تازہ ترین

نوجوان صحافی مدثر علی کا انتقال کشمیر کی صحافت کیلئے ناقابل تلافی نقصان

ہمہ گیر سطح پر خراج عقیدت اور اظہار تعزیت

تاریخ    22 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


سرینگر// گریٹر کشمیر سے وابستہ نوجوان صحافی مد ثر علی کے انتقال پر دوسرے روز بھی سماجی،سیاسی،صحافتی،مذہبی اور تجارتی انجمنوں کی طرف سے تعزیت کا سلسلہ جاری رہا،جس میں مرحوم کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کیا گیا۔جمعیت ہمدانیہ نے گریٹر کشمیر کے صحافی مدثر علی کے انتقال پر رنج وغم کااظہار کرتے ہوئے مرحوم کی جنت نشینی کی دعا کی۔انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن نے بھی جوان سال صحافی مدثر علی کے سانحہ ارتحال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لواحقین بالخصوص مرحوم کے برادر جہانگیر علی سے تعزیت کی ۔جموں کی صحافتی برادری نے بھی صحافی مدثر علی کی وفات پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔تعزیت کرنے والوں میں سنیئر صحافی ظفر چوہدری، دی پوئنیرکے بیرو چیف موہت کنڈھاری، صحافی فہیم ٹاک، صحافی ترون اوپادھیائے، اُڑان کے منیجنگ ایڈیٹر تنویر احمد خطیب، کشمیر عظمیٰ کے سابق ریزیڈینٹ ایڈیٹر رحمت اللہ رونیال، اُڑان کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر الطاف حسین جنجوعہ، روزنامہ لازوال کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر جان محمد، یٰسین جنجوعہ،شیخ خالد کرار، سنیئر فوٹو ایڈیٹر عمران میر، یوگیش سلگوترہ، وویک ماتھر، سنیئر فوٹو ایڈیٹر افضل شاہ، آرتیو شرما، اودھے بھاسکر، یش کھجوریہ، اکشے آزاد، ابھینو شرما، اروند شرما وغیرہ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ مرحوم نے کم عمری میںپیشہ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور منفرد پہچان بنائی۔انہوں نے سوگوار کنبہ، دوست واحباب اور ساتھیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے ایصال ِ ثواب کیلئے دعا کی ہے۔ جموں میںمحکمہ اطلاعات و رابطہ عامہ کے ملازمین نے مد ثر علی کے اچانک اِنتقال پر گہرے دُکھ کا اظہار کیا ہے۔اِس سلسلے میں میڈیا کمپلیکس میں میڈیا کارڈی نیٹر سیّد جیلانی قادری کی صدارت میں ایک تعزیتی اجلاس منعقد ہوا جس میں پی آر ، فوٹو یونٹ اور دیگر شعبوں کے تمام ملازمین نے شرکت کی۔ تعزیتی میٹنگ میں مدثر علی کے اچانک انتقال پر شرکا نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ محمد یاسین خان کی سربراہی والی کشمیر اکنامک لائنس اور کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن نے بھی مدثر علی کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ وادی ایک پیشہ وار صحافی سے محروم ہوگئی۔ غلام رسول گیلانی کی سربراہی والی ایجیک نے بھی مدثر علی کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کیا۔ کل جماعتی سکھ کارڈی نیشن کمیٹی کے چیئرمین اور اپنی پارٹی کے سنیئر لیڈر جگموہن سنگھ رینہ نے بھی مدثر علی کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مدثر ایک با صلاحت صحافی تھے اسی طرح لوک جن شکتی پارٹی کے امور کشمیر کے انچارج سنجے صراف کے علاوہ روزنامہ ان سائید کشمیر کے مدیر اعلیٰ سید جنید الاسلام نے بھی مدثر علی کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سوگواران سے تعزیت کی ہے ۔  گونمنٹ ڈگری کالج بارہمولہ کے شعبہ میڈیا اسٹیڈئز نے تعزیتی اجلاس میں مدثر علی کو خراج عقیدت اد کیا۔تعزیتی اجلاس میں کہا گیا کہ مدثر علی نے15سالہ صحافتی دور میں اپنی محنت اور مشقت سے قاپنی منفرد جگہ بنائی۔انہوں نے کہا کہ مدثر علی بھی کشمیر یونیورسٹی سے دیگر طلاب کی ہی طرح ڈگری لیکر باہر نکلے تاہم انہوں نے سخت محنت اور صحافت کے تئیں جنون سے اپنے تابناک مستقبل کی بنیادد رکھی تھی،اور وہ وادی کے ذہین نامہ نگاروں میں شمار ہونے لگے۔جموں کشمیر ایڈیٹرس فورم نے گریٹر کشمیر سے وابستہ سنیئر ایڈیٹر مدثر علی کے انتقال پر سخت صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت و تسلیت کی۔فورم نے مدثر علی کی عہد جوانی میں موت کو وادی کی صحافت کیلئے ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر  ایک ہونہار صحافی سے محروم ہوگئی۔ فورم نے مدثر کی جنت نشینی کی دعاء کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ انکے لواحق کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