گوشہ اطفال|14نومبر 2020

تاریخ    14 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


 قومی یومِ اطفال اور ہمارے بچے

 
من کی بات
 
علی شاہد دلکش
 
 بچوں میں تعلیم کی ترغیب، حقوق کی بیداری، انکی تحفظ اور تعمیری سرگرمیوں کی تجسس کو بڑھاوا دینے کے مقصد سے ہندوستان میں ہر 14نومبر کو نیشنل چلڈرن ڈے(قومی یومِ اطفال) منایا جاتا ہے جو آزاد ہندوستان کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کا یومِ پیدائش ہے۔ چونکہ جواہر لال نہرو جی کو بچوں سے حددرجہ شفقت، محبت اور انسیت رہتی تھی، لہٰذا موصوف نہرو جی، قوم کے بچوں کے نظریے سے 'چچا نہرو' کہلانے لگے۔ ہندوستان میں آزادی کے بعد پہلی بار چلڈرنس ڈے 1959ء میں 20 نومبر کو منایا گیا تھا، جو کہ آج بھی پوری دنیا میں عالمی یومِ اطفال(ورلڈ چلڈرنس ڈے) کے طور پر منایا جاتا ہے۔ مگر آزاد ہندوستان کے اولین وزیراعظم پنڈت جواہر لال کی موت کے بعد 1964ء میں طے کیا گیا کہ 20 نومبر کے متبادل 14 نومبر کو قومی یومِ تعلیم منائے جانے کی روایت شروع کی جائے۔ وہ دن تھا اور آج کا دن ہے کہ بھارت میں قومی یومِ تعلیم کا چلن نسبتاً زوروں پر ہے۔ بہرحال جس دن بھی منائی جائے یہ روایت بڑی اچھی ہے۔جب کسی قوم میں یومِ اساتذہ کا چلن ہے تو اس تناظر میں یومِ اطفال کا منایا جانا لازم و ملزوم ہے۔ 
بچے اللہ رب العزت کا بہترین تحفہ نیز بہت بڑی نعمت ہیں۔ لہٰذا اللہ پاک کے ان پیارے پیارے تحائف کی اقدار کے لیے ہم بھی پیارے پیارے بچوں کو بھرپور شفقت و پیار سے مالامال کریں کیونکہ وہ ننھے منے بچے معصوم بھی ہوتے ہیں۔ بقول شاعر؎
پیارے پیارے ننھے یہ بچے
 بات کے پکے دل کے سچے
بچے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ اگر اْنھیں مناسب تعلیم اور صحیح تربیت دی جائے تو اس کے نتیجے میں ایک اچھا اور مستحکم معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ بچوں کی اچھی نشوونما اور عمدہ پرداخت ایک مثالی ماحول اور صالح مستقبل کا سبب بنتی ہے ؛ اس لیے کہ ایک اچھا پودا ہی مستقبل میں تناور درخت بن سکتا ہے۔ بچپن کی تربیت نقش علی الحجر کی طرح ہوتی ہے۔ بچپن میں ہی اگر بچہ کی صحیح دینی و اخلاقی تربیت اور اصلاح کی جائے تو بڑے ہونے کے بعد بھی وہ ان پر عمل پیرا رہتا ہے۔ اس کے برخلاف اگر درست طریقہ و قاعدے سے ان کی تربیت نہ کی گئی تو بلوغت کے بعد ان سے بھلائی کی زیادہ توقع نہیں کی جاسکتی۔خدانخواستہ بلوغت کے بعد وہ جن بْرے اخلاق و اعمال کا مرتکب ہوگا۔ اس کے ذمہ دار اور قصوروار والدین واساتذہ ہی ٹھہرائے جائیں گے، جنہوں نے ابتدا سے ہی ان کی صحیح رہنمائی نہیں کی! اس حقیقت کے اعتراف کے طور پر دنیا کی مختلف اقوام مختلف ایام میں یومِ اطفال مناتی ہیں۔ پہلی بار عالمی یومِ اطفال(ورلڈ چلڈرن ڈے) 1953ء کو انٹر نیشنل یونین فار چلڈرن ویلفیئر کے تحت منایا گیا جسے بعد میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی منظوری دے دی۔ پہلی بار جنرل اسمبلی کی طرف سے 20/نومبر1954ء کو یہ دن منایا گیا، اس طرح ہر سال 20 نومبر کو یہ دن(ورلڈ چلڈرن ڈے) منایا جاتا رہا ہے۔ تاریخی حقائق کے مطابق 1950ء کے عشرے میں بچوں کے بارے میں یہ احساس پیدا ہوا کہ ترقی پذیر ممالک کے بچے صحت، تعلیم اور تفریح کی سہولتوں سے محروم رہتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک کے بچے غیرمعیاری کتابوں اور رسالوں کے ذریعے ذہنی آسودگی حاصل کرتے ہیں۔ نتیجتاً بچوں کے لیے زیر نظر دعائیہ شعر ہے کہ
پھول سے بچوں کو دے شاداب موسم کی نوید
خشک سالی میں بہت برگ و ثمر بھی دے انہیں 
بچوں کا عالمی دن منانے کے لیے اقوام متحدہ ادارہ یونیسیف، بچوں سے متعلق ایک خاص عنوان تجویز کرتا ہے جس کا تعلق بچوں کی تعلیم و تربیت اور نشوونما سے ہوتا ہے۔ لہذا آئیے ہم عہد کریں کہ ہم اپنے ذاتی بچوں کے ساتھ ساتھ قوم و معاشرے کے بچوں کی بھی ذہنی، تعلیمی، تہذیبی اور ثقافتی تربیت میں تعمیری کردار ادا کریں گے تاکہ ہمارا معاشرہ ترقی یافتہ اور مہذب ہو۔ بالواسطہ یا بلاواسطہ جب ہمارا سماج مثبت سمت پر ہو گا، تو ضلع آگے بڑھے گا۔ ضلع آگے بڑھے گا تو صوبہ میں بھی مثبت سرعت ہوگی اور جب ریاست آگے بڑھے گی تو ملک خود بخود ترقی یافتہ کہلائے گا۔ علامہ اقبال ؒ کا پیغام بچوں کے نام
"انسان اپنے نام سے نہیں اچھے کام سے پہچانا جاتا ہے‘‘۔
 
