تازہ ترین

کانہ والَے

بین الاقوامی اعزاز یافتہ ماہرِ طب کی شعری لگن کا آئینہ

تاریخ    15 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر نذیر مشتاق
وادی کے ایک طبی ماہر اور اُبھرتے ہوئے شاعر شوکت شِفا کا پہلا شعری مجموعہ جب 29اکتوبر کی صبح ٹیگور ہال سرینگر میں جموں و کشمیر اکیڈمی آف آر کلچر اینڈ لنگویجز اور مراز ادبی سنگم کے اشتراک سے ایک پُروقار اور شاندار تقریب میں میرے ہاتھوں میں تھمایا گیا تو میں کتاب کا عنوان دیکھ کر حیران و پریشان ہوجاتا اگر میری نظریں کتاب کے ٹائٹل ورق کے نچلے حصے پر نہیں جم جاتیں اور میں فوری طور پر نہیں سمجھ لیتا کہ ’’کانہ والے‘‘ کا مطلب کیا ہے۔ تصویر دیکھ کر میں بچپن کے حسین و جمیل اور فکر و کشمکش غم سے آزاد دنوں میں کھو گیا اور مجھے یاد کیا کہ کس طرح میں بھی بچپن کے ایام میں یہ کارنامہ انجام دیتا تھا۔ شعری مجموعہ کا عنوان ’’کانہ والے‘‘ بہت سارے قارئین کے لئے نیا ہوگا مگر دیہات میں زندگی بسر کرنے والوں کے لئے یہ عام لفظ ہے۔۔۔۔
اخروٹ کے درختوں سے جب فصل اتاری یا گرائی جاتی ہے تو کچھ ٹہنیوں پر کسی نہ کسی جگہ کوئی نہ کوئی اخروٹ رہ جاتا ہے ۔۔۔ گائوں کے نوعمر بچے ہاتھوں میں نپے تُلے ڈنڈے لے کر، اخروٹ کے درخت کے نیچے رہ کر، اخروٹ کو دیکھ کر اُسے نشانہ بناتے ہیں۔ اخروٹ زمین پر گر جاتا ہے وہ اُٹھا کر تھیلے میں رکھتے ہیں اور اس طرح اخروٹ جمع کرکے گھر لے جاتے ہیں۔ اس عمل کو دیہات میں لوگ ’’کانہ والے‘‘ کہتے ہیں۔
’’کانہ والے‘‘ ڈاکٹر شفا شوکت کا پہلا شعری مجموعہ ہے۔ اِس اُبھرتے شاعر کا اصلی نام شوکت حسین تیلی ہے۔ شیر پورہ کوگلام میں جنم ہوا ور وہاں ہی ابتدائی تعلیم حاصلی کی۔ اُنکے بڑے بھائی بھی شاعر تھے۔ بچپن میں انکے شعر سن سُن کر شاعری کا شوق پیدا ہوا، جو وقت کے ساتھ ساتھ پنپتا گیا۔ بچپن کے ایام میں وہ اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ باغوں اور کھیتوں سے پھل اور سبزیاں جمع کرتے وقت اپنے ٹوٹے پھوٹے شعر گنگناتے اور اپنی والدہ محترمہ کو سناتے۔ 
ہائیر سکینڈری اسکولوں کولگام میں خوش قسمتی سے اُن کی ملاقات مشہور و معروف شاعر نازیؔ کولگامی سے ہوئی جنہوں نے اُس کے اندر چھپے ہوئے شاعر کو پہچانا اور اُن کی حوصلہ افزائی کی۔ اُن ہی دنوں سے وہ باضابطہ شعر گوئی کی طرف متوجہ ہوئے اور پھر میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کے بعد میڈیکل کالج سرینگر کے سہ لسانی میگزین ’’کاشمڈ‘‘ (KASHMED)میں اُن کا کلام تواتر کے ساتھ شائع ہوتا رہا۔ وہاں پہلے ہی سے کئی معروف شاعر جیسے کہ رفیق انجم، سید تفضل حسین، بشیر گاش، ریاض تسلیم، غضنفر علی، سید امین تابش(فہرست نامکمل) موجود تھے اور ایڈیٹوریل بورڈ میں کئی ادبی شخصیات موجود تھیں، جنہوں نے شوکت شفاء کی دل کی گہرائیوں سے حوصلہ افزائی کی اور ایڈیٹر ’’کاشمڈ‘‘ نے پیشن گوئی کی کہ یہ لڑکا ایک دن اعلیٰ پایہ کا شاعر ثابت ہوگا۔ شوکت بحیثیت شاعر ایک جانا پہچانا نام تھا بلکہ ایک طبی طالب علم کی حیثیت سے وہ استادوں کی نظروں میں ہردلعزیز تھا۔ علاوہ ازیں وہ کلچرل سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لیتا تھا۔
میڈیکل کالج سرینگر سے ایم بی بی ایس اور ایم ڈی (امراض اطفال) کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد وہ اپنی علمی تشنگی کو بجھانے کے لئے ریاست سے باہر جاکر بمبئی میں نیو نیٹالوجی(NeoNetology)کے شعبہ میں قدم جمانے میں کامیاب ہوا اور آدیش یونیورسٹی پنجاب میں اسسٹنٹ پروفیسر نیونیٹالوجی کی حیثیت سے وہاں اپنی قابلیت کا سکہ جمادیا اور پھر وہاں سے لوٹ کر کشمیر آئے اور گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر تعینات ہوئے۔ آپ وادی میں نیونیٹالوجی سے وابستہ پہلے سُپر سپیشلسٹ ہیں۔ 
