نگروٹہ تصادم آرائی پر اہم پیش رفت،سرحدسرنگ کے ذریعہ عبور کی:دلباغ سنگھ | ’جٹوال میں ٹرک پر سوارہونے سے قبل 14 کلومیٹر کی مسافت طے کی‘

تاریخ    23 نومبر 2020 (00 : 12 AM)   


سید امجد شاہ
جموں// ایک اہم پیش رفت میں سیکورٹی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ سانبہ سیکٹر میں ایک سرنگ کا پتہ لگایا گیا ہے جسے جیش محمد کے 4  جنگجوؤں نے پاکستان سے بھارتی حدود میں داخل ہونے کیلئے استعمال کیاتھا جنہیں نگروٹہ میں جاں بحق کردیاگیا۔یہ جیش محمد سے وابستہ جنگجو تھے۔واضح رہے کہ نگروٹہ کے بن ٹول پلازہ میں 19 نومبر 2020 کو ایک ٹرک کو روکا گیا اور تلاشی کے دوران ٹرک کاڈرائیور وہاں سے فرار ہوگیا جس پر شبہ ہوجانے پر باریکی سے ٹرک کے اندر تلاشی جاری رکھی گئی جس دوران جھڑپ میں چار جنگجوئوں کی ہلاکت ہوئی ۔انسپکٹر جنرل بی ایس ایف جموں فرنٹیئر این ایس جموال نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا، ’’ہمارے پاس انٹلیجنس اطلاعات تھیں کہ جنگجو جٹوال (سانبہ) سے ٹرک پر سوار ہوئے تھے لہٰذا ہم سرنگ کا پتہ لگانے کے لئے کام پر لگ گئے ، سرنگ کو تازہ کھودا گیا تھا‘‘۔ آئی جی بی ایس ایف نے مزید بتایا کہ 18 نومبر 2020 کی شام جنگجوئوں نے اس سرنگ کااستعمال کیا،وہ 12 تا 14 کلومیٹر کی مسافت طے کرکے جٹوال میں جموں پٹھان کوٹ شاہراہ پر پہنچے ۔اس کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے پولیس کے ڈائریکٹر جنرل  دلباغ سنگھ نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا،’’آج تحقیقات کی بنیاد پر سانبہ کے ریگل گاؤں میں سرنگ کا پتہ لگایا گیا تھا، جس پر پولیس نے کارروائی کی تھی، شواہد کی بنیادپر جھڑپ کے مقام سے حاصل ہونے والا مواد سرنگ کے ممکنہ محل وقوع کا تجزیہ کرنے میں مددگار تھا،ہم ممکنہ راستے کا پتہ لگانے کے لئے دیگر سیکورٹی اداروں کے ساتھ مل کر اس کیس کی تفتیش کر رہے تھے‘‘۔ڈی جی پی نے کہا’’تحقیقات اور شواہد نے سانبہ سیکٹر کی طرف اشارہ کیا، مزید تحقیقات کے دوران سیکورٹی فورسز کو ریگل گاؤں میں کامیابی کے ساتھ ایک سرنگ ملی جو چک پورہ پوسٹ (سیل کوٹ) کے قریب بور چوک سے دوسری طرف سے شروع ہوتی ہے‘‘۔پولیس سربراہ نے دعویٰ کیا’’نگروٹہ کے بن ٹول پلازہ میں ہلاک ہونے والے چار جنگجوئوں کو پاکستان کے چک پورہ پوسٹ سے چھوڑاگیا تھا اور وہ اس سرنگ کے ذریعہ سانبہ میں گھس گئے اور پھر کشمیر کی طرف جارہے تھے‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’یہ سرنگ تقریبا 150 میٹر لمبی اور 15سے20 فٹ گہری ہے، یہ سرنگ کافی چوڑی ہے (3 فٹ سے زیادہ) جسے کوئی آسانی سے استعمال کرسکتا ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’اس بات کا امکان موجود ہے کہ سانبہ سیکٹر میں اس سرنگ کے کھلنے تک کسی گائیڈ نے جنگجوئوں کا ساتھ دیا ہو گا کیونکہ سرنگ کو اندر اور باہر سے بھی ریت کے تھیلے استعمال کرتے ہوئے بند کردیا گیا ہے‘‘۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریت کے یہ تھیلے پاکستانی ساختہ ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں دلباغ سنگھ نے کہا’’ٹرک کے مفرور ڈرائیور کی تلاش جاری ہے، ٹرک ڈرائیور بن کے مقابلہ سے فرار ہوگیا تھا جبکہ ٹرک کی رجسٹریشن نمبر پلیٹ کا بھی جعلی اندراج ثابت ہواہے ، ٹرک کے دوسرے حصے پڑھنے کے قابل نہیں ہیں، تاہم ہم ٹرک کے مالک کی تلاش میں ہیں‘‘۔ڈی جی پی نے کہا’’یہ چاروں عسکریت پسند جیش محمد سے تھے، انہوں نے نگروٹہ میں جیش اور پاکستان نواز نعرے بھی لگائے جب انہیں ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کی گئی تاہم انہوں نے سیکورٹی فورسز پر بلا اشتعال فائرنگ شروع کردی‘‘۔پولیس سربراہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں عسکریت پسندی کو ہوا دینے میں ایک بار پھر پاکستان کی شمولیت سامنے آئی ہے۔انہوں نے کہا’’اسلحہ، وائرلیس سیٹ، کراچی سے بنا ٹیلیفون، ادویات، کپڑا، جوتے اور دیگر چیزوں سے پڑوسی ملک کاکردارعیاں ہوجاتاہے‘‘۔دلباغ سنگھ نے مزید کہا’’ان کے پاس ضلع ترقیاتی کونسل (ڈی ڈی سی) انتخابات کے دوران کشمیر میں آئی ای ڈی بنانے کے لئے آر ڈی ایکس تھا، ان کے اہداف سویلین اور سیکورٹی فورسز کی تنصیبات ہوسکتے ہیں‘‘۔
 
