تازہ ترین

ذوقِ تجلی اور شوقِ ادراک

سٹیڈی ٹیبل

تاریخ    24 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر الطاف حسین یتو
ہے ذوق تجلی بھی اسی خاک میں پنہاں
 غافل تو نرا صاحب ادراک نہیں ہے
حکیم الامت کا یہ شعر فکر و ادراک کی وادی میں سرگرم انسان کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی ایک کوشش ہے کہ انسان کا وجود خاکی محض فکر کی جولانیوں سے مطمئن ہوسکتا ہے اور نہ ہی حقیقی فوز و فلاح سے ہمکنار ہوسکتا ہے۔ خاک کا یہ پتلا، جو عقل و دل کی کشمکش میں مبتلا رہتا ہے، ادراک کی بلندیوں پر پہنچ کر بھی اگر کسی چیز میں سکون پاسکتا ہے تو وہ ذات باری کی تجلی ہے، جس سے ہر انسان اپنی استطاعت اور صلاحیت کے مطابق مستفید ہوسکتا ہے اور ہوتا آیا ہے۔ قرآن کی آیات نہ صرف انسان کی فکر و ادراک کی صلاحیتوں کو نکھارتی ہیں بلکہ ان کو ایک ایسی سمت اور جہت عطا کرتی ہیں کہ انسان ہمیشہ فکر کی پرواز کو برقرار رکھنے کے لئے تجلء رب کا متلاشی اور طلبگار رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآں فکر کی صلاحیت پر اترانے والے انسان کی نفسیات کو یوں بیان کرتا ہے: اور اے نبی (ص)، ان کے سامنے اس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا مگر وہ ان کی پابندی سے نکل بھاگا۔آخر کار شیطان اس کے پیچھے پڑ گیا یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہوکر رہا۔ اگر ہم چاہتے تو اسے ان آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے،مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا۔( الاعراف: 175-176)
؎روح و بدن کی اس دوئی کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ کئی فلاسفہ نے اس کو موضوع بحث بناکر کئی ایک نتائج اخذ کیے۔ نتیجتاً" روح یا عقل کو لافانیت کی سند عطا ہوئی جبکہ بدن کو فانی اور بے ثبات قرار دیا گیا۔ البتہ فلاسفہ کی طرف سے روح کا منبع ڈھونڈتے ڈھونڈتے اعلان ہوا کہ روح دراصل "عالمی روح" سے آتی ہے۔ اس تصور کے مطابق روح بدن کے ساتھ جڑ کر ایک طرح سے پھنس جاتی ہے اور ہر لحظہ اپنے اصلی منبع یعنی عالمی روح سے جدائی کو محسوس کرتی ہے۔ اس طرح روح تب تک قرار نہیں پاتی جب تک کہ یہ موت واقع ہونے پر بدن سے آزاد ہوتی ہے اور پھر عالمی روح کے ساتھ اس کا اتصال ہوجاتا ہے۔ کئی مسلم فلاسفہ، جیسے الکندی اور الفارابی نے اس نو افلاطونی تصور کو اسلامی فکر کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔ نتجتا" ان کی اس کاوش نے اسلام کے تصور الہ کو فکری طور پر ایک مجرد شکل دے ڈالی۔
دنیائے اسلام میں خدا کے اس مجرد تصور کو فلسفہ یونان کے زیر اثر معتزلہ نے متعارف کرایا۔ مامون الرشید کے دور حکومت میں اس تصور کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہوئی۔ امام احمد ابن حنبل (رح) نے سواد اعظم کی نمائندگی کرتے ہوئے اس کی پرزور مخالفت اور مزاحمت کی۔ امام صاحب کو مامون اور معتصم کے دور میں مسلسل عتاب کا شکار بنایا گیا۔ تاہم امام صاحب نے عزیمت کا پہاڑ بن کر اس تصور کو مات دی۔ اس طرح متوکل کے دور حکومت میں خدا کا "سیدھا سادہ" تصور بحال ہوا اگرچہ فکری سطح پر معتزلہ کا تصور خدا قائم رہا۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگرچہ معتزلہ کی یہ تحریک تصور "خلق قرآن" کے جلو میں چل رہی تھی، تاہم اس ساری فکری تگ و دو کے پیچھے خدا کے اسی تصور کو عام کیا جارہا تھا جس میں عوام کے لئے کوئی کشش تھی نا کوئی دلچسپی۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام نے عقل اور دل کی اس کش مکش میں بہترین امتزاج پیدا کرکے ایک اعتدال قائم کیا ہے۔ یہاں پر اگرچہ ذوق تجلی کو پروان چڑھانے کے وافر مواقع مہیا رکھے گئے ہیں، لیکن شوق ادراک کا کبھی بھی گلا نہیں گھونٹا گیا۔ بے شک کئی ایک مبادیات کے بارے میں سوالات کو غیر ضروری قرار دیا گیا ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ اعلان کیا گیا ہے کہ "حسن السئوال نصف العلم" یعنی اچھا سوال کرنا نصف علم ہے۔ حصول علم کو اس صورت میں بھی پروان چڑھایا گیا ہے کہ "لا ادری نصف العلم" یعنی اگر کوئی یہ کہے کہ میں نہیں جانتا تو گویا اس نے نصف علم حاصل کرلیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لا علمی کا اعتراف کرنے والا حصول علم و ادراک کی طرف اپنا پہلا قدم اٹھاتا ہے۔