انہوں نے اس شعبے میں اپنی خدمات انجام دینے کے دوران دو درجن سے زیادہ تحقیقی مقالات قلمبند کئے، جو دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف طبی میگزینوں اور کتابوں میں شائع ہوئے ہیں۔ آپ نے ہندوستان سے باہر پراگ، کیلی فورنیا، روس، ترکی، سعودی عرب، دوبئی وغیرہ میں کئی کانفرنسوں میں حصہ لے کر انعامات حاصل کئے ہیں۔ اُن کی کئی تحریریں طب کی درسی کتابوں میں شامل کی گئی ہیں۔ انہیں کئی اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ جن میں ’’اعزاز برائے نوجوان سائنس دان ‘‘اور ’’اعزاز برائے طبی خدمات و تخلیقی امور‘‘ کے لئے دیا گیا ہے۔ انہیں لندن اور امریکہ میں اعزازات سے نوازاگیا ہے۔ انہیں امریکہ سے شائع ہونے والے بین الاقوامی جریدہ آرکاویز آف نیونیٹالوجی اینڈپیڈریاٹکس کے ایڈیٹوریل بورڈ کا ممبر ہونے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ شعبۂ اطفال و نوزائیدگی کی سائنسی کانفرنسوں میں انہوں نے دنیا کے نامور سائنس دانوں کے شانہ بہ شانہ حصہ لیا ہے اور کئی انعامات حاصل کئے ہیں۔ 
ایک نوجوان ڈاکٹر کا اپنے وطن اور پھر بین الاقوامی سطح پر اتنی شہرت حاصل کرنا یقینا فخر کی بات ہے مگر یہ سب حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ طبی دنیا میں اتنا کچھ حاصل کرنا اور پھر اسکے ساتھ شعر و ادب کے ساتھ انکا ربط اور شاعری میں اپنا ایک الگ اور ممتاز مقام بنانا، یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اُن میں کس قدر خداداد صلاحیتیں موجود ہیں۔ ایک طرف دنیائے طب میں رہ کر سائنسی اور تحقیقی مقالے لکھنا اور دوسری طرف کشمیری شاعری کی طرف توجہ دینا حیران کن بات ہے۔ خاص کر آج کے اس دور میں جب ہمارے عمومی سماج میں مادری زبان کا چلن رفتہ رفتہ مفقود ہوتا جارہا ہے۔ بہرحال شاعری خداداد صفت اور جوہر ہے۔۔۔ جہاں تک میری علمیت ہے شوکت شفاء نے اپنی شاعری کو فیس بک پر پروان چڑھایا۔ اُنکا مقامی اور بین الاقوامی شعراء کے ساتھ رابطہ ہوا۔ انہوں نے طرحی مشاعروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور دھیرے دھیرے وہ معاصر شاعروں کی نظر میں آگئے اور پھر سرگرم و ممتاز شاعر علی شیداؔ نے اُن کو مشورہ دیا کہ وہ ادبی مرکز کمزار کی رکنیت حاصل کریں اور اس طرح اُن کو ایک بہترین پلیٹ فارم میسر ہوا اور وہ باضابطہ شاعری کی دنیامیں داخل ہوئے۔ وادی کے ممتاز معاصر شاعروں نے اعتراف کیا ہے کہ شفاء ؔ نے شاعر کے بنیادی لوازمات، رموز و اوقاف عروض و غیرہ بڑی تن دہی اور لگن سے سیکھے۔ اُن کے اشعار پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے شعر کہنے کا فن پوری طرح سیکھا ہے۔ وادی کشمیر کے معاصر، ممتاز اور اعلیٰ پایہ کے شاعروں رفیق راز، علی شیداؔ، ستیش ومل، منیب الرحمن، شہناز رشید اور شبیر احمد شبیر نے اُن کے شعری مجموعہ ’کانہ والے‘ کے بارے میں جو کچھ لکھا اور رسم رونما کے بعد کہا اُس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ شوکت شفاء کشمیر شاعروں کے کارواں میں اپنا ایک خاص اور ممتاز مقام بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں اور انہوں نے ’’کانہ والے’’ کے ذریعہ شاعروں اور قارئین کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ اُن کی شاعری میں سلاست، نفاست، حُسن اور روانی ہے، اُن کی زبان سلیس، سادہ، شستہ و شیرین ہے۔ اِس شعری مجموعہ میں کہیں کہیں الفاظ پر علاقائی لب و لہجے کا رنگ ہے جس سے پڑھنے والے کو ذرا سی دقت محسوس ہوتی ہے۔ شوکت شفاء ایک طرف طبی دنیا کے ہیرو ہیں اور دوسری جانب شاعر کی دنیا میں پڑھنے والوں کے لئے ایک ایسا تحفہ پیش کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ ہر کوئی اُن پر مبارکبادی کے پھول نچھاور کرے گا۔’’کانہ والے‘‘ شعری مجموعہ کشمیری شاعری میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔
���
ہمدانیہ کالونی بمنہ سرینگر،موبائل نمبر; 9 419004094
 

تازہ ترین