تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    22 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


کوئے قاتل میں ہم آئے ہیں مسیحا ڈھونڈنے
پتھروں کے شہر میں آئینہ خانہ ڈھونڈنے
میرا سایہ تک نظر آتا نہیں اب میرے ساتھ
میں کہاں جاؤں الٰہی اپنا سایہ ڈھونڈنے
آج کل جو لوگ دنیا چھوڑ کر رخصت ہوئے
کیا گئے ہیں وہ کہیں کووڈ کا نسخہ ڈھونڈنے
تیرے بندوں سے جو خالی ہوگئے دیر وحرم
جارہا ہوں میں کہیں اللہ کا بندہ ڈھونڈنے
ماسوائے کوچۂ قاتل کوئی رستہ نہیں
چند دیوانے لگے ہیں پھر بھی رستہ ڈھونڈنے
ان کی نادانی پہ حد درجہ تعجب ہے مجھے
کل گئے تھے جو کہ اپنوںمیں پرایا ڈھونڈنے
تشنگی لحظہ بہ لحظہ بڑھ رہی ہے شمسؔ کی
آؤ چلتے ہیں کسی صحرا میں دریا ڈھونڈنے
 
ڈاکٹر شمس کمال انجم
صدر شعبۂ عربی اردواسلامک اسٹڈیز 
بابا غلام شاہ بادشاہ یوینورسٹی راجوری
موبائل نمبر؛9086180380
 
 
 
اُس نے مجھ کو سوچا ہوگا، میرے بعد
اپنے دل میں جھا نکا  ہوگا ، میرے بعد 
تنہا ئی نے گھیر لیا جب ر ا تو ں کو
اُس نےمجھ کو  ڈھو نڈا ہوگا ،میرے بعد   
عکس مٹا کر اُس نے اپنے ہا تھو ں سے 
آ ئینے میں د یکھا ہو گا ،میرے  بعد
دید سے میری ہو کر وہ محر وم ضرور
رات کو اُٹھ کر رو یا ہو گا، میرے بعد
میری خاطر جان جو دینے والا تھا
خود کو کیسے ر و کا، ہو گا ،میرے  بعد 
جس رستے پر ہاتھ چُھڑا کر بھاگ گیا
اُس رستے پر دوڑا ہوگا میرے بعد 
ترکِ سکو نت تو میری تقد یر میں تھا
و ہ دہلیز پہ آیا ہو گا ، میر ے بعد
تکیے کے نیچے  میر ی تصو یر جو تھی 
چُھپ چُھپ کر سہلا تا ہو گا، میرے بعد 
اُس کا میری غزلوں میں تھا حُسن وجمال
شعر مرِ ے ہی گا تاہو گا ،میرے بعد
جیت نہ جس سے آج تلک میں پا یا تھا
اپنا سب کچھ ہار ا ہو گا ، میر ے بعد
میری پلکو ں نے جو اُس پہ تانا تھا 
کیسے اُ س پہ سا یہ ہوگا، میرے بعد
پُھول جو اُس کے ہاتھ میں رہ کر سوکھ گیا 
تُر بت پر و ہ ڈالا ہو گا ، میرے بعد 
 
پرویز مانوسؔ
آزاد بستی ویسٹ نٹی پورہ سرینگر 
موبائل نمبر؛9419463487
 
 
میں تو سلجھاتا رہا پیہم تری زلفوں کے خم
میں نے رسمِ عاشقی یوں تو نبھائی کم سے کم
 
ہوگئی ترکِ تعلق پر جو میری چشم تَر
آپ کے عہدِ وفا کا ہم نہ رکھ پائے بھرم
 
ہوگیا بے رنگ اُف رنگِ چنارِ کاشمر
رو رہی ہے ہرطرف شبنم بھی اب تو محترم
 
سرمدؔ و منصورؔ کا پیغام ہے اے اہلِ حق
حق پرستوں کے تو ہوتے ہی رہیں گے سرقلم
 
اب تو آجائو کہ ہے اب مختصر میری حیات
ہوگئے شل ذہن و دل بھی رہ گئیں سانسیں بھی کم
 
جو غمِ شہدائے کربل میں رہا نوحہ کناں
ہے اُسے لاریب جنت میں مقامِ محترم
 
نامۂ اعمال میں آثمؔ، نہیں کچھ بھی نہیں
صرف اہلِ بیتِؑ کی اُلفت ہے اُمید کرم
 
بشیر آثمؔ
باغبانپورہ لعل بازار، سرینگر
موبائل نمبر؛9627860787
 
وہ کچھ کچھ مہرباں سا لگ رہا ہے
قفس بھی آشیاں سا لگ رہا ہے
یہ کوئی خواب ہے یا وہم کوئی
وہ مجھ کو بد گماں سا لگ رہا ہے
لگا کے کان میں سنتا ہوں اس کو 
مجھے تو وہ اذاں سا لگ رہا ہے
یہ کیسے لوگ سوئے ہیں زمیں پر 
یہ کیسا شور سا یاں لگ رہا ہے
جلا کر آگ ہم آئے جہاں پر 
وہاں پر اب دھواں سا لگ رہا ہے
اُفق ہے اور نہ سورج چاند تارا
وہ پھر کیوں آسماں سا لگ رہا ہے
 
 ڈاکٹر امجد علی بابر
محلہ ڈنگس پونچھ 
موبائل نمبر؛9469072127
 
 
دِل مرِا کیونکر ترِا معتُوب ہے
یہ تو تیرے نام سے منسُوب  ہے
 
جان میری جو مرِا محبوب  ہے
جان اُس پر دوں تو کیا ہی خوب ہے
 
عشق کو سمجھیں عبادت ا ہلِ دِل 
تُو سمجھتا کیوں اِسے معیُوب ہے
 
وقت کے سانچے میں ڈھلنا چاہئے
زندہ رہنے کا  یہی اسلوب  ہے
 
رات دِن کیوں فکر میں رہتے ہو گُم
تُم سے تو بہتر منیؔ مجذوب ہے
 
ہریش کمار منیؔ بھدرواہی
  سیری، بھدرواہ،  جمّوں کشمیر
موبائل نمبر؛9596888463
 
 
زمین ہی نہیں ہے تلے آسمان کے 
کھڑا کیسے ہو گھر مجھے غم یہی ہے 
 
لہکتی ہے تلوار شعلے کی مانند
اُڑا دے گی وہ سر مجھے غم یہی ہے 
 
دُعا میں نے مانگی تھی جینے کی لیکن 
گلے پہ ہے خنجر مجھے غم یہی ہے 
 
جو شبنم کے قطرے تھے، سب چُن لئے ہیں
زمیں اب ہے بنجر مجھے غم یہی ہے 
 
ہوئی نیند آنکھوں سے بدظن عبیدؔ۱
جلے خواب در در مجھے غم یہی ہے 
 
عُبید اَحمد آخون
طالب علم، پاندریٹھن سرینگر 
حال اومپورہ ہاؤسنگ کالونی
موبائل نمبر؛9205000010
 
 

تازہ ترین