تازہ ترین

بائی لائن ’مدثر علی‘ معدوم

پیشہ ٔ صحافت بھی سوگوار و نوحہ کناں

تاریخ    24 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


شاہ عباس
کسی قریبی شخص کے انتقال کے صدمے سے دو چار ہونا ایک ایسا تکلیف دہ تجربہ ہے جس سے جلد یا بدیر ہر انسان کو گزرنا پڑتا ہے۔ کسی قریبی ہستی کا انتقال ہو جاتا ہے تو انسان پر جو گزرتی ہے اُس کو الفاظ کا جامہ نہیں پہنایا جاسکتا۔کچھ ایسا ہی احساس صحافی مدثر علی کی اچانک موت سے اُن کے ہر جاننے والے کو ہوا ہے۔حالانکہ راقم کو مدثر کے ساتھ بہت زیادہ قریبی مراسم نہیںتھے لیکن کئی برس کی پیشہ ورانہ شناسائی نے مجھے اُن کے ساتھ ایک گہرے اور انجانے رشتے میں جوڑا تھا ۔
کسی بھی چیز کے کھو جانے یا خاص طور پر کسی قریبی انسان کی موت کے بعد انسان غم کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ یہ تمام مراحل اپنا وقت لیتے ہیں ۔ہم عموماً زیادہ دکھی تب ہوتے ہیں جب کسی ایسے شخص کو کھو تے ہیں جسے ہم کچھ عرصے سے جانتے ہوں۔ لیکن دیانتدار صحافی مدثر ایک ایسی شخصیت کا مالک تھے جس کی موت کی خبر نے اُن کو سر کی آنکھوں سے نہ دیکھنے والوں کو بھی کف افسوس ملنے پر مجبور کیا کیونکہ وہ ایک ایسا نام تھا جس کی شناخت اُس کا قلم تھا۔صد افسوس! کہ مدثر کی موت سے قارئین ایک بے باک قلم سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے محروم ہوگئے اوراخبار و جرائد سے ’ مدثر علی‘ کی بائی لائن معدوم ہوگئی۔    
کسی قریبی شخص کے انتقال کے فوراً بعد زیادہ تر لوگ پہلے کچھ گھنٹوں اور دنوں تک شدید بے یقینی کا شکار ہوجاتے ہیں ،انہیں یہ یقین نہیں ہوتا ہے کہ ایسا ہو چکا ہے۔مدثر کی موت سے اُن کے والدین و دیگرافرادخانہ بشمول اُن کے بھائی جہانگیر علی ،جو خود بھی ایک جانے پہچانے صحافی ہیں، پر کیا بیتی ہوگی؟اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کیونکہ مدثر کے سبھی جاننے والے ایک ایسے صدمے میں مبتلاء ہیں جس سے نکلنا بہت ہی مشکل ہورہا ہے۔کئی دفعہ مرنے والے کی نعش کو دیکھنے سے انسان کو اس بات کا یقین آنا شروع ہوتا ہے کہ ایسا واقعی میں ہو چکا ہے۔مدثر کے انتقال کی خبر سننے والے اُن کے دوست و احباب بھی اُن کی رحلت کے بارے اسی بے یقینی میں مبتلاء تھے،یہی وجہ ہے کہ مرحوم مدثر کی نماز جنازہ میں شرکت کیلئے اُن کے جاننے والوں کی بڑی تعداد دمبخود حالت میںاپنے یار ’مدی بھائی‘ کو خیر باد کہنے کیلئے چرار شریف میں علمدار کشمیر ؒ کے آستان عالیہ کے صحن میں جمع تھی۔ بے یقینی ، جھنجھلا ہٹ اور بے بسی کے عالم سے باہر آتے ہی راقم کو مدثر سے ہوئی ایک ایک ملاقات یاد آ نے لگی اورمیری آنکھوں کے سامنے مدثر کی سنجیدہ شخصیت کا ایک ایک پہلو لوٹ لوٹ کے گھومنے لگا۔ 
