تازہ ترین

بھاجپاحکومت کی جموں کشمیرکے لوگوں پرحقوق ڈاکہ زنی جاری:تاریگامی

تاریخ    1 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


سرینگر// گزشتہ سال 31 اکتوبر کوجموں کشمیر تشکیل نو قانون کو غیرجمہوری اوربے انصافی پر مبنی طریقے سے لاگوکرنے کے بعد جموں کشمیر کے عوام کے بنیادی اور جمہوری حقوق پرڈاکہ زنی کا بھاجپاحکومت کا مسلسل جاری ہے۔ اس بات کااظہار کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کے رہنما یوسف تاریگامی نے ایک بیان میں کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک خصوصی درجہ والی ریاست کو اُس کے عوام کی رائے پوچھے بنا ہی اُس کے خاص درجے سے محروم کیا گیاجوآئین کی دفعہ3کے سراسر منافی ہے۔27اکتوبر کو مشتہر کئے گئے نئے اراضی قوانین اوراپریل میں مشتہر کئے گئے نئے اقامتی قوانین جموں کشمیرکے لوگوں کے آبادیاتی تناسب کو بگاڑنے کے خدشات کو دور کرنے کیلئے کچھ نہیں کیاگیا۔اس کے بجائے بھاجپاحکومت جموں کشمیرکے لوگوں کو یہ باور کرارہی ہے کہ وہ اُس کے منصوبوں میں ایک برس کے مرکزی زیرانتظام علاقہ میں محض مکمل طوراتفاقی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سابق جموں کشمیرکی ریاست میں کون اراضی خریدے گا۔نئے اراضی قوانین بڑے مگرمچھوں اور کارپوریٹ اداروں کو اپنا کھیل کھیلنے کی اجازت دے گاجو دہائیوں سے کسانوں کی ترقی اورخوشحالی کو تباہ کردے گا۔ غیرمقامیوں کیلئے اراضی کو کھولنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کے چندروزبعد ہی جموں کشمیرانتظامیہ نے24ہزار کنال زمین کو نام نہاد سرمایہ کاری کیلئے صنعت وکامرس محکمہ کومنتقل کیاجبکہ اتنی ہی اراضی محکمہ جنگلات کی طرف سے ہری جھنڈی ملنے کے بعد 65کارپوریٹ اداروں کویونٹ قائم کرنے کیلئے مشتہر کئے جائیں گے۔ تاریگامی نے کہا کہ دفعہ370اور35Aکی تنسیخ کا مقصد آبادیاتی تناسب کو جموں کشمیرمیں تبدیل کرناتھا اوراب ایسے قوانین سے سب کچھ واضح ہوگیا ہے ۔5اگست2019سے بھاجپاحکومت کے اقدمات سے عندیہ ملتا ہے کہ ہم وہی کچھ کریں گے جو ہم کرتے ہیں کیوںکہ ہم کرسکتے ہیں۔اس سے بھاجپا کچھ چنائو جیت سکتی ہیںلیکن یہ کشمیرکے دیرینہ مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہے ۔پارلیمنٹ میں قانون پاس ہونے کے پندرہ ماہ بعدبھی جموں کشمیرکے لوگوں کو ان کے جمہوری حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔بھاجپا کے بغیر کسی کو یہاں سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جاتی ہے ۔کشمیرکی آوازکو بہ زوربازودبادیاگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ میں مرکزی حکومت کے5اگست2019کے فیصلوں کے خلاف23عرضیاں زیرسماعت ہیں اوربہترہوتا کہ حکومت انتظارکرتی تاکہ عدالت ان عرضیوں پر اپنافیصلہ صادر کرتی،بجائے اس کے زمینی سطح پر وہ اپنا کام مکمل کرتی ہے ۔گزشتہ سال بھاجپاحکومت نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کے جنم دن کو جموں کشمیرکودومرکزی زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کیلئے منتخب کیا ۔اس دن کاانتخاب کرنے سے حکومت امت شاہ کے تاریخ کوبنانے اورسچ کو ختم کرنے کے فارمولے کواختیار کررہی ہے ۔یہ بات ریکارڈ میں درج ہے کہ پٹیل دفعہ370کو تیار کرنے میں پیش پیش تھے۔15اور16مئی1949کو ان کی رہائش گاہ پرجموں کشمیرکے خصوصی درجے کیلئے نہرو،پٹیل اور شیخ عبداللہ کے درمیان تبادلہ خیال ہوا۔اس کے بعد پٹیل اور گوپال سوامی آینگر نے دفعہ370کی دستاویز تیار کی ۔اور یہ پٹیل ہی تھے جنہوں نے نہرو کی عدم موجودگی میں آئین سازاسمبلی میں دفعہ370کو پیش کیا۔اس سال اسی دن وزیراعظم نریندر مودی نے دفعہ370کی تنسیخ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ترقی میں کشمیربھارت میں شامل ہوا ہے،جوسراسر جھوٹ ہے ۔ سی پی آئی ایم نے اس بات کو دہرایا ہے کہ وہ دفعہ370کی تنسیخ اورجموں کشمیرکو دومرکزی زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کی مخالفت کرتی ہے ۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ نے ملک کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جموں کشمیراورلداخ کے لوگوں کوجمہوری اور آئینی حقوق سے محروم رکھنے پران کے ساتھ یکجہتی کااظہار کریں اور مودی حکومت کے جھوٹے پروپیگنڈے کو ردکریں۔