 
 
 

سانبہ میں زیرزمین ٹنل کی کھوج کیلئے آپریشن

نیوز ڈیسک
جموں //سانبہ سیکٹر میں ہندپاک بین الاقوامی سرحد پرزیرزمین ٹنل ،جسے جیش محمد کے چار جنگجوئوں نے پاکستان سے بھارت میں گُھس آنے کیلئے استعمال کیاہے،کا کھوج لگانے کیلئے بڑے پیمانے پرآپریشن شروع کیاگیا ہے ۔اس بات کااظہار یہاں حکام نے کیا۔یہ چاروں جنگجو جمعرات کوسرینگرجموں شاہراہ پر بن ٹول پلازہ پرایک جھڑپ میں اُس وقت جاں بحق ہوئے جب کشمیرجارہی ٹرک جس میں یہ سوار تھے ،کوچیکنگ کیلئے روکا گیا۔مارے گئے جنگجو سے پولیس کے مطابق بھاری مقدارمیں ہتھیار جن میں 11کلاشنکوف رائفلیں ،تین پستول،29ہتھ گولے،اورچھ یوبی جی ایل برآمد کئے گئے جو پولیس کے مطابق ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات کے دوران کوئی بڑی واردات انجام دینے کیلئے لائے گئے تھے۔ حکام کے مطابق مارے گئے جنگجوئوں سے برآمدکئے گئے مواد سے یہ شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ جنگجو سانبہ ضلع میںپاکستان سے بھارت کی طرف زیرزمین ٹنل کے ذریعے گھس آئے ہیں۔ حکام کے مطابق سانبہ ضلع میں بی ایس ایف کی طرف سے جمعہ سے اس ٹنل کا کھوج لگانے کیلئے بڑے پیمانے پرآپریشن جاری ہے اورشبہ ہے کہ یہ ٹنل ریگل گائوں سانبہ میں کہیں موجودہے۔پولیس اور فوج بھی اس کھوج آپریشن میں بی ایس ایف کے ساتھ شامل ہوئی ہے جوابھی جاری ہے۔
 
 

تازہ ترین