نبی (ص) نے اسی رویے کو پروان چڑھایا ہے۔ جب ایک مسافر اونٹ کو کھلا چھوڑ کر نبی (ص) کی محفل میں اس اطمینان کے ساتھ بیٹھ جاتا ہے کہ "میں نے اونٹ کو اللہ پر توکل کرکے کھلا چھوڑ دیا ہے" تو اسے نصیحت کی گئی کہ "اعقلھا ثم توکل" یعنی پہلے اونٹ کو باندھو پھر اللہ پر توکل کرو! اسی طرح بدر کے موقعے پر جب نبی (ص) نے تمام انتظامات کو اسباب کے تحت اختیار کیا تو اللہ تعالٰی نے ملائکہ کو نصرت کے لئے اتارا۔ شاید اسی ادا کو علامہ اقبال نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے:
 فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
 اتر سکتے ہیں قطار اندر قطار اب بھی
تاہم علامہ نے عقل و عشق کی اس معرکہ آرائی کو اسوہ ابراہیمی (ع) کے ذریعہ ذرا مختلف پیرائے میں بیان کیا ہے:
بے خطر کود پڑا نار نمرود میں عشق
 عقل ہے محو تماشا لب بام ابھی
ذکروفکر کے رویے سے متصف افراد کے ذریعے اسی اصول پر مبنی ریاست بھی قائم ہوتی ہے۔ الفارابی نے "ریاست مدینہ" کے تصور کو ہی افلاطون کی مثالی ریاست پر منطبق کیا ہے۔ وہ رقمطراز ہیں کہ مثالی ریاست کے حکمران کو یا تو نبی ہونا چاہئے یا اس میں فکری اور اخلاقی دونوں دائروں میں نبی جیسے اوصاف کا حامل ہونا چاہئے۔ تاریخ اسلام بلکہ تاریخ عالم میں ریاست مدینہ ہی وہ مثالی ریاست ہے جس کو سید الانبیاؐ نے قائم فرمایا اور خلفاء راشدون (رض)، جو درسگاہ نبوی کے پروردہ تھے، نے پروان چڑھایا۔ الفارابی کے سیاسی فلسفے کی رو سے ایک مثالی ریاست کے حکمران کو ریاست کے شہریوں کی دونوں دنیاوں (یعنی دنیا اور آخرت) کی نجات کا سامان کرنا ہوتا ہے، اس لئے ایسے حکمران کو ذکر اور فکر کی صلاحیتوں سے مالامال ہونا چاہئے۔ ظاہر ہے کہ ایسا حکمران رات کو مسکینوں کی خبرگیری کے ساتھ ساتھ اپنے عوام کی پہرے داری بھی کرتا ہے۔ وہ دن کو جہاں بانی کے فرائض انجام دیتا ہے اور رات کو اللہ کے ذکر کے ساتھ ساتھ اللہ کے نظام کائنات پر غور و فکر بھی کرتا ہے۔ از روئے آیات قرآنی: ہوش مند لوگ، جو اٹھتے، بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور زمین اور آسمانوں کی ساخت میں غوروفکر کرتے ہیں۔(آل عمران: 190-191)
یہی وجہ ہے کہ تاریخ عالم میں ہر ذی علم و ادراک شخصیت کو اپنے فلسفے اور نظریے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جذبات سے پر افراد کی ضرورت پڑی ہے۔ جس کسی کو ایسے افراد کی فراہمی ممکن نہ ہوسکی، اس کا نظریہ فقط ایک یوٹوپیا ثابت ہوا۔ تاریخی طور پر اس مسلمہ اصول میں اگر کوئی استثنا ہے تو وہ اس تحریک کو حاصل ہے جو قرآن کے آفاقی اصولوں پر مبنی تھی اور جسے سیدالانبیا ؐنے برپا کیا۔ آپؐنے بنفس نفیس اپنے متبعین میں ذوق تجلی اور شوق ادراک کا امتزاج پیدا فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ دن کے شہسوار اور راتوں کے تہجد گزار (فرسان فی النہار و رہبان فی الیل) بن گئے۔
عبدالرحمن ابن خلدون نے بھی بڑے ہی واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ اگر فہم و ادراک کے زور سے کسی کو مذہب کی مبادیات کا قائل کیا بھی جائے تو اس کو تیقن کی حالت تک پہنچانے کے لئے اس کے دلی جذبات اور احساسات کو متاثر کرنا ازحد ضروری ہے۔ تبھی ہم دیکھتے ہیں مناظرہ بازی سے دینداری کی تخم ریزی نہیں ہوتی، جبکہ خلوص و ایثار پر مبنی دعوت ہمیشہ دلوں کو مسخر کرتی ہے اور دین کو دلوں میں راسخ کرتی ہے۔ ذکر و فکر کے اسی اسی امتزاج کو مولانا رومی نے ان اشعار میں نہایت متاثر کن انداز میں بیان کیا ہے۔
ایں قدر گفتیم باقی فکر کن
 فکر اگر جامد بود، رو ذکر کن
ذکر آرد فکر را در اہتزاز
 ذکر را خورشید ایں افسردہ ساز
علامہ اقبال نے بھی قرآن کے پیغام فقر و زہد کو ذکر اور فکر کا اختلاط قرار دیکر ذوق تجلی اور شوق ادراک کو اس شعر میں سمیٹا ہے:
 فقر قرآں، اختلاط ذکر و فکر
 فکر را کامل نہ دیدم جز بہ ذکر
(مصنف ڈگری کالج کوکرناگ میں اسلامک سٹیڈیز کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)
 ای میل۔ alhusain5161@gmail.com
فون نمبر۔ 9858471965