مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرابیٹااس مقام پر پہنچاہے | مدثر علی کے والد کا اپنے فرزند پر اظہارِ افتخار

تاریخ    24 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


شبیر ابن یوسف
چاڈورہ // مدثر کے والد علی محمد نے کہا’’مجھے کبھی نہیں معلوم تھا کہ میرا بیٹا اس مقام پر پہنچ گیا ہے‘‘۔ خیمے کے کونے میں بیٹھا وہ خاموشی کے ساتھ وہ ان لوگوں کے تاثرات سن رہا تھا جو مدثر کے چہارم کے موقعہ پر فاتحہ خوانی کیلئے جمع ہوئے تھے۔اُس کا کہنا تھا،’’مقرین میرے بیٹے کے بارے میں جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ میرے لئے بالکل نیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہامدثر نے مجھے اپنی مصروفیات کے بارے میں کبھی نہیں بتایا تھا۔ انہوں نے مجھے کبھی نہیں بتایا کہ وہ برسوں سے کیا کررہا ہے ۔’’جب وہ گھر سے چلا جاتا تھا توڈیڈی میں جاؤں گا صرف یہی بات تھی جو وہ مجھے بتایا کرتا تھا ‘‘۔ انہوں نے کہا،’’جس دن مدثر کا انتقال ہوا، اس دن میں لوگوں کی بڑی تعداد دیکھ کر میں حیران ہوا،مجھے اپنے بیٹے کی قدر اس وقت معلوم ہوئی جب میں نے دیکھا کہ لوگوں کا ایک سمندر اس کی موت پر ماتم کرنے پہنچا ہے،لوگ وادی کے کونے کونے سے آئے تھے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ مدثر غریب لوگوں کی مدد بھی کر رہا تھا جب کچھ لوگ ان کی رہائش گاہ پر نوحہ کناں تھے۔پہلے دن ایک کنبہ کی لڑکی آئی، وہ روتی رہی ، اسے اپنا بھائی کہتی رہی۔ وہ چار بہنیں ہیں اور ان کے والد فوت ہوگئے تھے،مدثر ہر ماہ ان کی مدد کرتا تھا ، عید کے موقع پر ان کے لئے کپڑے اور کریانہ لیتا تھا۔‘‘مدثر کے والد کہتے ہیں کہ کوئی بھی اللہ کی خواہش کو کس طرح ٹھکرا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا’’یہ اللہ تعالی کا فیصلہ ہے اور ہم نے اس کو قبول کرلیا۔‘‘ ان کا کہنا تھا،’’مجھے فخر ہے کہ مدثر میرا بیٹا تھا اور ان کے لئے جنت میں اعلی مقام کی دعا کرتا رہوں گا۔‘‘مدثر کی والدہ کے لئے بھی وہ ایک عام رپورٹر تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مدثر بہت سے لوگوں کو جانتے تھے۔ مجھے صرف یہ معلوم تھا کہ وہ گریٹر کشمیر میں کام کرتا ہے۔اس کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے انھیں اپنے بارے میں کبھی نہیں بتایا۔ انہوں نے کہا ’’وہ خاموش طبیعت کا مالک تھا۔اس نے بتایا کہ مدثر رشتہ داروں کو فون کرتا تھا۔ "وہ ہر رشتے دار کی دیکھ بھال کرتا تھا ، انہیں ڈاکٹر کے پاس لے جاتا تھا اور دوا ئی لاتا تھا۔‘‘جس رات مدثر نے آخری سانس لی ، اس کی والدہ ایک بجے تک ان کے ساتھ تھیں۔ ان کا کہنا تھا’’اس نے میرے سامنے عارف صاحب کے ساتھ لمبی بات کی۔انہوں نے مزید کہا کہ مدثر نے اس کے بعد رات کا کھانا کھایا۔اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے ، اس نے بتایا کہ وہ سونے گئی تھی اورصبح تقریبا 2. ڈھائی بجے ، مدثر کی گھنٹی بجی اورمیں سیدھے اس کے کمرے میں گئی، وہ سینے میں درد سے تڑپ رہا تھا، اس نے مجھے بچانے کے لئے کہا۔انہوں نے کہااسی اثنا میں ، مدثر کا چھوٹا بھائی جہانگیر علی اسے مقامی اسپتال اور بعد میں ایس ایم ایچ ایس اسپتال لے گیا ، لیکن وہ بچ نہ سکا۔بعض اوقات چھوٹی چھوٹی چیزیں جو زندگی میں ہوتی ہیں وہ آئندہ ہونے والی بڑی چیزوں کا اشارہ دیتی ہیں۔مدثر کے انتقال سے کچھ دن پہلے اسی طرح کی چیزیں ظاہر ہونے لگی گویا اس نے اپنے آپ کو آخری سفر کے لئے تیار کرلیا ہے۔جمعرات کے روز ، انہوں نے اپنے بال بنوائے، اسی دن شام کو ، وہ اپنی والدہ کے ساتھ بیٹھاتھا ، اس کے ساتھ ہلکی سی گفتگو کی اور اپنے ناخن تراشے۔مدثر علی کو چھوٹے بھائی ، جہانگیر علی کے ساتھ ایک انوکھا رشتہ تھا۔مدثر اور جہانگیر نے جامعہ کشمیر ، میڈیا ایجوکیشن ریسرچ سنٹر (MERC) میںساتھ مل کر صحافت کی تعلیم حاصل کی ، اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز ایک ساتھ کیا ۔مدثر نے جہاں کشمیر میں ہی صحافت کرنے انتخاب کیا ، وہیں جہانگیر دہلی گئے اور وہاں کام کیا۔ جہانگیر نے کہا’’بھائی میرا سب سے بڑا معاون تھا‘‘انہوں نے کہا’’میرا دہلی جانا اور اپناکیریئر بنانا صرف اسی لئے ممکن تھا کیونکہ وہ گھر والوں کی دیکھ بھال کرنے کے لئے موجود تھا ۔ انہوں نے مزید کہا ’’ان کے انتقال سے کوئی اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتا ہے کہ ہم پر کیا گزری ہے۔‘‘نم آنکھوں سے ، جہانگیر نے مدثر کے آخری لمحوں کو یاد کرتے ہوئے کہا ، کہ وہ ڈاکٹروں سے کہہ رہا تھا کہ اس کو وینٹی لیٹر پر رکھیں۔ان کا مزید کہنا تھاوہ میرے بازوؤں میں گر گیا، وہ بات کرنا اور کچھ کہنا چاہتا تھا ، تاہم ، وہ بول نہیںسکاکیونکہ اسے سانس لینے میں مشکل محسوس ہورہی تھی۔ ‘‘جہانگیر نے کہا کہ وہ مدثر کی روایت کو جاری رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
 

تازہ ترین