راجباغ میں کثیر منزلہ تجارتی عمارت کی تعمیرکا معاملہ

عدالت عالیہ کی اراضی کے مالکان حقوق کے دستاویزات یکم دسمبر تک پیش کرنے کی ہدایت

تاریخ    24 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


سرینگر// جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے صوبائی کمشنر کشمیر کو ہدایت دی ہے کہ راجباغ میں دریائے جہلم کے کنارے سے10سے 15فٹ دور تعمیر کی گئی کثیر منزلہ تجارتی عمارت کی اراضی کے مالکانہ حقوق سے متعلق دستاویزات یکم دسمبر تک پیش کرے ۔چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس پونیت گپتا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ڈویژنل کمشنر کشمیر کو اس سلسلے میں ریکارڈ پیش کرنے میں مزید وقت دیا ہے ۔ ڈویژنل کمشنر کشمیرنے عدالت میں دائر اپنے حلف نامے میں کہا ہے کہ اس سلسلے میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور اس معاملے میں واٹر ویز اتھارٹی آف انڈیا کے ساتھ رابطہ کیا گیا ہے ۔جموں و کشمیر پولیوشن کنٹرول بورڈ نے عدالت اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بلڈرکا یہاں 48 کمروں کی گنجائش والا ہوٹل اور ریسٹورنٹ بنانے کی تجویز ہے جس میں 80 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی۔سینئر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بی اے ڈار نے اپنے جواب میں کہا کہ انہوں نے چیف انجینئرمحکمہ جل شکتی، آبپاشی فلڈ کنٹرول کشمیر کیجانب سے ایک رپورٹ درج کی ہے ، جس کوریکارڈ نہیں کیا گیا ،عدالت نے کہا کہ اس ریکارڈ کو اگلی سماعت پر پیش کیا جائے۔عدالت نے محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول کشمیر کو ہدایت دی کہ وہ اس جگہ کی ستمبر 2014کے سیلاب کے فوٹو پیش کرے ۔سینئر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے اپنے پیش کردہ جواب میں بتایا کہ انہیں اس حوالے سے انسپکٹر جنرل پولیس ٹریفک کی جانب سے رپورٹ داخل کرنے کے لئے مزید وقت درکار ہے۔عدالت نے کہا کہ آئی جی پی ٹریفک کویہ دیکھنا ہوگا کہ اگر اس جگہ پر ہوٹل بن گیا جس میں 80کمرے اور ایک ریستوران ہوگا تو ٹریفک کی کیا صورتحال رہے گی۔عدالت نے ہوٹل کے مالک  گلزار احمد شیخ کے وکیل ایم اے قیوم کو 10دنوں کی مہلت دیتے ہوئے ،درخواست پر جواب داخل کرنے کیلئے کہا ۔سرینگر میونسپل کارپوریشن کی طرف سے عدالت میں پیش ہوئے وکیل مومن خان نے بھی جواب داخل کرنے کیلئے 10دنوں کی مہلت طلب کی ۔
 

تازہ ترین