تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    15 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


دھڑکنیں قید ہیں زندان کی دیوار کے بیچ
شور کیسا ہے یہ زنجیر کی جھنکار کے بیچ
 
آئینہ دیکھ کے آ جائیں گے سب یاد تُمہیں
میرے نالے نہیں چھپتے کسی اخبار کے بیچ
 
خس وخاشاک سے آنچل کو بچا لو جاناں
خاک ہی خاک ہے اب تک دلِ مسمار کے بیچ
 
اے مسیحا تری آمد پہ ہی دم توڑ گیا
کوئی حسرت ہی نہیں تھی ترے بیمار کے بیچ
 
تُم تصّور میں بھی آتے ہو کئی حِصوں میں
کیوں اُترتے نہیں یکسر مرے اشعار کے بیچ
 
عین ممکن ہے کہ مل جائیں نصیبوں سے تمہیں 
ہم وہ یوسف نہیں آ جائیں جو بازار کے بیچ
 
میں نے بھی رکھ دیا جاویدؔ جلا کر دل کو
حوصلہ دیکھئے کتنا ہے مرے یار کے بیچ
 
سردارجاویدؔخان
پتہ، مینڈھر، پونچھ
موبائل نمبر؛ 9419175198
 
 
 
سرِ میخانہ ہوتا ہَے توُ ہم سے بدگُماں ساقی
لئے جاتا ہے اب تک بھی ہمارا امتحاں ساقی 
گوارا ہو بھلا کیسے سلوکِ ناروا تیرا
سبب اِس کے ہی کھولے ہے زباں یہ بے زباں ساقی
یہاں پر کھینچ لاتا ہے ہمیں دیوانہ پن اپنا
سکونِ دل کی خاطر ہے یہی آخر مکاں ساقی
ہمارا باہمی مانو بہت دیرینہ رشتہ ہے
جو توڑو گا اسے تُو تو تِرا ہوگا زیاں ساقی 
حصولِ شادمانی کو یہاں میخوار آتے ہیں
یہیں پر معتقد تیرے کریں آہ و فغاں ساقی
درِ مقدم پہ آتے ہیں تِری شہرت کے شیدائی
کبھی بھولے سے آیا ہے توُ ان کے درمیاں ساقی
یہ کیسا وقت آیا ہے عُشاقِؔ دل حزیں اب کے
یہی میخانہ آتا ہے نظر ہیروشِماں ساقی
 
عُشّاق ؔکِشتواڑی
صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ
موبائل نمبر؛ 9697524469
 
 
کہنا بہت ہی سہل ہے کرنا محال ہے 
ہنستےہوئے جہاں سے گزرنا محال ہے
زنجیرِ وقت توڑ کے بہتے رہو یہاں
اس شہر کے سفر میں ٹھہرنا محال ہے
ہو جس کے انتظار میں بچوں کے خواب تک 
اس آدمی کا جنگ میں مرنا محال ہے
پہنے جو اس نے عید پہ کپڑے پھٹے ہوئے
سمجھا وہ خواب کتنا کترنا محال ہے
پانی کا بلبلا ہوں مرے واسطے نہ جی
آبھی گیا تو میرا ٹھہرنا محال ہے
ہر طرح وار کر کے اُسے ہوگئی خبر
میرے نشیبِ درد کا  بھرنا محال ہے
آنکھوں نے جو دکھایا وہ سچ مان کر چلا
سوچا نہیں فلک کا اُترنامحال ہے
اب اِس مقام پر ہے میری بے بسی کا دور
خود سے ہی کہہ رہا ہوں اُبھرنا  محال ہے
 
راسخؔ شاہد || 
بارہمولہ، کشمیر
rasikhshahid@gmail.com
 
 
یوں ہی کچھ بد نام نہیں بازاروں میں 
 ہم بھی ہوا کرتے تھے کبھی اخباروں میں
 
میرے قتل کی خاطر جو تم لائے تھے
زنگ لگا ہوگا اب اُن تلواروں میں
 
بات وہ سُن لی کرلی تھی جو کمرے میں
کان لگائے ہیں کیا یوں دیواروں میں ؟
 
سچ بولے اور حق کی جو بھی بات کرے
گِن لیتے ہیں ان کو کیوں مکاروں میں ؟
 
منتظرؔ میں کس کا ہوں اور کب سے ہوں
پائوگے اس دنیا کے فنکاروں میں
 
 منتظر یاسر 
فرصل کولگام کشمیر
موبائل نمبر؛ 9682649522