تازہ ترین

ٹھوس فضلہ ٹھکانے لگانے کا کوئی مستقل علاج نہیں | جہلم ، وُلر،ہوکر سراوردُودھ گنگا کے کنارے کوڑے دانوں میں تبدیل

تاریخ    31 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//عدالت عالیہ کی سرزنش کے باوجودبلدیاتی اداروں کے حکام اورپالیسی ساز اس بات میں سنجیدہ نظر نہیں آتے کہ گھروں ،دکانات اورکارخانوں وغیرہ سے نکلنے والے کوڑاکرکٹ اورٹھوس فضلہ کوٹھکانے لگانے کیلئے بستیوں اورآبگاہوں سے دورمخصوص جگہوں پر ڈمپنگ ائریاقائم کئے جائیں ۔سرینگرشہرسمیت کشمیروادی میں روزانہ گھروں اوردیگرمقامات سے ہزاروں ٹن کوڑاکرکٹ اورٹھوس فضلہ نکلتا ہے ،لیکن ابتک بیشتر قصبوں اوردیہات میں کوڑے کرکٹ کودریائوں ،ندی نالوں ،چشموں ،جھیلوں اورتالاب وغیرہ کے کناروں پرڈال دیاجاتاہے ۔میونسپل کارپوریشن کے علاوہ کشمیروادی کے 9اضلاع میں کل 40سے زیادہ میونسپل کونسل اورمیونسل کمیٹیاں قائم ہیں ،جہاں ایگزیکٹو افسر بھی ہیں اورصحت وصفائی کویقینی بنانے کیلئے عملہ بھی ہے ،لیکن متعلقہ افسراورملازم بشمول صفائی کرمچاری مختلف علاقوں سے جمع کئے جانے والے کوڑے کرکٹ کوکسی کھلی جگہ یاپھر دریاکنارے یا ندی وجھیل میں پھینک دیتے ہیں ۔شمالی قصبہ سوپور میں گھروں،دکانات ،دفاتر اورکارخانوں سے نکلنے والے ٹھوس فضلہ کوجھیل ولرکے کنارے پھینک دیاجاتا تھا،لیکن مقامی لوگوں کے اعتراض اورمعاملہ عدالت عالیہ پہنچنے کے بعداب یہ ساراکوڑاکرکٹ بارہمولہ قصبہ میں جٹی کے مقام پردریائے جہلم کے کنارے پہنچاکر یہاں ڈالاجارہاہے ۔جبکہ قصبہ بارہمولہ کے دودرجن سے زیادہ وارڈوں میں واقع بستیوں اورکالونیوں سے جمع ہونے والے کوڑاکرکٹ اوردیگرٹھوس فضلہ کوصفائی کرمچاری خانپورہ کے نزدیک جہلم کے کنارے ڈال دیتے ہیں ۔سرینگر شہر کی آبادی کیلئے پینے کے پانی کااہم وسیلہ سمجھے جانے والے دودھ گنگا نالے کوبھی مختلف مقامات پر گندگی وغلاظت کی نظرکیا جارہا ہے۔جموں وکشمیر میں میونسپل ایکٹ زیرنمبر 16آف1886کے تحت میونسپل اوربلدیاتی اداروں کاقیام عمل میں لایاگیالیکن متعلقہ اداروں کووہ سہولیات ابتک بہم نہیں کہ وہ صحت وصفائی کویقینی بناکرماحولیاتی توازن کوبرقراررکھ سکیں ۔جہلم ،جھیل وُلر،ہوکر سراوردُودھ گنگانالہ کے کنارے کوڑے دانوں میں تبدیل ہوئے ہیں اورلگتا ہے کہ کشمیر میں ٹھوس فضلہ کی وباء کاکوئی مستقل علاج نہیں ہے ۔(جے کے این ایس )