تازہ ترین

کیا بغیر علامات کے بھی کورونا وائرس کی تشخیص ممکن؟

تاریخ    31 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


 لندن//ماہرین صحت اس وقت کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے اسباب کے متعلق تحقیق کر رہے ہیں۔جس میں ایک شخص سے دوسرے کو منتقل ہونے کی کیفیت اور پھیلاؤ کو جانچنے کی وجوہات پر تحقیق جاری ہے اور اس تحقیق کے بعد کورونا پر موثر انداز میں قابو پانا ممکن ہوگا۔برطانیہ میں ڈیلی میل اخبار نے آئرلینڈ میں ہونے والی ریسرچ شائع کی ہے جس کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے 50 فیصد لوگوں کو ایسے اشخاص سے کورونا ہوا تھا جن میں ظاہری علامات کوئی نہیں تھیں۔اس ریسرچ میں 17 کیسوں کو بطور ثبوت پیش کیا گیا ہے جنہیں کورونا وائرس ایسے اشخاص سے ہوا جن میں  بظاہر کوئی علامات نہیں پائی جاتی تھیں۔تحقیق کے مطابق  کورونا سے متاثر ہونے والے 80.33  فیصد مریض ایسے تھے جنہیں ایسے لوگوں سے کورونا ہوا تھا جو خود نہیں جانتے تھے کہ وہ اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں، ان پر بظاہر کوئی علامات بھی نہیں تھیں جیسے مسلسل کھانسی، بخار اور سانس لینے میں مشکلات وغیرہ۔ریسرچ میں واضح کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے حملہ کے بعد علامات کے ظاہر ہونے میں چھ دن تک وقت لگ سکتا ہے۔ان دنوں میں سب سے خطرناک دن  کورونا سے متاثر ہونے کا پہلا یا تیسرا دن ہوتا ہے جو علامات ظاہر ہونے سے پہلے چھ دن ہوتے ہیں۔اس تحقیق کی اہمیت ان کیلیے بڑی واضح ہے جو ایسے شخص کیساتھ رہیں ہوں جس میں کورونا کی تشخیص ہو جائے انہیں ضروری احتیاط کی اشد ضرورت ہوگی۔