تازہ ترین

ماحولیاتی تبدیلی نیوکلیائی تباہی سے زیادہ خطر ناک:ماہرین

زرعی یونیوسٹی میں 10روزہ بین الاقوامی آن لائین تربیتی پروگرام اختتام پذیر

تاریخ    1 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


 سرینگر// زرعی یونیورسٹی میں’ آب و ہوا کے خطرے کی تشخیص ‘ کے موضوع پر 10روزہ آن لائین بین الاقوامی تربیتی پروگرام کل اختتام پذیر ہوا جس میں ماہرین نے کہا کہ آب و ہوا میں تبدیلی نیوکلیائی تباہی سے زیادہ خطرناک ہے۔ کلایمنٹ رسک اسسمنٹ منیجمنٹ کا 10روزہ تربتی پروگرام ڈرائی لینڈ ایگریکلچر ریسرچ اسٹیشن (کے ڈی فارم) رنگریٹ نے شیر کشمیر زرعی یونیورسٹی کے اشتراک سے کیا تھا ۔ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (ایجوکیشن) آئی سی اے آر اور نیشنل ڈائریکٹر (این اے ایچ ای پی) پروفیسر آر سی اگروال تقریب میں مہمان خصوصی تھے۔ انہوں نے بین الاقوامی معیار کی تربیت کے انعقاد کے لئے سکاٹ کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے آب و ہوا میں بڑے پیمانے پرجانکاری دیتے ہوئے کہا کہ آب و ہوا میں تبدیلی ایک حقیقت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کے مستقبل کے لئے سب سے بڑا خطرہ ایٹمی ہولوکاسٹ ، تنازعہ یا دہشت گردی نہیں ہے بلکہ عالمی ماحولیاتی تبدیلی ہے۔امریکہ ،میکسیکو ،مصر ،کنیڈا کے مہمان مقررین نے مختلف موضوع کے پہلوؤں پر اپنی آرائیں پیش کرتے ہوئے آب و ہوا کے خطرات کو دور کرنے اور آب و ہوا سے متعلقہ آفات کو کم سے کم کرنے کے طریقوں اور ذرائع تلاش کرنے پر زور دیا۔ڈائریکٹر آئی سی اے آر -سی آر آئی ڈی اے پروفیسر ایم مہیشوری نے نے عبوری فصل منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا اور کسان طبقے کیلئے چھوٹی سطح پر زرعی ایڈوائیزریاں شروع کرنے پر زور دیا ۔بین الاقوامی تربیتی پروگرام کے کورس ڈائریکٹر ڈاکٹر لطیف احمد نے معززین کے سامنے تربیتی رپورٹ اور پالیسی سفارشات پیش کیں۔ تربیتی پروگرام کے شریک کورس ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس شیراز مہدی نے تربیتی پروگرام کے دوران نظامت کے فرایض انجام دئے۔تقریب کے دوران ، ای سرٹیفکیٹ کی تقسیم کے علاوہ ، مدعو ممتاز مقررین کے بارہ ابواب پر مشتمل تربیتی کتابچہ بھی جاری کیا گیا۔اس تربیتی پروگرام کا افتتاح  افتتاح 20 اکتوبر کو کیا گیا تھا جس میںبھارت کی24 ریاستوں اور 7ممالک کے330شرکاء نے شرکت کی جن میں 65 یونیورسٹیوں کی نمائندگی کی گئی ۔