۔7سال قبل700کروڑ لاگت کی بجلی سکیم ناکام، کمپنی کام ادھورا چھوڑ کر رفو چکر

آر-اے پی ڈی آر پی سکیم کا نام و نشان کہیں نہیں، سمارٹ میٹر نصب کرنے میں جلدی، ٹینڈرنگ کا عمل پھر سے شروع

تاریخ    31 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر //یو ٹی حکومت نے سرینگر اور جموں شہروں میں سمارٹ میٹر نصب کرنے کیلئے کمر کس لی ہے ،تاہم 7سو کروڑ  لاگت سے منظور ہوئی بجلی کی آر- اے پی ڈی آر پی (R-APDRP)سکیم کا کام ٹھپ پڑا ہے اور سکیم کے تحت کام کرنے والی بیرونی کمپنی بھی رفو چکر ہوگئی ہے ۔اس سکیم کے مکمل ہونے کے بعد ہی  سمارٹ میٹر نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن سکیم کا کہیں نام و نشان نہیں، البتہ سمارٹ میٹر نصب کرنے کی تاریخ مقرر کی گئی۔ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ آر اے پی ڈی آر پی سکیم کے مکمل ہونے کے بعد ہی ہر گھر میں میٹر نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، لیکن یہاں پر سب الٹا ہو رہا ہے کیونکہ کشمیر کے صارفین کو 24گھنٹے بجلی فراہم کرنے کی غرض سے آج تک وادی میں تین بار بجلی میٹر نصب کئے جا چکے ہیں ، لیکن ہر بار اسے محکمہ نے خود ہی ناقص منصوبہ بندی سے تعبیر کیا۔ پہلے گرڈسٹیشنوں ، رسیونگ سٹیشنوں اور بجلی ٹرانسفارمروں کی صلاحیت بڑھانے کے بارے میں ٹھوس منصوبہ بندی کرنی چاہیے تھی تاکہ صارفین تک بجلی پہنچانے میں جو بھی رکاوٹیں ہوں وہ دور کی جاسکیں، لیکن ریاستی حکومت نے الٹی سمت کا تعین کیا،اور پہلے سمارٹ میٹر ہی نصب کرنے کا ٹارگٹ مقرر کیا، چاہیے بجلی مہیا ہو یا نہیں۔محکمہ کے اندرونی ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پہلے پاور پروجیکٹوں سے گرڈ سٹیشنوں تک بجلی پہنچانی تھی، اْس کے بعد گرڈسٹیشنوں سے رسیونگ سٹیشنوں تک، وہاں سے ٹرانسفارمروںتک اور اسکے بعد ہی لوگوں کے گھروں تک بجلی پہنچ سکتی تھی۔ابھی تک نہ رسیونگ سٹیشنوں کی صلاحتیں بڑھائی گئیں، نہ گرڈ سٹیشنوں کی اور نہ ہی بجلی تقسیم کرنے کیلئے درکار ٹرانسفارمروں کی،الٹا سمارٹ میٹر نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شہریوں کے علاوہ قصبوں میں ترسیلی لائنیں ابھی بھی عارضی کھمبوں کے ساتھ بندھی ہوئی ہیں جبکہ ہزاروں گھرانے ایسے ہیں جہاں میٹر ہی نصب نہیں ہو سکے ہیں ۔محکمہ بجلی کے حکام نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس سکیم میں تاخیر ہوئی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ آر اے پی ڈی آر پی سکیم کے تحت پھر سے ٹینڈرنگ کا عمل شروع کیا گیا ہے اور جیسے ہی حکام کی طرف سے منظوری ملے گی یہ کام پھر سے شروع کیا جائیگا۔’بجلی کی ترقی و اصلاح کیلئے نو تشکیل شدہ سریع الرفتار پروگرام‘ کے بارے میںمحکمہ بجلی کا کہنا ہے کہ سکیم کو پھر سے شروع کرنے کیلئے ٹینڈرنگ کا عمل مکمل کیا گیا ہے۔تاہم محکمہ کے جانکار حلقوںکا کہنا ہے کہ جب کشمیر میں سکیموں کے کام ہی مکمل نہیں ہیں، تو ایسی صورتحال میں سمارٹ میٹروں کو نصب کرنے کا کیا جواز ہے؟ ۔بجلی کی ترسیل وتقسیم نظام میں معقولیت لانے اور بنیادی ڈھانچے کو استوار کرنے کیلئے سال2014میں 7سو کروڑ روپے کی لاگت سے شروع کی گئی آر اے پی ڈی آر پی سکیم کے تحت جموں وکشمیر اور لداخ کے 30قصبوںمیں بجلی کی سپلائی کو بہتر بنانے کیلئے ترسیلی نظام کو مکمل طور پر بدل کر ہر تین گھروں کیلئے ایک بجلی ٹرانسفامر نصب کرنا تھا اور ساتھ میں بجلی کے پورے ترسیلی نظام کو ہی بدلنا تھا۔
اس سکیم کیلئے ٹینڈر ایک کمپنی کو الاٹ کئے گئے، جس کے لئے اسے ڈیڈ لائن بھی دی گئی۔تاہم کچھ ایک جگہوں پر فیز ون کا کام ہونے کے بعد کمپنی یہ کام ادھورا چھوڑ کر رفو چکر ہو گئی اور سکیم کا کام مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا ۔کشمیر وادی میں آج بھی معمولی ہوا چلنے سے بجلی غائب ہو جاتی ہے  اور سرما میں بھی یہاں بجلی کا نام نشان نہیں کیونکہ یہاں بجلی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے سکیمیں ہی مکمل نہیں ہو پاتی ہیں ۔معلوم رہے کہ سرکار نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ سال2019میں ہر گھر کو بلا خلل بجلی فراہم ہو گی لیکن جس طرح شہر ویہات کا بجلی نظام موجود ہے، اْس سے یہ صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ محکمہ اس حدف کو پورا کرنے میں ابھی بھی کئی سال لگ سکتے ہیں۔ 
 