 

 ریشمی رومال

 
کہانی
 
 رئیس صدیقی
 
 تاریخ عالم میں ہر جنگ کسی نہ کسی مقصد کے لئے لڑی گئی ہے۔ کبھی کوئی جنگ بادشاہت کے لئے، تو کبھی زمین کے لئے، کبھی دشمنی کی بنا پر، توکبھی کسی سے انتقام لینے کی غرض سے، کبھی مذہب کے نام پر، توکبھی نسلی برتری کے لئے، کبھی زن کے لئے اورکبھی زر کے لئے جنگیں ہوتی رہی ہیں۔
لیکن ۱۹  ؍ اگست ۱۳۸۸ ء؁ کو انگلینڈ میں ایک ایسی جنگ لڑی گئی جو صرف ’’ایک ریشمی رومال‘‘ کے لئے تھی!ماضی کی یہ خونریز داستان،  درحقیقت ۶؍ جولائی ۱۳۸۸ ء ؁ میں اس وقت شروع ہوئی، جب اسکاٹ لینڈ کا ایک طاقتور جاگیردار ’’ڈگلس‘‘سیر و تفریح کے خیال سے ایک مختصر سی فوج کے ساتھ انگلینڈ میں داخل ہوا۔’’انگلینڈ میں اس وقت رچرڈ دوئم کی حکومت تھی۔ان دنوں انگلینڈ پرفرانس کے حملہ کا اندیشہ تھا  اور اس امکانی حملہ کے پیشِ نظر پورے ملک میں زبردست ہنگامی حالات اور نفسا نفسی کا عالم تھا۔
 چنانچہ ڈگلس کی کسی جگہ مزاحمت نہیں کی گئی۔ لہٰذا وہ ’’  نیوکیسل‘‘ کی سرحد تک پہنچ گیااورنیوکیسل‘‘ نامی قلعہ کے بڑے دروازے پر اس کی ملاقات ایک جاگیردار ’’ہنری پرسی‘‘  (Henry Persy)سے ہوئی۔ وہ اپنی فوج کے ساتھ وہاں موجود تھا۔ہنری پرسی نے اپنے کمانڈر کے ساتھ آگے بڑھ کر ڈگلس سے نیوکیسل آنے کا سبب پوچھا۔’’ڈگلس نے اس کی بات کا جواب دینے سے قبل ، اس انگریز جاگیردار ’’ہنری پرسی‘‘ کا ریشی رومال جھپٹ لیا اور بڑی بے نیازی  سے بولا۔’’بس ۔۔۔ یوں ہی چلا آیا، سیر و تفریح کرتے ہوئے !۔‘‘
اتنا کہہ کر ڈگلس نے اپنی فوج کی ایک ٹکڑی کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا کیونکہ اسکا ہنری پرسی سے لڑنے کا قطعی کوئی ارادہ نہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ  اسکاٹ لینڈ کی فوج نے نیوکیسل سے بتیس میل دور ایک قصبہ کے نزدیک پڑائو ڈالا تھا۔سورج غروب ہوچکا تھا اور آہستہ آہستہ رات کی گہری تاریکی نے پوری فضا کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا تھا۔ ڈگلس کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ انگریز جاگیر دار ’’ہنری پرسی‘‘ کی فوج اس کے تعاقب میں آرہی ہے۔دراصل ،پرسی کو یہ بات بہت ناگوار گذری کہ ڈگلس نے اس کا ’’ریشمی رومال‘‘ چھین لیا۔ہنری پرسی فیصلہ کرچکا تھا کہ وہ ہر قیمت پر اپنا ریشمی رومال ڈگلس سے واپس لے گا۔