 مدثر کی موت سے وادی کشمیر ایک ایسے پیشہ ور صحافی سے محروم ہوگئی جس نے کبھی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ پیشہ ورانہ حد بندیوں کو پھلانگا ۔ڈیسک رپورٹنگ کے شدید مخالف مدثر کو اکثر جائے خبر کے آس پاس دیکھا جاسکتا تھا اور اُن کے اکثر قریبی ساتھی کسی خبر کی تفصیلات اور اس سے جڑے حقائق جاننے کیلئے مدثر سے رجوع کرتے تھے۔اس پر طرہ یہ کہ شریف النفس مدثر خود کام میں مشغول ہونے کے باوجود کسی کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔راقم کو ایک بار کسی واقعہ کے سلسلے میں تفصیلات کی طلب تھی تو مدثر کی یاد آگئی۔فون ملایا لیکن نمبر مصروف آیا۔بار بار کی کوشش میں پندرہ سے بیس منٹ گذر گئے کہ اچانک مدثر علی کے نام کے ساتھ راقم کے فون کی گھنٹی بجی ۔رسمی الفاظ کے بجائے معذرت سے گفتگو کا آغاز کیا۔کہنے لگے’’معاف کرنا بھائی ہر ایک اُسی سٹوری کی تفصیلات جاننا چاہتا ہے جس کیلئے(ہنستے ہوئے) آپ بھی بار بار میرا نمبر ملا رہے تھے‘‘۔میں نے شرمندہ ہوکر مثبت میں جواب دیا اور مدثر انتہائی اطمینان کے ساتھ مجھے ساری تفاصیل دینے لگے۔
مدثر کے ایک قریبی ساتھی نے راقم کو بتایا کہ وہ کبھی مرحوم کا فون کسی وجہ سے نہ اٹھاتے تو وہ (مدثر) اُس وقت تک دوبارہ فون نہیں کرتے جب تک یہاں سے پہل نہ کی جاتی۔وہ کسی دوست کے ہاں رات دیر گئے جانے کا ارادہ کرتے تو نزدیک پہنچ کر بس ایک فون کال کرتے، دوست اٹھاتے تو ٹھیک ،ورنہ دوران شب ہی لوٹ جاتے۔ راقم کے نزدیک یہ طرز عمل مدثر کی خودداری اور غیرت مندی کا عکاس تھا۔   
مدثر کے ساتھ روزنامہ گریٹر کشمیر کے دفتر میں زیادہ وقت گذرانے والوں کے مطابق وہ ادارے کے نیوز روم کا فخر تھے ،جہاںکم تجربہ کار صحافیوں سے اُن کا رویہ بڑے بھائی اور سینئر ساتھیوں سے شفیق دوست جیسا تھا۔انہوں نے روایتی موضوعات کے ساتھ ساتھ کشمیر کے ایسے پہلوئوں پر اپنے قلم کو جنبش دی جو دوسروں کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں تھے۔ شایدیہ بھی ایک وجہ ہے کہ زیادہ سننے اور عمل کرنے والے مگرکم گو مدثر کے جاننے والے زندگی کے ہر شعبے کے اندر کافی تعداد میں موجود ہیں ،جو اُن کی تحاریر کے بڑے انہماک اور ذوق وشوق سے منتظر رہتے تھے ۔
ہر انسان بچھڑے ہوئے شخص کو ڈھونڈنے اور اس سے دوبارہ ملنے کے لیے تڑپنے لگتا ہے حالانکہ اسے پتہ ہوتا ہے کہ یہ نا ممکن ہے۔ اس حالت میں انسان بے سکون رہتا ہے، روز مرہ کی باتوں پہ توجہ نہیں دے پاتا ہے اور اس کی نیند بھی متاثر ہوتی ہے۔ ان مراحل میں کچھ لوگ ایسا بھی محسوس کرتے ہیں جیسے انہیں بچھڑنے والا شخص ہر جگہ نظر آتا ہو، خصوصاً اُن مقامات پر جہاں انہوں نے اسکے ساتھ زیادہ وقت گذارا ہو یا اُسے اکثر دیکھا ہو۔وادی کے سرگرم صحافیوں کی آنکھیں بھی مدثر کو ایک طویل عرصہ تک پریس کالونی ،پریس کانفرنسوں، پریس کلب وغیرہ مقامات میں ڈھونڈتی پھریں گی۔ 
مدثر کے سینے میں ایک درد مند انسان کا دل تھا ۔جب 19اور20نومبر2020کی درمیانی شب اسی دل نے اچانک دھڑکنا بند کیا تو  جواں سال صحافی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاموش ہوگیا۔ یعنی دل کے انتہائی صاف مدثر کا دل ہی اُن کی موت کا سبب بھی بنا۔مدثر کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بنا پرمیں یہ بات وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ کشمیر میںخود صحافت کا پیشہ بھی مدثر کی موت پر طویل وقت تک نوحہ کناں اور سوگوار رہے گا!
حق مغفرت کرے اور مرحوم کی روح کو اپنے ہاں اعلیٰ و ارفع مقام عطا کرے!آمین ثم آمین!
اے فرشتۂ اجل کیا خوب پسند تھی تیری
 پھول وہی چنا کہ سارا چمن ویران ہوگیا!