تازہ ترین

آثار شریف درگاہ حضرت بل سے انس و محبت

لنگیٹ کی70برس کی خدیجہ اپنے جذبات پر قابو کھو بیٹھی

تاریخ    31 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر//درگاہ حضرت بل میں جمعہ کو عید میلاد النبیؐ کی مناسبت سے بڑی تقریب منعقد ہوئی اور عقیدت مند موئے مقدس آنحضورؐ کے دیدار سے فیضاب ہوئے۔ لوگوں کے ساتھ ساتھ مائور لنگیٹ سے آئی ہوئی ایک بزرگ خاتون خدیجہ کی آنکھیں بھی آبدیدہ ہوئیں۔قریب70برس کی خدیجہ اپنے جذبات پر قابو کھو بیٹھی اور زور زور سے درود حضورؐ کا ورد کرنے لگی۔ خدیجہ قریب ایک سال بعد اپنے  فرزند،بہو اور پوتے کے ہمراہ درگاہ حضرت بل پہنچی تھی،جہاں پر انہوں نے نماز جمعہ کے بعد موئے مقدس کا دیدار کیا۔ عید میلاد کے پیش نظر قریب8ماہ بعد درگاہ حضرت بل میں اس قدر گہما گہمی اور چہل پہل دیکھنے کو ملی ۔18مارچ کو وادی میں کرونا وائرس کا پہلا کیس نمودار ہونے کے بعد پہلی مرتبہ لوگوں کی اس قدر تعداد حضرت بل میں جمع ہوئی اور نماز جمعہ ادا کی۔کرونا وائرس کے نمودار ہونے کے ساتھ ہی وادی میں تمام مذہبی مقامات بشمول درگاہوں، خانقاہوں، بڑی مساجد اور زیارت گاہوں کو قریب6ماہ تک سیل کیا گیا۔ خدیجہ کا کہنا ہے کہ انہیں درگاہ حضرت بل سے اس قدر انس و محبت ہے کہ وہ عید میلاد النبی ؐ پر خود کو روک نہ پائی اور یہاں پر حاضری دی۔ امراض قلب اور ذیباطس کی مریضہ نے بتایا کہ وہ لگاتا ر گزشتہ8ماہ سے درگاہ حضرتبل آنے کی امید اور آس لگائے بیٹھی تھی تاہم پہلے درگاہ کو سیل کرنے اور بعد میں اہل خانہ کی طرف سے وباء بڑھنے کے خدشات کی وجہ سے وہ درگاہ حضرت بل نہیں پہنچ پائی۔خدیجہ کا معمول تھا کہ گزشتہ3دہائیوں سے وہ شب قدر،شب معراج،شب برات اور جمعتہ الوداع پر درگاہ میں حاضری دیتی تھی،تاہم اب کی بار عالمگیر وبا کے نتیجے میں ان مواقعوں پر درگاہ پہنچ نہیں پائی۔ ان کا کہنا تھا’’ مجھے درگاہ  میں نماز ادا کرنے سے سرور آتا ہے اور دل بھی مطمئن رہتا ہے،مجھے اس جگہ سے کافی عقیدت ہے اور میں بار بار یہاں آتی ہوں۔‘‘ خدیجہ کے فرزند غلام رسول کا کہنا ہے کہ قریب100کلو میٹر طے کرکے وہ درگاہ حضرت بل پہنچے۔انہوں نے کہا کہ انکی والدہ گزشتہ کئی ماہ سے بار بار درگاہ جانے کا اصرار کرتی رہی اور انہوں نے کئی مواقعوں پر انہیں سمجھایا کہ انکی صحت ٹھیک نہیں ہے،تاہم اب کی بار وہ کسی بھی صورت میں ماننے کیلئے تیار نہیں تھی۔ خدیجہ اور اس کے اہل و عیال نے کھانے پینے کی اشیاء بھی گھر سے ساتھ لائی تھی اور نماز کے بعد جھیل ڈل کے کنارے پر اس کا تناول کیا۔ خدیجہ اور اس کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ جمعہ کو عید میلاد النبی ؐ کے موقعہ پر  لوگ کافی عرصے کے بعد دور دروز علاقوں سے نماز جمعہ کی ادائیگی اور موئے مقدس سے فیضیاب ہونے کیلئے درگاہ پہنچے تھے۔ان لوگوں کی آنکھوں میں صاف نظر آرہا تھا کہ انہیں اس جگہ سے کس قدر محبت ہے اور کرونا وائرس کی وجہ سے درگاہ حضرت بل سے دور رہنے میں انہیں کس قدر روحانی تکالیف سے گزرنا پڑا۔