تازہ ترین

کانہء والَے

نظریہ اور ثقافت کی بے باک ترجمانی

تاریخ    24 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


فیصل اقبال
سرینگر کے ٹائیگور ہال میں29 اکتوبر 2020 کو ڈاکٹر شوکت شفا کے کشمیری شاعری مجموعے"کانہ والَے" اور حمدیہ البم "سونچہ سْدرک ملَر‘‘کی رسمِ رونمائی ایک پْر ہجوم ،پْر رونق اور پروقار تقریب میں ہوئی۔تقریب کا اہتمام جموں وکشمیر کلچرل اکادمی اور مراز ادبی سنگم نے مشترکہ طور کیا تھا۔
ڈاکٹر شوکت شفا کی کتاب " کانہ والے " چھ حصوں یا چھ ابواب پر مشتمل  ہے۔ہر ایک باب کا افتتاح حمد، نعت،سلام اور دعا سے کیا گیا ہے۔اس کے بعد ہی تہذیب، ثقافت، نظریے، رویّے اور معاشرے کے بات کی گئی ہے۔یوں ڈاکٹر صاحب بیک وقت نظریے اور ثقافت کے شاعر نظر آتے ہیں۔آپ کی شاعری سے انقلابی روح ، معاشرے کی اصلاح اور ثقافتی ورثہ کی بازیابی جھلکتی ہے۔" کانہ والے" میں آپ کی سوچ اور درد کا سنگم نظر آتا ہے۔ڈاکٹر شوکت شفا اکیسویں صدی کے شاعر نظر آتے ہیں مگر اپنے ثقافتی ورثہ سے بے انتہا تعلق کے دلدادہ بھی دکھائی دیتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے معاشرے کا سچ دل کی کیفیات سے بیان کیا ہے جو پڑھنے اور سمجھنے سے تعلق رکھتا ہے اور یہاں تبصرے میں ان کیفیات کو نہ تو بیان کیا جا سکتا ہے اور نہ احساس دلایا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر شوکت شفا نے کتاب کو "اْس نا معلوم کے نام کیا ہے جو اْن کو معلوم ہے "۔
لکھتے ہیں "تمس نامعلوم سندی ناوی یْس مے معلوم چْھ "
اِن الفاظ میں گیرائی اور گہرائی کا اندازہ ادب سے تعلق رکھنے والے ہی کر سکتے ہیں۔ چھ ابواب کے علاوہ کتاب پر کشمیری زبان میں تبصرے ،تعریف و توصیف نامور محقق، ادیب، نقاد اور شاعر جناب رفیق راز صاحب کے علاوہ اس فن سے وابستہ مشہور شخصیات جناب علی شیدا، جناب شہناز رشید، جناب منیب الرحمن اور جناب شبیر احمد شبیر کے شامل ہیں۔
جناب رفیق راز صاحب رقمطراز ہیں :" ڈاکٹر شوکت شفا ہماری نئی نسل کے شاعر ہیں۔کشمیری شاعری کو آگے لے جانے والے شاعروں میں شفا صاحب تقریباً سب سے آگے ہیں۔اس کتاب میں مجھے ایسی کوئی تخلیق نظر نہیں آئی جو عروض کے حساب سے کمزور ہو یا جس میں کسی قسم کا سقم موجود ہو۔ایک اور بات جومیرے حساب سے بہت اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ آہنگ اور عروض کے لحاظ سے شوکت شفا کی شاعری میں ایک تنّوع ہے۔یعنی ان کی آہنگ کا دائرہ وسیع ہے۔ مجھے اپنی جگہ اب تک یہ گمان تھا کہ یہ خصوصیت میرے علاوہ کسی اور شاعر کی شاعری میں نہیں ہے مگر شوکت شفا صاحب نے میرا یہ بھرم توڑ دیا۔۔..رفیق راز ( کشمیری سے ترجمہ)
ڈاکٹر شوکت شفا کتاب میں ایک پریکٹیکل شاعر نظر آتے ہیں اور محض خیال آرائی سے کوسوں دور دکھائی دیتے ہیں، اس لئے ان کا یہ شاعری مجموعہ عمل پر ابھارتا ہے۔ ان کی شاعری کا حسن اور لطف پڑھنے اور برتنے سے تعلق رکھتا ہے اور فنی پہلو سے تعریف وتوصیف رسم رونمائی میں پروفیسر مجروح رشید صاحب اور جناب رفیق راز صاحب کے علاوہ اس فن سے جڑے دیگر محققین سے ہی پتہ چلتا ہے جنہوں نے اس پہلو کی تقریب میں بہت مدح سرائی کی۔ان شخصیات میں جناب منیر الاسلام سیکریٹری جموں وکشمیر کلچرل اکادمی، مشہور و معروف براڈکاسٹر شری ستیش وِمَل، صدر مراز ادبی سنگم جناب ریاض انزنو اور جناب جی ایم لالو صاحب شامل ہیں۔ان سرکردہ شخصیات نے شوکت شفا کے شاعری مجموعے پر ہر پہلو سے روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر شوکت شفا جنوبی کشمیر کے ایک گائوں شرپورہ فرصل کولگام سے تعلق رکھتے ہیں۔آپ پیشے سے ایک ماہر امراضِ اطفال ہیں اور اس وقت گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔آپ نے نیو نٹالوجی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔یوں تو  اکثر لوگ اگر ایک فن میں ماہر ہوتے ہیں تو دوسرے فن میں وہ کوئی کارنامہ انجام نہیں دے پاتے ۔مگر ڈاکٹر صاحب دونوں فنون میں یدِطولیٰ رکھتے ہیں۔ طب اور شاعری کا سنگم بہت ہی کٹھن سنگم ہے مگر ڈاکٹر صاحب کی محنت ،لگن اور دلچسپی سے یہ ممکن ہو سکا ہے۔ڈاکٹر صاحب کی دلچسپی کا میں چشم دید گواہ ہوں۔پلوامہ کے ایک کلنک سے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ان کی گاڑی میں سفر کرنے کا ایک دو بار موقع ملا ہے۔ڈاکٹر صاحب گاڑی میں ہی شعر تخلیق کرتے رہے اور ساتھ ساتھ مجھے سناتے رہے اور تبدیلی بھی کرتے رہے۔مجھے اب نہ تو وہ اشعار یاد ہیں اور نہ یہ پتہ ہے کہ وہ تخلیق شاملِ کتاب ہے یا نہیں مگر ڈاکٹر صاحب کی تخلیق اور دلچسپی دونوں سے میں بہت متاثر ہوا۔
کتاب "کانہ والے" 192 صفحات پر مشتمل ہے اور بہت ہی خوبصورت گیٹ اپ کے ساتھ شائع کی گئی ہے۔اس کا کور پیج ہی دل کو موہ لیتا ہے اور ہماری ثقافتی ورثے کا امانت دار بھی۔کاغذ صاف، ہارڈ بائونڈ ( مجلد) اور پروف کی غلطیوں سے پاک ہے۔کتاب کو انک لنکس پبلشنگ ہاؤس پانپور جموں وکشمیر نے شائع کیا ہے۔ قیمت 370 روپے ہے مگر مواد، کوالٹی اور گیٹ اپ کے لحاظ سے قیمت بہت مناسب معلوم ہوتا ہے۔
امید ہے کتاب کو ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا اور بھر پور استفادہ کیا جائے گا اور یوں کشمیری زبان، ثقافتی ورثہ اور ادب کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں کتاب سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے اور علم وعمل میں برکت عطا کرے۔آمین 
 

تازہ ترین