تازہ ترین

’’جرم ‘‘

افسانہ

تاریخ    1 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


ایف آزادؔ دلنوی
میں اپنے ریڈنگ روم میں بیٹھاایک نئی کہانی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اب کے میںایک ایسی کہانی لکھنا چاہتا تھا۔۔۔۔ جس کا اسلوب منفرد  ہو۔جو روایتی کہانیوں سے ہٹ کر ہو۔ یہ سوچتے سوچتے میرے خیال کا تسلسل اُس وقت ٹوٹ گیاجب اچانک باہر سے شور و غل مچ اُٹھا اور میرے ہوش و حواس اُڑ گئے ۔میں نے کاغذ قلم سمیٹ کر ٹیبل پر رکھ دئیے اور تیز تیز قدم اُٹھا تے ہوئے شہاب چاچا کے آنگن میں پہنچ گیاکیونکہ مردانہ آواز کی جو چیخیں سنائی دیتی تھیں ان کا محور شہاب چاچا کا آ نگن ہی لگ رہا تھا  ۔اور میرا اندازہ بھی صحیح نکلا۔آنگن میں چپے چپے پر لوگ کھڑے تھے۔ میں اس بھیڑ کو چیر تا ہوا آگے بڑھا۔لوگوں کے بیچوں بیچ شہاب چاچازمین پر پائوں پسارے بیٹھا رو رہاتھااور زون ؔآپا اس کی بانہوںمیں بے سدھ سی پڑی تھی وہ چلا رہا تھا ۔
’’تم مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتی ۔آنکھیں کھولو  ۔۔۔۔۔۔زونہ ؔآنکھیں کھولو۔‘‘
وہ اس کے جسم کو زور زور سے ہلا بھی رہا تھا۔ دونوں تقریباً پچاس برسوں سے ایک دوسرے کا ساتھ نبھا تے اب بوڑھے بھی ہوچکے تھے مگر ان کی محبت کے تذکرے آج بھی زبان زد عام تھے۔شہاب چاچاایک لمحے کے لئے بھی اُس کو نظروں سے اوجھل ہونے نہیں دیتا تھا۔ جب کبھی وہ گھر سے باہر ہوتی تو شہاب چاچا زور زور سے پکارتا۔
’’زونہؔ۔۔۔۔۔۔۔زونہؔ  ‘‘
اور اس کی آواز ساری بستی میںگشت کر کے گونج اُٹھتی۔لوگ حیران ہوکر کمروں کی کھڑکیاں کھول کرتاک جھانک کرنے لگتے۔جب زونؔ آپا چلی آتی تو اُس کا دم ٹھہر تا ۔
زونؔآپا جب پڑوس کی کسی عورت سے باتیں کرنے بیٹھتی توشہاب چاچاایک من چلے جوان کی طرح آنگن کے چکر لگاتا رہتا۔یہ دیکھ کر زون آپابھی ملاقات کو مختصر کرتے ہوئے آجاتی۔وہ بھی اُس کو تڑپتے ہوئے دیکھ نہیں سکتی تھی۔
 روتے روتے شہاب چاچا کی نظریں جب مجھ پر پڑیںتو وہ بوکھلائے ہوئے بولا۔
’’کار لے آئو  ۔زونہ کواسپتال لے جانا ہے۔‘‘
ہر ایک نے شہاب چاچا کی تائید کرتے ہوئے کہا۔
’’ہاں۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔ زون آپا کو اسپتال لے جائیں  گے  ‘‘
میں بھاگتا ہوا کار لے آیا۔ارد گرد موجود لوگ جب اُس کو اُٹھانے لگے تو شہاب چاچابھڑک کر بولا۔
’’خبر دار۔۔۔۔کوئی زونہ کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔میں خود ہی اس کو اُٹھائوں گا۔‘‘
