی ہوئی ،تاہم بھاری برف باری کی وجہ سے نقصان کے بارے میں کوئی اطلاع مو صول نہیں ہوئی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 22 اور 23نومبر کی درمیان شب کو مژھل سیکٹر میں حد متارکہ پر سرحدی حفاظتی فورس کے اہلکارو ں نے سالار پوسٹ کے نزدیک مشکوک نقل و حمل دیکھی جس کے بعد فوج کو طلب کیا گیاتاہم بھاری برف باری کے باعث تلاشی کاروائی کوہاتھ میں نہیں لیا گیا ۔ذرائع کا کہنا ہے جنگجوئو ں نے فوج اور بی ایس ایف اہلکارو ں پر اندھا دھند گولیا ں چلائیں جس کے بعد طرفین کے درمیان مختصر جھڑپ ہوئی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپ کے دوران ہوئے نقصان کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع مو صول نہیں ہوئی ہے کیونکہ علاقہ میں بھاری برف باری ہورہی ہے ۔پولیس نے مژھل سیکٹر میں جنگجوئو ں اور فوج کے درمیان جھڑپ کی تصدیق نہیں کی ہے ۔مژھل جھڑپ کے حوالہ سے ڈی آئی جی بارڈر سیکورٹی فورس آر کے ماتھر نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے بارڈر ایکشن ٹیم نے جنگجوؤں کو اس پار دھکیلنے کے لئے فائرنگ کی ،تاہم بی ایس ایف اور فوج نے در اندازی کی کوشش کو ناکام بنا یا جبکہ اس علاقہ میں بھاری برف باری ہو رہی ہے اور بہت برف پہلے ہی جمع ہے۔
 
 
 

آئندہ سال ترقی پذیر ممالک کو 2ارب کورونا ویکسین مہیا ہوںگے: یونیسیف

نیوز ڈیسک
 سرینگر//اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم برائے اطفال یونیسیف کے مطابق اگلے سال کے دوران کرونا وائرس کی 2 ارب ویکسینز ترقی پذیر ممالک کو مہیا کئے جائیں گے۔پیر کے روز یونیسیف کے سپلائی ڈویڑن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا کہ یونیسیف’کورونایکس‘ پروگرام کے تحت دنیا بھر کی 350 ائیرلائنز اور لاجسٹک کمپنیوں کے ساتھ شراکت میں ویکسینز اور ایک ارب ٹیکے ترقی پذیر ممالک کو فراہم کرنے کے منصوبے پر کام کرے گی۔ادارے کی سپلائی ڈویڑن کی ڈائریکٹر ایتلیوا کادیلی کے مطابق یونیسیف کی شراکت داری کے نتیجے میں ہم اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ کرونا کی ویکسین کی دنیا بھر میں فراہمی کے تاریخی مشن کو احسن طریقے سے انجام دیا جائے۔کوویکس پروگرام عالمی ادارہ صحت اور دیگر عالمی تنظیموں کا ایک ایسا پروگرام ہے جس کے تحت کرونا ویکسین کی ضرورت مند ممالک اور افراد تک بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔گزشتہ روز منعقد ہونے والے جی 20 سمٹ میں دنیا کی 20 مضبوط ترین معیشتوں والے ممالک کے رہنمائوں نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ کرونا کی ویکسین کو منصفانہ طریقے سے دنیا بھر میں تقسیم کیا جائے گا تاکہ کسی بھی ملک کو اس معاملے میں پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
 
 

جمعیت اہلحدیث ہند کے سابق صدر حافظ محمد یحییٰ فوت | جمعیت اہلحدیث جموں و کشمیر کااظہار تعزیت 

 سرینگر//جمعیت اہلحدیث کے صدر مولانا غلام محمد بٹ نے جمعیت اہلحدیث ہند کے سابق سربراہ حافظ محمد یحییٰ دہلوی کے انتقال پر گہرے رنج وغم کااظہار کیاہے۔ مولانا بٹ نے کہاکہ ’ہم ایک قد آورمنتظم،رجل صاحب فہم و دانش سے محروم ہوگئے جن کی ساری زندگی ہمت، جرأت، بے باکی، تدبر اور عزم و حوصلہ سے عبارت تھی‘۔ مولانا بٹ نے کہاکہ حافظ محمد یحییٰ دہلوی نے دیار ہند میں مدتوں کاروان دعوت و بیداری کی قیادت کرتے ہوئے توحید و سنت کو ہر سو پہنچا نے کیلئے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائی۔ مولانا بٹ نے کہا کہ ’حافظ محمد یحییٰ فقید کی زندگی کا ورق ورق روشن اور لفظ لفظ تابندہ ہے، ان کی اس جدائی کے موقع پر ہم سب سوگوار ہیں اور بطور خاص سبھی سلفیان ہند، فقید کے اہل خانہ اور جمعیت اہلحدیث ہند کے امیر اصغر علی امام مہدی کے ساتھ قلبی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے فقید کی جنت نشینی اور سبھی اقربا و احباب کیلئے صبر جمیل کیلئے دعا گو ہیں‘۔ ادھر جمعیت کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر عبداللطیف الکندی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’میں اپنے بچپن اور لڑکپن سے ہی اس نام سے مانوس تھا جس نے اپنی حیات مستعار کا پل پل قرآن و سنت کے فروغ و پھیلا و کیلئے وقف کیا ،وہ بہت ہی کم گو تھے بس دین مبین کی حیات آفرین تعلیمات کو گھر گھر پہنچانے کا سودا سر میں سمایا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی صبر آزما حالات میں میںنے انہیں کوہ استقامت بن کر کھڑے ہوکر دیکھا ہے ان مواقع پر اس صاحب فہم و دانش کے قائدانہ اور جرات مندانہ اوصاف نکھر کر سامنے آتے تھے یوں جمعیت کی تاریخ میں ان کی خدمات ان شاء اللہ بہ الفاظ زریں رقم ہوں گے۔ ڈاکٹر الکندی نے ٹیلی فون کے ذریعے فوراً فقید کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ایثار و تدبر و تحمل کو عقیدت کا خراج پیش کیا اور بارگاہ ربانی میں دعا کی کہ اللہ تعالی انکی خدمات کو قبولتے ہوئے انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور پسماندہ گاں کو صبر جمیل عطا ہو۔
 
