گریٹر کشمیر آفس پر چھاپہ اور تلاشیاں

پریس کلب آف انڈیا کوتشویش، برہمی کا اظہار

تاریخ    1 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
نئی دہلی//پریس کلب آف انڈیا نے قومی تحقیقاتی ایجنسی اہلکاروں کی طرف سے کشمیرکے معروف انگریزی روزنامے’گریٹرکشمیر‘ کے صحافیوں کے کمپیوٹروں،ہارڈ ڈسکس اور پین ڈرائیوز کی تلاشیاں لینے پر تشویش کااظہار کیا ہے ۔ایک بیان میں پریس کلب آف انڈیانے کہا کہ یہ تلاشیاں باعث تشویش تھیں اور یہ حکومتوں کی طرف سے ذرائع ابلاغ کی آزادی کو یقینی بنانے کی روح کے منافی ہے ۔پریس کلب آف انڈیا نے کہا ہے کہ اس سے قبل بھی اخبار کے حوالے سے پوچھ تاچھ کی گئی اور اس دوران کچھ بھی غیر معمولی بات سامنے نہیں آئی۔اس کی روشنی میں یہ غیرمعمولی بات ہے کہ اب صحافیوں کی باری ہے۔ایسالگتا ہے کہ انہیں صحافی ہونے کی بناپر نشانہ بنایا جارہا ہے ۔اس کے علاوہ اگر کوئی اورمقصد ہے تو وہ صاف نہیں ہے ۔پریس کلب آف انڈیا نے بیان میں مزیدکہا کہ جموں کشمیرکے ذرائع ابلاغ سے متعلق قوانین کے تحت،صحافیوں کوبطور پیشہ ورانہ کام کرنے کے دوران ہراساں کرنااب معمول بن چکاہے جوقابل افسوس ہے ۔پریس کلب نے حکام پرزوردیا ہے کہ وہ صحافت کے پیشہ کے تئیں اپنے رویہ پر نظر ثانی کریں۔
 

تازہ ترین