تازہ ترین

جسمانی طور خاص طالب علم کی موت کامعاملہ | میڈیکل بورڈ سرینگر 3 اراکین سمیت4ملازم معطل | مشیر فارو ق خان کی قصور واروں کے خلاف سخت کاروائی کی ہدایت

تاریخ    23 نومبر 2020 (00 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//سرینگر میںدسویں جماعت کے جسمانی طورخاص طالب علم کی موت کے مبینہ ذمہ داروں کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لا کر جموں کشمیر حکومت نے ڈسٹرکٹ میڈیکل بورڈ سرینگر کے تین ارکان اور درجہ چہارم ملازم کی فوری معطلی کے احکامات صادر کئے ۔جب جے کے بوس نے دسویں جماعت کے امتحانات میں لکھائی کیلئے انہیں کاتب کی خدمات فراہم کرنے سے انکار کیا ۔ مرحوم طالب علم جسمانی کمزوری اور معذوری کے سبب خود اپنا پرچہ لکھنے کے اہل نہ تھا ۔ مرحوم طالب علم کی بہن اور ماں نے17 نومبر 2020 کو میڈیکل بورڈ کے ساتھ رابطہ قائم کر کے فوت شدہ طالب علم کو مرکز کے باہر پارک کی گئی گاڑی میں ہی معاینہ کرنے کی درخواست کی تھی ۔ لیکن فوت شدہ طالب علم کا معائینہ نہیں کیا گیا اور جب وہ سانس لینے میں تکلیف محسوس کرنے لگا تو ڈاکٹروں نے باہر آ کر اُس کی جانچ کی اور اُس کو ہسپتال پہنچانے کی ہدایت دی جہاں اُسے مردہ قرار دیا گیا۔ مرحوم کے ہمراہ ہسپتال تک کوئی طبی عملے کا ورکر یا ڈاکٹر نہیں گیا ۔  بورڈ کے ارکان جنہیں معطل کیا گیا اُن میں سب ضلع ہسپتال گاندر بل کی کنسلٹینٹ فزیشن ڈاکٹر نیلوفر ، میڈیکل آفیسر لیپر ہسپتال ، ڈاکٹر شجا رشید اور گورنمنٹ غوثیہ ہسپتال سرینگر کی ماہر امراض چشم ڈاکٹر فرحانہ بشیر اور نرسنگ آڈرلی غلام حسن شامل ہیں ۔ اس ضمن میں پی ایچ ایس کے کی جانب سے جاری حکمنامے میں بورڈ ارکان کے ساتھ درجہ چہارم کی معطلی کے احکامات ایڈیشنل کمشنر کشمیر کی جانب سے موصول شدہ سفارش کے بعد جاری کئے گئے ہیں ۔ واضح رہے معطلی کا حکم لفٹینٹ گورنر کے مشیر فاروق خان جو کہ سماجی بہبود محکمہ کے انچارج بھی ہیں نے پرنسپل سیکرٹری سماجی بہبود محکمہ سے رپورٹ پیش کرنے کیلئے کہا جب چھانہ پورہ سرینگرکی  ایک لڑکی کا سوشل میڈیا پر ویڈیو سامنے آیا جس میں اس نے الزام لگایا ہے کہ اُس کا معذور بھائی سہیب ویل مشن ہیلتھ سنٹر جواہر نگر سرینگر کے دروازے پر میڈیکل بورڈ کے ڈاکٹروں اور عملے کی کوتاہی اور غیر پیشہ وارانہ برتاؤ کے سبب فوت ہوا ۔ مشیر خان نے محکمہ تعلیم کے حکام کو بوس کے افسران اور عملے کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لانے کیلئے کہا جو معذور طالب علم کی وفات کے ذمہ دار ہیں ۔