 

کووڈ ویکسین عام لوگوں کیلئے مفت دستیاب رکھی جائے :ڈاک

سرینگر// ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ کووڈ 19مخالف ویکسین عام لوگوں کیلئے مفت دستیاب ہونی چاہئے ۔ سی این آئی کے مطابق ڈاک صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے بیان میں کہا ہے کہ امید ہے کہ ویکسین رواں برس کے آخر تک بازاروں میں مہیا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ماس ویکسینشن سے امیونٹی لیول میں اضافہ ہوگا اور جب ہر فرد ویکسین لے گا تو وائرس کے رہنے کے امکانات کم ہوجائیں گے ۔ انہوںنے کہا کہ جس طرح ہم نے دیکھا کہ عالمی وبائی بیماری پولیو اور سمال پوکس پر ہم نے ویکسنیشن سے ہی نجات حاصل کی، اسی طرح کوروناوائرس سے بھی ویکسین سے ہی نجات ممکن ہے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ ویکسین ہی کووڈ 19کے خلاف واحد اور موثر ہتھیار ہوگا جس سے انسانی جانیں بچ سکتی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ اگر اکثر لوگ ویکسین لیں گے تو ممکنہ طور پر کووڈ کی چین ٹوٹ جائے گی۔ اور اگر آبادی کا بڑا حصہ بغیر ویکسین کے رہے گا تو وائرس کے خاتمہ کے امکانات بھی کم ہوں گے ۔ ڈاک صدر نے کہا کہ ہمیں ویکسین کی ضرورت کو لوگوں کو سمجھانا ہوگا تاکہ کوئی بھی ویکسین لینے سے نہ رہیں اور اس لئے سرکار کو چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں لازمی پالیسی اختیار کرکے اس بات کو یقینی بنائیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک ویکسین پہنچے۔انہوں نے کہا کہ اب بہت سے کووڈ 19ویکسین نے طبی جانچ مکمل کرلی ہے جس کے بہترین نتائج سامنے آچکے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ امید ہے کہ رواں برس کے آخر تک ویکسین عام لوگوں کیلئے دستیاب ہو اس لئے سرکار کو پہلے سے ہی اقدامات اُٹھالینے چاہئے ۔ 

رواں برس 2820مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں

 فائرنگ سے شادی کی تقریب میں 11افراد زخمی ہوئے :پاکستان کا الزام

سرینگر//پاکستان نے بھارتی فوج پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج نے ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کی جس میں گیارہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق ہندوپاک سرحدوں پر جاری کشیدگی کے بیچ سوموار کو پاکستان نے بھارت پر الزام عائد کیا ہے کہ بھارتی فوج نے بلا اشتعال گولہ باری کی ۔ پاکستانی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے سویلین آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔ بھارتی فوج کی فائرنگ سے جگجوٹ گائوں میں شادی کی تقریب میں شریک 11 معصوم شہری زخمی ہوئے۔زخمی ہونے والوں میں چھ خواتین، چار بچے شامل ہیں۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج نے غیر پیشہ وارانہ اور انسانی حقوق کی صریحا خلاف ورزی کا مظاہرہ کیا۔پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن کے سینئر سفارتکار کو دفترخارجہ طلب کرکے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر انتظام کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج کیا گیا۔زاہد حفیظ چوہدری نے بتایا کہ بھارت کی طرف سے کھوئی رٹہ میں 22 نومبر کو ایل او سی پر جنگ بندی انتظام کی خلاف ورزی کی گئی اور بلااشتعال فائرنگ سے 11 بے گناہ معصوم شہری شدید زخمی ہوئے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ رواں برس بھارت 2820 مرتبہ سیز فایر معاہدے کی خلاف ورزی کرچکا ہے جس سے رواں سال اب تک 26 معصوم شہری جاں بحق جبکہ 245شہری زخمی ہوئے۔