جموں کشمیر اور لداخ کے 30قصبوں کا پروجیکٹ

رقوم منظور بھی ہوئیں لیکن خرچ کہیں نہیں کی گئیں

اشفاق سعید
 
سرینگر // 2016-17میں اس سکیم کے تحت بجلی شعبہ کو مزید بہتر بنانے کیلئے 30قصبوں کیلئے سرکار نے  1817.26کروڑ کی رقم منظور کی اور یہ رقوم وادی کے 19اور جموںکے 11قصوں کیلئے منظور ہوئے ۔ سرینگر ضلع میں دریائے جہلم کے بائیں طرف آنے والے قصبوں میں 340.89کروڑ کا پروجیکٹ منظور ہوا اور معاہدے کے حوالے سے لاگت353.99 کروڑطے ہوئی ۔سرینگر میں جہلم کے بائیں طرف آنے والے قصبوں ترال اور گاندبل کیلئے 372.33کروڑ کی رقم منظور ہوئی جبکہ معاہدے کے حوالے سے لاگت355.51طے ہوئی ۔اسی طرح  جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ، بجبہاڑہ ، ڈورہ ، ویری ناگ کولگام ،شوپیاںاورپلوامہ اضلاع کیلئے 57.51کروڑ کی رقم منظور ہوئی جبکہ معاہدے کے حوالے سے لاگت کا ایک بھی پیسہ وہاں خرچ نہیںہواہے ۔شمالی کشمیر کے بارہمولہ ، سوپور ، پٹن ،ہندوارہ ، کپوارہ ،بانڈی پورہ، سوپوراورسمبل قصبوں کیلئے 101.63کروڑ کی رقم منظور ہوئی تاہم وہاں بھی یہ رقم خرچ نہیں ہوئی۔ لداخ کے لہیہ اور کرگل اضلاع کے قصبہ جات کیلئے منظور کی گئی رقم 17.20کروڑ ہے اور اس علاقے میں بھی کسی قسم کا کوئی کام شروع نہیں ہو سکا ہے ۔ جموں کے توی نالے کے بائیں طرف آنے والے قصبوں کیلئے منظور ہوئے پروجیکٹ کا کل تخمینہ  260.47کروڑ روپے ہے ۔ جموں توی نالہ کے دائیں طرف کے علاقوں میں آنے والے قصبوں کیلئے 349.85کروڑ روپے کا پروجیکٹ تیار ہوا ۔ پونچھ ،راجوری ، اکھنور ، ڈوڈہ ،بھدرواہ  اورکشتواڑ کیلئے 79.59کروڑ کا پروجیکٹ منظور ہوا  ۔ کٹھوعہ ، سانبہ ، آرایس پورہ کے قصبوں کیلئے 85.73کروڑ کا پروجیکٹ منظور ہوا ہے ۔
 

تازہ ترین