تازہ ترین

ثالثی کی تربیت عدالتی نظام کو مزید مؤثر بنانے کیلئے لازمی: چیف جسٹس

جوڈیشل افسروں کیلئے ہائی کورٹ کی جانب سے آن لائن تربیتی پروگرام اِختتام پذیر

تاریخ    22 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


جموں//جموںوکشمیر ہائی کورٹ کی ثالثی و مصالحتی کمیٹی نے جموں،کشمیر اور لداخ کے جوڈیشل افسران کے لئے منعقدہ چالیس گھنٹے طویل آن لائن ثالثی تربیتی سیشن کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سرپرست اعلیٰ ،جموںوکشمیر ہائی کورٹ کی چیف جسٹس، جسٹس گیتا متل نے جوڈیشل افسروں کے لئے ثالثی تربیت فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عدالتی نظام مزید مؤثر اور مفید بنایاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ عدالتی کام کاج محض ذہانت اور علم سے انجام نہیں دیا جاسکتا ۔انہوں نے کہا کہ اس کے لئے عقل ، عالمانہ شعور اور احکامات کا جامع علم اور انصاف پسندی کی بھی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ تربیت نہ صرف مختلف حقائق سے روشناس کراتی ہے بلکہ اسے جج صاحبان کی شخصیات کو بھی نکھارتی ہے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ تربیت سے علم میں اضافہ ہوتا ہے اور افسران اور ریسورس افراد کے مابین تبادلہ خیال سے مواقع پیدا ہوتے ہوئے جس سے شکوک و شبہات دور ہوتے ہیں۔ثالثی اور مصالحتی کی اہمیت کی اُجاگر کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہاتنازعات کے حل کے متبادل نظام کے لئے یہ سب سے بہتر نظام ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ تنازعات کے حل کامتبادل نظام عالمی سطح پر اہمیت اختیار کر رہا ہے ۔اپنے خطبے میں چیئرمین ثالثی و مصالحتی کمیٹی جسٹس تاشی ربستن نے کہا کہ جوڈیشل افسران کی تربیت کا مقصد عدلیہ کے نظام میں بہتری لانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تبادلہ خیال اور بحث وتمحیص سے قانون کے بارے میں شکوک و شبہات دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔کمیٹی کے ارکان جسٹس سندھو شرما، جسٹس رجنیش اوسوال اور جسٹس جاوید اقبال وانی نے جموں،کشمیر اور لداخ کے جوڈیشل افسران نے تربیتی ماڈیول مرتب و منظور کیا تھا۔ریسورس پرسنز ، سینئر ایڈوکیٹ جے پی سنگھ ، ایڈوکیٹ وینا رالی ، ایڈوکیٹ سمت چندر اور ایڈوکیٹ میتالی گپتا نے ورچیول ثالثی تربیت جوڈیشل افسران کو فراہم کی۔یہ ماہرین ثالثی کے ماہرین میں شمار ہوتے ہیں۔پروگرام کے کوآرڈی نیٹر رجسٹرار رولز مسرت روحی ( ڈسٹرکٹ اینڈ شیشنز جج) نے پروگرام انجام دینے میں کلیدی رول ادا کیا۔