 بہر حال،  ۱۵؍ اگست ۱۳۸۸ء ؁ کو ہنری پرسی اپنی فوج کے ساتھ ڈگلس کی فوج کے پڑائو کے بہت نزدیک پہنچ گیا۔اس وقت تک ، ڈگلس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہنری پرسی کی فوج اس پر حملہ کرنے کی تیاری میں مصروف ہے۔ادھر ہنری پرسی نے اپنی فوج کے سامنے ایک پرجوش تقریر کی ۔ اس نے کہا۔ اسکاٹ لینڈ کے اس جاگیردار نے میرا   ریشمی رومال چھین کر اس نے میرا ہی نہیں بلکہ تم سب کا مذاق اُڑایا ہے!
اب میں یہ فیصلہ کرچکا ہوں کہ ڈگلس سے اپنا ریشمی رومال واپس لے کر رہوں گا۔اس لئے  میرے ساتھیو ۔۔۔ آگے بڑھو  ۔۔۔ اور ڈگلس سے میرا رومال چھین لو ۔ہنری پرسی کی اس تقریر کو اس کے سرداروں اور فوج کے سپاہیوں نے بالکل پسند نہیں کیا۔کیوں کہ صرف ایک ریشمی رومال کے لئے جنگ نہ انہوں نے کبھی پہلے سنی تھی،  اور نہ کبھی سوچی تھی۔ان لوگوںنے  بڑی بے دلی سے ہنری پرسی سے کہا۔اگر یہ حملہ رات کی تاریکی میں کیا جائے تو زیادہ مناسب رہے گا۔ہنری پرسی نے اپنی فوج کی یہ بات مان لی۔ہنر ی پرسی کے ساتھ اس وقت تین ہزار فوج تھی اور ڈگلس کے پاس صرف ایک ہزار سپاہی تھے۔ہنری پرسی کی فوج یہ سمجھتی تھی کہ وہ اپنی  تعداد  اور ڈگلس کی بے خبری کی وجہ سے پہلے ہی حملہ میں ڈگلس کا خاتمہ کردے گی۔لیکن یہ اس کی غلط فہمی ثابت ہوئی۔
  اب تک ڈگلس کو ہنری پرسی کے حملہ کی خبر مل چکی تھی اور وہ حملہ کا مقابلہ کرنے کے لئے بالکل تیار کھڑا تھا۔ہنری پرسی کی تین ہزار فوج جیسے ہی ڈگلس کی فوج کے خیموں کے قریب آئی، اُن پر بے شمار اور لگا تار تیروں کی بارش شروع ہوگئی اور سینکڑوں اسکاٹس فوجی اپنی تلواریں تان کر ا نگریزی فوج پر ٹوٹ پڑے اور  ہنری پرسی کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا !
 اسطرح، اس خوامخواہ کی جنگ میں ہزاروں بے قصور جانیں انا اور خودی کی بھینٹ چڑھ گئیں!!
کبھی کبھی ،کسی شخص کی کوئی غیر مہذب حرکت ، غیر ضروری جنگ کو بھی جنم دیتی ہے!!!
 ( کہانی کار ساہتیہ اکادمی قومی ایوارڈ و دلی اردو اکا دمی ایوارڈ یا فتہ پندرہ کتابوں کے مصنف، مولف، مترجم،افسانہ نگار ، شاعرو ادیبِ اطفال   اور ڈی ڈی اردوو آل انڈیا ریڈیو کے سابق آئی بی ایس افسر ہیں)
ای میل۔rais.siddiqui.ibs@gmail.com

 

بوجھو تو جانیں…!!!

