تازہ ترین

اراضی قوانین کے خلاف ہڑتال کاملاجلا اثر

کہیں دکانیں بند اور کہیں کھلی،نجی گاڑیاں تمام سڑکوں پر دن بھر رواں دواں

تاریخ    1 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// وادی میں مرکزی حکومت کی جانب جموں کشمیر میں غیرمقامی باشندوں کو اراضی خریدنے کی اجازت دینے کے قانون کے خلاف میر واعظ عمر فاروق کی جانب سے سنیچر کو دی گئی ہڑتال کی کال کا ملا جلا اثریکھنے کو ملا۔ممکنہ احتجاج کے پیش نظر پائین شہر میں اضافی فورسز پولیس و فورسز اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا،تاہم دن بھر مجموعی طور پر صورتحال خوشگوار رہی۔ کال کے پیش نظر سرینگر کے پائین شہر میں مکمل ہڑتال دیکھنے کو ملی،جبکہ دکانیں اور تجارتی مراکز کے علاوہ کاروباری سرگرمیاں بھی ٹھپ تھیں،جبکہ سڑکوں پر بھی ٹریفک کی نقل و حرکت بند تھی۔ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر اضافی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔ اس دوران نجی گاڑیاں سڑکوں پر چلتی ہوئی دیکھی گئیں جبکہ اکا دکا اٹو رکھشا بھی کہیں کہیں سڑکوں پر نظر آرہے تھے ،تاہم سڑکوں پر چھاپڑی فروش قلیل تعداد میں نظر آئے۔ شہر کے سیول لائنز علاقوں میں جہاں تجارتی مرکز لالچوک اور گرد نواح کے بازار بند تھے،تاہم ہفت چنار سے لیکر صنعت نگر اور ڈلگیٹ سے لیکر پانتھ چوک تک دکانیں کھلی تھیں۔بٹہ مالو میں ملا جلا رد عمل دیکھنے کو ملا۔نامہ نگار ارشاد احمد کے مطابق گاندربل کے صفا پورہ،تولہ مولہ،بارسو اور دیگر علاقوں میں ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی کا کاروبار مفلوج ہوکر رہ گیا۔ نا مہ نگار غلام نبی رینہ کے مطابق کنگن،گنڈ،سونہ مرگ،گنی ون،سمبل،کلن میں مجموعی طور پر ہڑتال رہی اور بیشتر دکانیں اور کاروباری مراکز جہاں بند رہیں وہی سڑکوں سے ٹریفک بھی غائب تھا۔ بڈگام میں ہڑتالی کال کا ملا جلا اثردیکھنے کو ملا،کئی مقامات پر جہاں دکانیں بند تھی وہی کہیں ایک مقامات پر کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری تھی۔نئے اراضی قوانین کو نافذ کئے جانے کے خلاف دی گئی ہڑتال کال کے نتیجے میں پلوامہ کے بیشتر علاقوں میں ہڑتال دیکھنے کو ملی۔نامہ نگار سید اعجاز کے مطابق بازار بند تھے اور سڑکوں پر بھی اکا دکا نجی گاڑیاں دوڑتی ہوئی نظر آئی،جبکہ ترال سمیت دیگر حساس علاقوں میں اضافی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو کسی بھی نا خوشگوار واقعے سے نپٹنے کیلئے تیاری کی حالت میں رکھا گیا تھا۔ جنوبی ضلع کولگام میں بھی ہڑتال کا ملا جلا اثر دیکھنے کو ملا۔نامہ نگار خالد جاوید کے مطابق ضلع میں بیشتر دکانیں اور کاروباری ادارے کھلے تھے،جبکہ سڑکوں پر بھی مسافربردار ٹرانسپورٹ چل رہا تھا۔ ضلع اننت ناگ سے نامہ نگار عارف بلوچ نے کہا کہ ہڑتالی کال کا ضلع میں ملا جلا اثر دیکھنے کو ملا۔ شوپیاں سے نامہ نگار شاہد ٹاک کے مطابق ضلع میں جزوی ہڑتال دیکھنے کو ملی۔قصبہ میں کئی مقامات پر دکانیں کھلی بھی تھی،جبکہ کئی مقامات پر کاروباری سرگرمیاں بند تھی۔ ضلع بارہمولہ میں جزوی طور پر ہڑتال دیکھنے کو ملی۔نامہ نگار غلام محمد کے مطابق سوپور میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی کی رفتار تھم گئی،جبکہ ایشا کی دوسری سب سے بڑی فروٹ منڈی مقفل رہی۔ نمائندے کے مطابق اوڑی میں بھی مکمل ہڑتال دیکھنے کو ملی،تاہم ضلع کے بیشتر مقامات پر ملا جلا اثر دیکھنے کو ملا۔نامہ نگار اشرف چراغ کے مطابق کپوارہ میں بیشتر دکانیں اور کاروباری ادارے کھلے تھے،اور ہڑتال کا اثر بہت کم دیکھنے کو ملا۔نمائندے کے مطابق ضلع کے ہندوارہ ،لنگیٹ،کرالہ پورہ،کرناہ اور دیگر جگہوں پر ہڑتال نہیں تھی اور سڑکوں پر گاڑیاں بھی معمول کے مطابق دوڑ رہی تھی۔اس دوران  بانڈی پورہ میں سنیچر کو جزوی ہڑتال کی وجہ سے کاروباری سرگرمیوں  پر منفی اثر پڑا۔نامہ نگار عازم جان کے مطابق ضلع کے بیشتر علاقوں میں اگرچہ دکانیں اور بازار کھلے تھے تاہم کئی ایک مقامات پر دکانیں اور کاروباری و تجارتی مرکز مقفل تھے۔