اراضی معاملہ ایک اور دھوکہ :کانگریس

بہار الیکشن کے بعد گپکار اتحاد پر مرکزی لیڈرشپ فیصلہ کریگی

تاریخ    1 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر پردیش کانگریس نے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں کسی بھی شہری کو اراضی خریدنے کی اجازت دینے کا فیصلہ سابق ریاست کے لوگوں کیساتھ ایک اور دھوکہ ہے۔کانگریس نے کہا کہ بہار انتخابات کے بعد مرکزی لیڈر شپ کی جانب سے گپکار اتحاد کے حوالے سے ایک جامع اور مستحکم نظریہ پیش کیا جائیگا۔ کانگریس نے کہا ’’ گرائمر میں اختلافات ہوسکتا ہے لیکن 5اگست کا فیصلہ ہم سب کو متحد کررہا ہے۔ پارٹی صدر غلام احمد میر نے پارٹی ہیڈکوارٹر پر سابق وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی کی برسی پر ورکروں کی تقریب کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’تین روز قبل، مرکزی حکومت نے جموں کشمیر کے لوگوں کیساتھ ایک اور دھوکہ کیا‘‘۔انہوں نے کہا’’ پارلیمنٹ  کے ایوان میں جب مرکز نے ریاست کا درجہ گرایا،ہماری وفاداریوں کو چھین کر تباہ کردیا ،اس وقت وہ لگاتار کہہ رہے تھے ، کہ جموں کشمیر کی اراضی اور ملازمتوں کیساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوگی، لیکن آج دن کے اجالے میں انہوں نے وعدہ خلافی کی‘‘۔غلام احمد میر نے نے مزید کہا’’ انہوں نے ایوان میں کئے گئے اپنے ہی وعدوں کے ٹکڑے ٹکڑے کئے، کانگریس پارٹی اسکی مذمت کرتی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر اور لداخ میں کچھ فیصلوں کے حوالے سے مختلف آرا ہوسکتی ہے، لیکن اب سبھی تین خطے اراضی معاملے پر متحد ہیں‘‘۔انہوں نے کہا ’’ میں بہت خوش ہوں کہ سبھی 22اضلاع میں ایک آواز آرہی ہے کہ نیا قانون منظور نہیں،اس لئے کانگریس اور دیگر ہم خیال پارٹیوں کی جانب سے ایک مشترکہ پلیٹ فارم بنانا ہوگا تاکہ’’ نئے قانون کو واپس کیا جاسکے‘‘۔میر نے کہا کہ اسکے ساتھ منسلک لوگوں کی مشترکہ خواہشیں ہیں، چاہیے جموں کشمیر اور لداخ کے مسلمان ،ہندو، سکھ یاعیسائی ہوں، سبھی یکجا ہوگئے ہیں‘‘۔ اس سے قبل پارٹی ورکروں سے کظاب کرتے ہوئے انہوں نے دلی کے چکر لگانے والے سیاستدانوں کی کڑی نکتہ چینی کی۔انہوں نے کہا کہ 5اگست 2019کے بعد دلی میں کچھ مہرے بنائے گئے،انہوں نے بڑے دعوے کئے تھے کہ ریاستی درجہ کی بحالی اور خصوصی پوزیشن دور کی باتیں ہیں البتہ اراضی اور نوکریوں سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوگی، انہوں نے خود کو تماشہ بنایا ہے۔فوجی افسر کو اختیارات دینے کے بارے میں انہوں نے کہا ’’ ایک جمہوری ملک میں فوج کو براہ راست اختیارات دینے کا رجحان تعمیری نہیں ہے،فوج سیول انتظامیہ کی مدد کیلئے ہوتی ہے نہ کہ فیصلہ کرنے کی مجاز۔ عوامی اتحاد کے مسلسل دو اجلاسوں سے دور رہنے پر میر نے کہا کہ انہوں نے اتحاد کے لیڈروں سے بہار انتخابات کے خاتمے تک اجلاسوں کو ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی ، کیونکہ ان کی پارٹی کی مرکزی لیڈرشپ مصروف تھی۔انہوں نے کہا’’ میں نے ان لوگوں سے درخواست کی تھی ،ملاقات کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے ، تو چائے پینے کی اتنی جلدی کیوں؟ ایک چائے فاروق کے گھر پر تھی اور ایک چائے محبوبہ کے گھر پر، میں نے ان سے کہا تھا کہ 10 دن تک اجلاس کو موخر کریں ، کیونکہ میری مرکزی لیڈرشپ بہار کے انتخابات میں مصروف ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرکزی پارٹی ہونے کے ناطے ، مجھے ریاستی صدر کی حیثیت سے ،جب بھی اس طرح کے معاملات سامنے آتے ہیں ،تو اپنی مرکزی لیڈرشپ کے ساتھ رابطہ کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے مزید کہا’’میں نے کہا تھا کہ 10 نومبر کو بہار کے انتخابات ہونے دیں ، ہم مرکزی لیڈرشپ کو بھی ساتھ لے کر چلیں گے، ہم ٹھوس نظریہ کے ساتھ آئیں گے اور اس فورم میں حصہ لینے کی کوشش کریں گے۔ ‘‘اس سوال کے جواب میں کہ کیا کانگریس گپکار اعلامیہ برائے عوامی اتحاد کے اگلے اجلاس میں شرکت کرے گی ، میر نے کہا’’میری کانگریس کی مرکزی لیڈرشپ سے ملاقات ہوگی، کانگریس کے کشمیر پالیسی منصوبہ بندی گروپ میں تمام قوانین پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور اس سلسلے میں مجھے جو بھی ہدایت دی جائے گی ، میں اس کی پیروی کروں گا۔‘‘
 

تازہ ترین