 1۔ کاغذ میں وہ رہتا ہے، آگ لگے تو ہنستا ہے۔
2۔ روشن روشن اس کی دْم، رات کو حاضر دن کو گُم۔
3۔ پتھر کا دربار اوپر کھڑا سردار۔
4۔خشکی پہ نہ اس کو پائو، پانی میں اترو تو کھائو۔
5۔ دو کسان لڑتے جائیں، ان کی کھیتی بڑھتی جائے۔
6۔ سفید مرغی ہری پونچھ تجھ کو نہ آئے تو خالہ سے پوچھ۔
جوابات:1۔سیگریٹ 2۔جگنو 3۔چکی 4۔غوطہ 5۔سویٹرکی بنائی 6۔مولی
 

 علامہ محمد اقبالؒ کے اقوال…!!!

*قومیں فکر سے محروم ہو کر تباہ ہو جاتی ہیں۔
*جو مسائل انسان نہ حل کرسکے، قدرت انہیں حل کرتی ہے۔
*جدو جہد میں زند گی کا راز مضر ہے۔
*مطالعہ انسان کے لئے اخلاق کا معیار ہے۔
*علم کی جستجو جس رنگ میں بھی کی جائے عبادت کی ایک شکل ہے۔
*ایک سوچنے والے زندہ انسان کے خیالات میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے ، نہیں بدلتا تو پتھر نہیں بدلتا۔
 

خالی جگہ پُر کریں…!!!

ذیل میں دی گئی خالی جگہ کو ایک ہی لفظ سے پر کریں
1 ۔آم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میٹھے ہیں۔
2۔آج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گرمی ہے۔
3۔احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ذہین ہے۔
4 ۔ ویل مچھلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بڑی ہے۔
5۔ مجھے اپنے والدین سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت ہے۔
6 ۔ مزدور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محنت سے کام کرتا ہے۔
خالی جگہ کا جواب (بہت)
 
 

بے ترتیب الفاط کو تر تیب دیں…!!!

1۔ہے جانا مجھے اسکول۔
2۔رہناچاہئے صاف ہمیشہ۔
3۔ہے وہ اچھی لڑکی۔
4۔لڑکا ذہین احمد ہے۔
5۔خطرناک شیر ہے جانور۔
6۔میں ہیںباغ کھلے پھول۔
7۔دے رہا پانی پودوں مالی کو ہے۔
8۔سویرے کرو اْٹھا صبح۔
9۔ہیں رہے کھیل وہ۔
10۔وقت کرو پر کام۔
 

سائنسی معلومات…!!!

 1۔چاند پر بھی دن رات ہوتے ہیں اور چاند کا ایک دن اور ایک رات ہمارے دو ہفتوں کے برابر ہیں۔
2۔ اسٹار فش کی ٹانگیں اگر کاٹ دی جائیں تو وہ دوبارہ نمودار ہوجاتی ہیں۔
3۔alimeter ایسا آلہ ہے جو ہوائی جہاز کی سطح سمندر سے بلندی ناپنے کے کام آتا ہے۔
 4۔ لیوائزے( 1743-1799) نے دریافت کیا کہ پانی آکسیجن اور ہائڈروجن سے مل کر بنتا ہے۔ یہی سائنسدان تھا جس نے آکسیجن بھی دریافت کی تھی۔
5۔صفر مطلق سرجہ حرارت 273C یا 0k کو کہتے ہیں جو کہ انتہائی ٹھنڈا درجہ حرارت ہے۔ اسے zero  Absolute بھی کہتے ہیں۔
6۔ سائنس میں ناپ کے یونٹ کو CGS کہا جاتا ہے جو کہ سینٹی میٹر، گرام اور سیکنڈ کا مخفف ہے۔
7۔ چاند کی کشش کی وجہ سے سمندر میں مدوجزر اٹھتا ہے۔ اگر چاند سورج کی روشنی کو منعکس کرنا بند کردے تو ہمیں اس کا 1.33 سیکنڈ بعد علم ہوگا۔
8۔ Optophone ایسا آلہ ہے ،جس سے اندھے لوگ اخبار و کتب پڑھ سکتے ہیں۔
9۔ Hydrosphere زمین کی سطح پر پانیوں کے ہر قسم کے مجموعے کو کہتے ہیں۔
10۔ چیونٹی کے کاٹنے سے جلن فارمک ایسڈ کی وجہ سے ہوتی ہے۔
 
 
 

تازہ ترین