نہ جانے زون آپا کو اُٹھاتے وقت اُس میں یہ غیر معمولی سی قوت کہاں سے آگئی۔ اُ س نے زون آپا کو بانہوں میں اُٹھا کر کار میں بٹھا دیا ۔ یہ دیکھ کر سب دنگ رہ گئے۔زون ؔآپا کی سانسیں حسب معمول چل رہی تھیں۔ اسپتال پہنچاتے دقت بھی اُس نے زون آپا کو کار سے خود ہی نیچے اُتارا۔ارد گرداسپتال عملے کے ملازم دیکھ رہے تھے شہاب چاچا نے اُن سے کہا۔
’’یہ میری جان ہے اس کا خیال رکھنا میری ذمہ داری ہے۔‘‘
ان میں کچھ لوگ تجسس کے بیکراں سمندر میں غوطہ زن ہوکراس ضعیف جوڑے کے بارے میںسوچتے رہے اور کچھ تمسخر اُڑا کر اسپتال کے اندر چلے گئے۔سٹریچر پر لٹاتے ہوئے وہ زون آپا کو ہانپتے ہانپتے ایمر جنسی وارڈ میں لے گیا۔وہاں کئی ڈاکٹر مریضوں کا معائنہ کر رہے تھے۔ شہاب چاچا نے ایک ڈاکٹر کا ہاتھ پکڑ کر اُسے کہا۔
’ڈاکٹر صاحب  پہلے میری زونہ کو دیکھ لیجئے وہ بے ہوش پڑی ہے۔میں اس کے بغیرجی نہیں سکوں گا۔‘‘
یہ سن کر ڈاکٹر نے شہاب چاچا کے جسم کا جائرہ لے کر دوسرے ایک ڈاکٹر سے انگریزی میں کہا۔
’’what a story .The old man is still in love.‘‘
(کیا بات ہے، بوڑھا شخص ابھی بھی محبت میں گرفتار ہے)
اور وہ اُسکے ساتھ زون آپا کو دیکھنے چلا گیا ۔ڈاکٹر نے معائنہ کرکے کہا۔
’’چاچا۔۔۔۔یہ بہت کمزور ہوچکی ہے اسی لئے اس پر غشی طاری ہوئی ہے۔‘‘ 
پھر اُس نے انجکشن لگا کر کہا۔
’’ میں دوائی لکھ دیتا ہوں ٹھیک وقت پر پلا دینا۔ ٹھیک ہو جائے گی۔ اور۔۔۔ ہاں ۔۔۔کھانے میں مقوی غذا دینا۔‘‘
’’ڈاکٹر صاحب میں خون پانی ایک کراُس کے لئے ہر ایک چیز میسر رکھوں گا۔
آپ مجھے اس کے کھانے پینے کی چیزوں کی فہرست لکھ کر دیجئے۔‘‘
ڈاکٹر صاحب نے ڈائیٹنگ چاٹ بنا کر اُس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ اتنے میں زون آپا ہوش میں آگئی۔ڈاکٹر صاحب بولے ۔
’’کچھ دیر کے بعدآپ اس کو گھر لے جا سکتے ہو۔اور ہاں ڈائیٹنگ چاٹ کا خاص خیال رکھنا۔‘‘
 پھرڈاکٹر صاحب چلے گئے توشہاب چاچازون آپا کے قریب جاکراسٹول پر بیٹھ کر اس سے گویا ہوا۔
’’تم نے تو میری جان ہی نکال دی تھی۔ ایک منٹ کے لئے بھی میرا خیال نہیں آیا۔ میں تمہارے بغیر جی پاتا کیا۔۔۔۔؟‘‘
زون آپا بولی ۔’’اب کون سی زندگی باقی بچی ہے۔ اب ہڈیاں بھی کمزور ہوتی جارہی ہیں۔‘‘
شہاب چاچا عجلت بھرے لہجے میں بولا۔’’میںنے ڈاکٹر صاحب سے تیرے واسطے ڈائٹنگ چاٹ لیا ہے تم پھر سے ہٹی کٹی ہوجائو گی۔‘‘
یہ سن کر وہ بے ساختہ ہنس پڑی۔پھر شہاب چاچا نے مجھے بلا کر کہا ۔
’’چلو بیٹے گھر چلتے ہیں، اب یہ ٹھیک ہوگئی ہے۔‘‘اور میں دونوں کو کار میں بٹھا کر گھر لے آیا۔اتنے میںبستی میں خبر پھیل گئی تولوگ خبر گیری کے لئے شہاب چاچا کے گھر آتے جاتے رہے ۔خبر پوچھتے وقت جب زون آپا جواب دینا چاہتی تو شہاب چاچا اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہتا۔
’’تم چپ رہو۔ابھی تم جواب دینے کی حالت میں نہیں ہو۔‘‘
