گاندربل کے کئی علاقوں میں زرعی اراضی سے مٹی نکالنے کا عمل جاری

تاریخ    23 نومبر 2020 (00 : 12 AM)   


ارشاد احمد
گاندربل//ضلع گاندربل کے کئی علاقوں میں کئی مقامات پر غیر قانونی طریقے سے زرعی اراضی اورپہاڑوں سے مٹی کھود کر فروخت کیا جارہاہے۔کئی علاقوں میں عدالت عالیہ کے حکم نامہ کو بھی نظر انداز کیا جارہا ہے۔گاندربل کے باباصالح،سینک سکول مانسبل،ستہ کریل،کوندہ بل اورواکورہ سمیت دیگر علاقوں سے مٹی اورپتھر نکال کراونچی قیمتوں پر فروخت کیا جارہا ہے۔بابا صالح،مانسبل اور سینک سکول علاقوں میں عدالت عالیہ کی جانب سے پتھر اور مٹی نکالنے کے خلاف باضابطہ روک لگادی گئی ہے لیکن اس کے باوجود بھی اس کاروبار میں ملوث افراد دن رات جے سی بی استعمال میں لاکر غیر قانونی طور پتھر اور مٹی فروخت کرتے ہیں۔پولیس اور ضلع انتظامیہ کی جانب سے کوئی بھی قانونی کارروائی یا روک نہ لگانے پر عوامی حلقوں میں شک و شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ کیوں یہ غیر قانونی عمل روکنے کیلئے کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔حال ہی میں پولیس تھانہ کھیر بوانی کی جانب سے ایل این ٹی مشین کو سرکاری اراضی سے ناجائز طریقے سے مٹی نکالنے پر ضبط کی گئی تاہم چند گھنٹوں کے دوران ہی اسے چھوڑ دیا گیا۔باباصالح، سینک سکول اور مانسبل حدود میں جنگلات کی اراضی اور سرکاری اراضی کو رات بھر جے سی بی استعمال میں لاکرغیر قانونی طریقے سے مٹی اور پتھر نکالے جارہے ہیں۔چک ینگورہ کے مقامی لوگوں کا ایک وفد ضلع ترقیاتی کمشنر سے اس سلسلے کو روکنے کیلئے فریاد کرنے گئے تاہم یہ سلسلہ جاری رہا ۔ضلع ترقیاتی کمشنر شفقت اقبال نے اس سلسلے میںکہا کہ قانون کے مطابق کارروائی انجام دی جائے گی۔ 
 

تازہ ترین