نامعلوم گاڑی چناب برد ،بچائو کارروائیاں شروع کردی گئیں 

ایم ایم پرویز
 
رام بن //پیر کی شام رام بن قصبے سے آگے ایک موٹر گاڑی دریائے چناب میں گر گئی تاہم اس کے بارے میں ابھی تک کچھ پتہ نہیں چلا اور نہ ہی یہ معلوم ہوپایاہے کہ اس میں کتنے لوگ سوار تھے ۔ یہ گاڑی مہار کے مقام سے چناب میں گرگئی ۔پولیس کو کچھ لوگوںنے گاڑی کے نیچے دریائے چناب میں گرنے کے بارے میں بتایاجس پر اس کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔ایس ایس پی رام بن حسیب الرحمٰن نے کشمیرعظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے اس واقعہ کی تصدیق کی اوربتایاکہ حادثے کی جگہ سول اورکیو آر ٹی کے رضاکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔مبینہ طور پر گاڑی پانی میں ڈوب گئی ہے ۔کچھ لوگوں کاکہناہے کہ چناب برد ہونے والی گاڑی بلیرو تھی جبکہ کچھ کامانناہے کہ یہ ٹاٹاسومو تھی ۔بارش اور اندھیرے کی وجہ سے امدادی ٹیمیں اس کا پتہ نہیں چلاسکیں ۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ امدادی کارروائی شروع کرنے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں بچا۔ان کاکہناتھاکہ جدید ترین سازوسامان کے ساتھ ایس ڈی آر ایف کے جوانوں کو طلب کیا گیا ہے اور انہوں نے رسکیو آپریشن شروع کرنے کے لئے دریائے چناب کی طرف تیز لائٹس لگائی ہیں۔
سالانہ 2300کروڑ روپے کی بھیڑ بکریاں کشمیر لائی جاتی ہیں

قیمت اس کاروبار سے وابستہ بیرونی تاجر وہاں پر ہی طے کرتے ہیں: کوٹھدار

 سرینگر//نیوز ڈیسک // وادی سے باہر نئی دہلی ،پنجاب ،راجستھان اورہریانہ سے سالانہ قریب 2300کروڑ روپے مالیت کے بھیڑ اوربکریاں کشمیر درآمدکی جاتی ہیں تاکہ یہاں گوشت کی طلب اورضرورت کوپوراکیاجاسکے ۔بتایاجاتاہے کہ ہرسال صرف راجستھان سے تقریباً20 لاکھ بھیڑبکریاں کشمیر پہنچائی جاتی ہیں ،اوران سبھی جانوروں کویہاں ذبح کرکے ان کاگوشت صارفین میں فروخت کیاجاتاہے ۔گوشت کے کاروبار سے جڑے کوٹھداروں اورقصابوں کاکہناہے کہ درآمد کئے جانے والے بھیڑ بکریوں کی قیمت اس کاروبار سے وابستہ بیرونی تاجر وہاں پر ہی طے کرتے ہیں اورہمیں انکی مقررکردہ قیمت پرہی بھیڑبکریاں خریدکریہاں لاناپڑتی ہیں ۔ حکومت کی جانب سے گوشت فی کلوکی قیمت 480روپے مقرر کئے جانے کے بعدسے کشمیرمیں قصاب احتجاجی ہڑتال پرہیں اورانہوں نے اپنے دکان بندرکھی ہوئی ہیں ،جسکے باعث بیشتر صارفین گوشت کااستعمال نہیں کرپارہے ہیں ۔ماہرین کہتے ہیں کہ گزشتہ دو دہایوں سے کشمیر میں گوشت کھانے کارُجحان کافی تیزی کیساتھ بڑھاکیونکہ یہاں لوگ اب گوشت کااستعمال گھروں میں تواتر کیساتھ کیاکرتے ہیں جبکہ مختلف تقریبات کے دوران وازوان کے پکوان تیار کرنے کیلئے بھی گوشت کااستعمال کافی بڑھ گیاہے کیونکہ اب روایتی کشمیری وازوان میں کئی بیرونی پکوان بھی شامل کئے گئے ہیں ۔ مٹن ڈیلروں کا کہنا ہے کہ بیشتر بھیڑ بکریا ںدیگر ریاستوں سے ہی درآمد کرنی پڑتی ہیں،جبکہ مقامی طور پر ستمبر اور اکتوبر میں مقامی بکروالوںکی جانب سے ضرورت کا25سے30فیصد مال فراہم کیا جاتا ہے۔ مٹن ڈیلرس ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری معراج الدین گنائی کا کہنا ہے کہ محکمہ فزائش اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ ان کے پاس80ہزار یونٹ ہولڈر ہیں،تاہم اگر یہ تعداد صیح معنی جائے تو انکا مال کہاں جاتا ہے۔ انہوںنے کہا ’’ حقیقت میں یہ اعداد شمار صرف کاغذات تک ہی محدود ہیں،اور صرف سبسڈی کے نام پر انکو درج کیا گیا ہے‘‘۔ 
 

تازہ ترین