میں شہاب چاچا کے اغل بغل میں ہی بیٹھا تھااُس نے میری طرف مڑ کر مجھ سے کہا۔
’’بیٹے اس ڈائٹنگ چاٹ پر جو چیزیں لکھی ہیں یہ سب دکان سے لا کر دینا۔اور بادام ‘ کشمش ‘ کھجور بھی لانا ۔‘‘
اُس نے پیسے تھما دئیے۔میں نے دکان سے ساری چیزیں لا کر اُس کے سامنے رکھ دیںاور میںگھر جانے لگا۔میں جوں ہی دروازے کی طرف قدم بڑھانے لگا۔تو وہ زون آپا سے کہہ اُٹھا۔
’’کتنی کمزور ہوگئی ہو ۔ذرا اپنا منہ کھولو۔‘‘
اور وہ خشک میوے زون آپا کو کھلانے لگامیں نے مڑ کر دیکھا تو دونوں ٹکٹکی باندھے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ یہ میرے لئے کوئی غیر متوقع بات نہیں تھی کیونکہ اس سے پہلے بھی میں نے کئی دفعہ اُن کوایک دوسرے کو کھلاتے پلاتے دیکھا تھا۔خیر میں چلا آیا۔
اگلے دن میں پھرزون آپا کی خبر لینے چلا گیا۔وہ تکئے سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔
 مجھے اپنے پاس بٹھا کر سرگوشی کرتے ہوئے بولی۔
’’بیٹے اگر مجھے کچھ ہوگیا تو اس کا خیال رکھنا۔‘‘
یہ سنتے ہی شہاب چاچا بولا ۔’’زونہ۔۔۔۔خدا کرے کہ میری ساری عمر تم کو لگ جائے۔‘‘
وہ ہنس کر بولی۔’’اور کب تک ہڈیوں کے اس ڈھانچے سے کھیلنے کا ارادہ ہے‘‘
’’جب تک اولاد نہیں ہوتی۔‘‘
یہ سن کر زون آپا نم دیدہ ہوکر بولی۔’’اپنی اولاد نہیں ہوئی تو کیا ہوا۔مختار ہمارا خیال رکھے گا۔یہ بھی بیٹے کی طرح ہی ہے۔‘‘
’’ہاں ۔۔۔ہاں ۔۔۔ کیوں نہیں۔میں آپ کا خیال رکھوں گا۔‘‘
نہ جانے کیوں مجھے ان سے لگائو تھا ۔میں اکثر اوقات ان کی صحبت میں رہتا۔کچھ عرصہ گزر گیا ۔اب زون آپا بھی تندرست ہوچکی تھی۔ میں حسب معمول اُس دن جب وہاں گیا تو زون آپا کو پریشان دیکھ کر پوچھ بیٹھا ۔
’’کیا بات ہے آپا۔اتنی پریشان کیوں ہو۔‘‘۔
’’بیٹے اُس کو گھر سے نکلے بہت وقت ہوگیا ۔‘‘
’’آپا فکر مت کرو ۔میں دیکھ آتا ہوں۔‘‘
میں شہاب چا چا کی تلاش میں نکلا۔وہ بازار سے واپس آہی رہا تھا کہ میں اُس کی طرف لپکتے ہوئے گیا اور اُس سے کہا ۔
’’زون آپا ۔۔۔۔۔۔۔۔!!! 
وہ عجلت بھرے لہجے میں بولا۔’’کیا ہوا اُس سے ‘‘
’’وہی جو بوڑھوںکو آخر ہوجاتا ہے۔‘‘
یہ سن کرشہاب چاچا دھڑام سے زمین پر گر پڑااور دل کا دورہ پڑنے سے مر گیا۔لوگ ارد گرد جمع ہوگئے میں دوڑتا ہوا گیا ۔زون آپا دروازے پر کھڑی منتظر تھی بولی ۔
اُس کو ساتھ نہیں لائے ہو۔‘‘
میں اُس کے قریب جاکر کپکپاتے ہونٹوں سے بولا۔
’’ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔لایا۔۔۔۔۔۔نا۔‘‘
میں نے پیچھے کی طرف اشارہ کیا۔لوگ شہاب چاچا کی لاش کندھوں پر اُٹھائے لا رہے تھے۔اور میں زون آپا کے قدموں میںگر پڑا۔
٭٭٭
دلنہ بارہمولہ،موبائل نمبر:-9906484847