تازہ ترین

دوسری لہر کے خدشات کی سنگینی کو عوام محسوس کریں

تمام احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی عوامی نمائندوں اور قائدین کی اپیل

تاریخ    24 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


ممبئی//آج 8 ، 9 ماہ بعد کورنا کے خوف و ہراس سے چھٹکارہ پانے اور زندگی کو حسب سابق روزمرہ کے معمولات کے مطابق گزارنے کی ابتداء میں ہی ایک بار پھر سے یہ خطرہ عوام کے سروں پر منڈالنے لگا ہے ، اور ملک میں اس کی دوسری لہر کی آمد کے خدشات نے نہ صرف ریاستی حکومتوں ، حتیٰ کے ملک کی اعلیٰ ترین عدالتِ اعظمیٰ کو بھی اس معاملے میں چوکنا کر دیا ہے ۔ کورونا کی یہ دوسری لہر جو مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے خدشات کے مطابق ایک " سونامی " بھی ہو سکتی ہے ، انھیں سخت محتاط اور صحت عامہ کے تیئں اپنی ذمہ داریوں کے سلسلے میں ایک بار پھر سے غور و فکرکرنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ، سپریم کورٹ نے بھی پیر کو یہ مشاہدہ کیا کہ آنے والے مہینوں میں ملک بھر میں وبائی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے ، اور ریاستوں کے ساتھ ساتھ مرکز کوویڈ 19 بحران سے نمٹنے کے لیے ایک ببتر اور اچھے طریقے کار سے پوری طرح سے لیس ہونا چاہئے ۔ اور اسی پس منظر میں عدالتِ اعظمیٰ نے ریاست مہاراشٹرا کے بشمول دہلی ، گجرات اور آسام ریاستوں کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ ریاستوں میں کوویڈ 19 کیسوں کے سلسلے میں، متوقع بحرانی صورتحال سے نمٹنے کے لئے زمینی صورتحال کے ساتھ ہی اٹھائے گئے اقدامات کی اسٹیٹس رپورٹس درج کریں ۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے " کوویڈ-19 مریضوں کا مناسب علاج اور اسپتالوں میں لاشوں کے تعلق سے قابل احترام طریقہ کار کو اختیار کرنے سے متعلق " عنوان کے تحت ایک سوموٹو پتیشن کے سماعت کے دوان اس معاملے میں ازخود کاروائی کرنے ہوئے ریاستی حکومتوں کو2 دن کے اندر اپنی رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔اور عدلت آئندہ جمعہ کو اس معاملے کی اگلی سماعت کررہی ہے ۔مہاراشٹرا میں دوسری لہر کے خدشات کے پیش نظر ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پورا بھی یہ بیان دے چکے ہیں کہ "ہم متعلقہ محکموں سے بات کر رہے ہیں۔ اگلے 8،10 دنوں تک صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد " لاک ڈاؤن" کے بارے میں مزید فیصلہ لیا جائے گا۔" انکے مطابق مہاراشٹرا میں تہوار کے سیزن کے بعد کورونا وائرس کے معاملات میں بڑے پیمانے پر اضافہ دیکھنے میں آیاہے ، نیز اور انھوں نے یہ واضح کر دیا "دیوالی کے دور میں بہت زیادہ ہجوم تھا۔ گنیش چورتھوتی کے وقت بھی بہت ہجوم دیکھا گیا۔علاوہازیں طبی ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ مختلف عوامل کے باعث دیوالی کے بعد کورونا وائرس کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے بھی کل اپنے عوام سے اپنے خطاب میں عوام کی جانب سے کی جا رہی بداحتیاطیوں پراپنی ناراضگی کو نہیں چھہایا بلکہ اسکا برملا اظہار کرتے ہوئے عوام کو متنبہ کیا کی وہ اگر اسی طرح بداحتیاطی کا مظاہرہ کرتے رہیںگتے تو حکومت کو ایک بار بھر سے اپنے موجوہ موقف کا جائزہ لینا پڑے گا ۔ کورونا وائرس کی دوسری لہرکے خدشات کے پیش نظر عوامی رہنماوں اور سیاسی قائدین نے یو این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے عوام کو سخت محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے ۔سابق رکن پارلیمنٹ اور ریاستی وزیر حسین دلوائی نے کہا کہ عوام حکومت اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے دی گئی ہدایات پر سختی سے عمل پیرا رہیں، بصورت دیگر ہماری اب تک کی کوشیشیں ضائع ہو جائیںگی۔اسی طرح ریاستی وزیر برائے اقلیتی امور نواب ملک نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اب جونکہ حکومت نے مندروں اور مسجدوں کو عبادات کے لیے کھول دیا ہے ، تو پوری احتیاط کے ساتھ اس ملی ہوئی سہولت کا فائدہ اٹھائیں اور ماسک، ضروری جسمانی فاصلہ برقرار رکھیں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری زار سی غفلت اور کوتاہی ایک بار پھر سے ہمیں مشکلات میں ڈال دے ۔ سابق ریاستی وزیر اورکانگریسی قائد عارف نسیم خان نے کہا کہ بین الاقوامی ، ملکی ماہرین اور حکومت کے جانب سے ظاہر کیے جا رہے خدشات کو عوام ہلکے میں نہ لیں بلکہ اس کی سنگینی کو محسوس کریں اور سنجیدگی کے ساتھ حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔

تازہ ترین