وادی میں عبوری بجلی کٹوتی شیڈول کااعلان | میٹر والے علاقوں میں3گھنٹے اوربغیر میٹر 4گھنٹے بجلی بند ،23نومبر کے بعد جائزہ لیا جائے گا، مزید کٹوتی کا عندیہ

تاریخ    9 نومبر 2020 (00 : 12 AM)   


مکیت اکملی
سرینگر//سرما کی آمد کے ساتھ ہی کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے وادی میں بجلی کٹوتی شیڈول کااعلان کیا ہے جس کے تحت میٹر والے علاقوں میں روزتین گھنٹے اور بغیرمیٹر علاقوں میں روزانہ چار گھنٹے بجلی بندرہے گی ۔اگر چہ مرکزی زیرانتظام علاقہ جموں کشمیر کی حکومت نے اکثر یہ وعویٰ کیا ہے کہ لوگوں کو چوبیس گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی لیکن نظام میں نقائص اور بجلی چوری نے اِسے پورانہ ہونے والا خواب بنا د یا ہے ۔ کشمیر پا و ر ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے کٹوتی شیڈول کے مطابق میٹر والے علاقوں میں روزانہ تین گھنٹے (ہر ایک مرحلے میں ایک گھنٹہ) اوربغیر میٹر  والے علاقوں میں روزانہ چار گھنٹے(تین مرحلوں میں ) بجلی بند رہے گی۔ گزشتہ سال وادی میں میٹر والے علاقوں میں 6 گھنٹے اور بغیر میٹر والے علاقوں میں8 گھنٹے بجلی بند رہتی تھی۔بجلی کٹوتی کے اس شیڈول پر7نومبر سے23نومبر تک عمل ہوگا جس کا مطلب  یہی ہے کہ اگر بجلی کی طلب میں کوئی بہتری نہیں آئی توکشمیرپاورڈیولپمنٹ کارپوریشن کو مزید کٹوتی کرنا ہوگی۔کشمیرعظمیٰ کے پاس سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سرما کے مہینوں کے دوران بجلی کی طلب  2100میگاواٹ سے 2200 میگاواٹ ہوتی ہے جبکہ کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے گرڈوں کی صلا حیت 1500میگاواٹ کے قریب ہے ۔کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے چیف انجینئرکشمیرپاورڈیولپمنٹ کارپوریشن اعجازاحمدڈارنے کہا ،’’ہم نے کٹوتی شیڈول کااعلان کیا ہے جس کے مطابق بغیرمیٹر کے علاقوں میں چار گھنٹے اور میٹر والے علاقوں میں تین گھنٹے بجلی بند رہاکرے گی ۔انہوں نے کہا کہ یہ قدم بجلی کی طلب کے دبائو میں اضافہ ہونے کی وجہ سے کیاگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بار بار عوام سے اپیل کی کہ وہ محکمہ بجلی کے ساتھ تعاون کرکے بجلی کا منصفانہ استعمال کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری معائنہ ٹیمیں ہرروزمختلف علاقوں میں جاکر بجلی چور ی کرنے والوں کے خلاف کاررائیاں کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ کو حیرانی ہوگی کہ کچھ گھرانے گائو خانوں میں بھی ہیٹر استعمال کرتے ہیں تاکہ بجلی چوری کی جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ مانگ اور سپلائی میں تفاوت کی وجہ سے بجلی کی کٹوتی لازمی بن جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے گرڈ اسٹیشنوں کی صلاحیت کو1500میگاواٹ تک بڑھایا ہے جوپہلے صرف1250میگاواٹ تھی،اس سے سرما میں بجلی کی کٹوتی میں کمی ہوگی ۔ڈار نے کہا کہ کشمیرپاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے550ٹرانسفارمروں کااضافی اسٹاک مہیا رکھا ہے اور800ٹرانسفارمروں کی مرمت کی گئی ہے جبکہ سرما میں کسی بھی ہنگامی صورتحال کامقابلہ کرنے کیلئے4000بجلی کے کھمبے تیاررکھے گئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہماری ٹیمیں زمینی سطح پردرختوں کی شاخ تراشی کررہے ہیں جوترسیلی لائنوں کے قریب ہیں اور سرما میں باعث پریشانی بنتے ہیں۔قبل ازیں اس سال حکومت نے 320ایم وی اے آلسٹینگ اور50ایم وی اے بانڈی پورہ گرڈ اسٹیشنوں کو چالو کیاتاکہ وہ مرکزی گرڈ سے اضافی بجلی حاصل کرسکیں ۔اس سال صحت ماہرین وادی میں بلا خلل بجلی کی سپلائی پر زوردے رہے ہیں کیوں کہ ان کا کہنا ہے کہ کووِڈ- 19مریضوں کے آکسیجن سلینڈروں کیلئے بجلی سپلائی کی فراہمی لازمی ہے۔ ماہرین صحت نے کشمیر پاورڈیولپمنٹ کارپوریشن سے آنے والے سرما میں وادی میں بلاخلل بجلی کی سپلائی مہیا رکھنے کی درخواست کی ہے۔
 

تازہ ترین