ڈاکٹر فاروق کو درگاہ جانے سے روکا گیا

محبوبہ مفتی اور سجاد لون کی مذمت

تاریخ    31 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر //جموں و کشمیر انتظامیہ نے نیشنل کانفرنس  صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو جمعہ کے روز عید میلاد النبی کے موقع پر درگاہ حضرت بل جانے سے روک دیا ۔نیشنل کانفرنس نے اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر ایک ٹویٹ میں کہا’’ جموں و کشمیر انتظامیہ نے  ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ کو بند کیا اور انہیں نماز پڑھنے کیلئے درگاہ حضرت بل جانے سے روک دیا‘‘۔ نیشنل کانفرنس نے اس کارروائی کو عبادت کے بنیادی حق، خاص طور پر عید میلاد النبیؐ  کے متبرک موقع پر،  خلاف ورزی  قرار دیا ہے اور اسکی مذمت کی ہے۔پارٹی ترجمان عمران نبی ڈار نے کہا کہ ایسی شرمناک حرکات سے صرف جموں و کشمیر انتظامیہ اور اس کے آقاؤں کی بدنامی ہوجاتی ہے‘‘۔اس دوران پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو حضرت بل جانے سے روکنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے  مذہبی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا’عید میلاد النبیؐ کے موقع پر فاروق عبداللہ کو حضرت بل جانے سے روکنے سے حکومت ہند کا جموں و کشمیر کے تئیں سخت اپروچ روا رکھنے کا عزم واضح ہوجاتا ہے، یہ ہمارے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور قابل مذمت ہے‘۔ عوامی اتحادکے ترجمان اور پیپلز کانفرنس صدر سجاد غنی لون نے اپنے ایک بیان میں انتظامیہ کی اس حرکت کو مداخلت فی الدین قرار دیتے ہوئے کہا ’ہم اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں‘۔انہوں نے کہا’ڈاکٹرفاروق عبداللہ صاحب کو عید میلاد النبیؐ کی مناسبت سے حضرت بل ایک مذہبی اجتماع میں شرکت کرنے کے لئے جانا تھا لیکن انہیں گھر سے باہر نہیں جانے دیا گیا‘۔ادھرپارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے انتظامیہ کے اس اقدام کو غیر قانونی اور بلا جواز قرار دیا اور کہا کہ مذہبی فرائض ادا کرنے سے روکنا مذہبی آزادی سلب کرنے کی ایک بدترین مثال ہے۔ 

تازہ ترین