تازہ ترین

انتظامیہ کی عجیب منطق

فارنسک سائنس لیبارٹری کیلئے عملہ محکمہ تعلیم سے ڈیپوٹیشن پر لانے کافیصلہ

تاریخ    11 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


پرویز احمد
 سرینگر //یہ عجیب و غریب لیکن سچ ہے کہ فارنسک سائنس لیبارٹری میں خالی پڑی اسسٹنٹ سائنٹیفک افسر کی اسامیوں کو پر کرنے کیلئے محکمہ تعلیم کے اساتذہ کو ڈیپوٹیشن پر لانے کیلئے نوٹیفکیشن جاری کیا گیاہے جس کی وجہ سے فارنسک سائنسز، سائبر کرائم اور دیگر متعلقہ مضامین میں اعلیٰ تعلیم  یافتہ  نوجوانوں کا مستقبل دائو پر لگ گیا ہے۔فارنسک سائنس اور سائبر کرائم اور دیگر متعلقہ مضامین میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم سے اساتذہ کو ڈیپوٹیشن پر لانے سے نہ صرف ان کا مستقل دائو پر لگ گیا ہے بلکہ ایف ایس ایل کو بھی اضافی اخراجات برداشت کرنے ہوںگے۔ فارنسک سائنس لیبارٹری میں کام کرنے والے ایک ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا ’’ ائے ایس او نارکوٹکس 4، ائے ایس او( ڈی این ائے)2اسامیاں،ائے ایس او بائیولاجی/سیرولاجی کی3اسامیاں،اے ایس او (دستاویزات)کی 2اسامیاں، اے ایس او (سائبر) کی 4اسامیوں، اے ایس او (فیزکس) 4اسامیاں، اے ایس او (بیلسٹکس) کی 3اسامیوں کے علاوہ  اے ایس او (سی اینڈ ٹی) کی 6اسامیوں کو پر کرنے کیلئے محکمہ تعلیم سے اساتذہ کو تعینات کرنے کیلئے نوٹیفکیشن نمبر DIP/J-6774/20بتاریخ 5نومبر 2020جاری کی گئی‘‘۔مذکورہ ملازم نے کہا ’’اس سے نہ صرف فارنسک سائنس لیبارٹری کو دوگنے اخراجات بر داشت کرنے پڑیں گے بلکہ اُن اساتذہ کی رپورٹ عدالت میں بھی قابل قبول نہیں ہوگی‘‘۔مذکورہ ملازم نے بتایا ’’ کسی بھی اساتذہ کو فارنسک سائنس میں کام کرنے سے قبل 3یا 6ماہ کیلئے مخصوص شعبہ میں ڈپلومہ کرنا ہوگا اور اس کے بعد ہی وہ فارنسک لیبارٹری میں کام کرسکتا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ایک تو ڈیپوٹیشن پر آنے والے اساتذہ کو ڈپلومہ تربیت دینی پڑے گی بلکہ مستقبل میںعملہ کی تقرری کے بعد ان کی تربیت پر بھی لاکھوں روپے صرف کرنے پڑیں گے‘‘۔فارنسک سائنس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ مشفق جاوید نامی ایک نوجوان نے بتایا ’’ کئی سال تک ہم فارنسک سائنس میں بھرتیوں کا انتظار کررہے تھے لیکن نوٹیفکیشن آنے سے ہمار ا مستقبل مخدوش ہوگیا ‘‘ ۔مذکورہ نوجوان نے بتایا’’ ایسا کرنے سے نہ صرف بے روزگار نوجوانوں کے حق پر شب خون مارا گیا ہے بلکہ فارنسک سائنس لیبارٹری  کو دوگنا خرچہ کرنا پڑے گا‘‘۔ فارنسک سائنس لیبارٹری کے ڈپٹی ڈائریکٹر مشتاق احمد نے بتایا ’’ یہ حکومت کا فیصلہ ہے، فارنسک سائنس لیبارٹری کی تشکیل نو کی وجہ سے ابھی بھرتی قوانین مرتب نہیں ہوسکے اور محکمہ کاکام کاج چلانے کیلئے محکمہ تعلیم سے اساتذہ کو ڈیپوٹیشن پر لانے کا فیصلہ لیا گیا ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹوٹیشن پر آنے والے استاتذہ کو پہلے 3یا 6ماہ کی تربیت دی جائے گی اور قواعد و ضوابط کے تحت بعد میں انہیں سینئر اے ایس او کے تحت کام کرنا ہوگا‘‘۔ 

تازہ ترین